تازہ ترین : 1
Mazoor Arad Or Hamara Rawaiyaa

معذور افراد اور ہمارا روّیہ

ہم انہیں بُوجھ کیوں سمجھتے ہیں؟۔۔۔۔ اقوام متحدہ پذیر کے ادارہ برائے تعلیم(یونیسکو) کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں معذوری کے حامل 90 فیصد بچے سکول جانے سے محروم رہ جاتے ہیں ایسے بچے مجبوراََ گداگری کرتے ہیں یا معاشرے پر بوجھ سے زیادہ نہیں ہوتے

اللہ دتہ انجم:
معذوری دو طرح کی ہوتی ہے ایک پیدائشی معذوری جس میں انسان بے بس اور قدرتی طور پر معذور پیدا ہوتا ہے اور دوسری معذوری میں انسان کسی بیماری ، حادثے ،جنگ یا بم دھماکے وغیرہ کا شکار ہو کر معذور ہو تا ہے۔دنیا میں 15 فیصد معذور افراد پر مشتمل ہونے کے باوجود انہیں مساوی حقوق اور ترقی کے مواقع میسر نہیں ہیں۔ایک خاندان بھی معذور بچہ پیدا ہونے پر پریشان ہو جاتا ہے اور خصوصاََ پیدا ہونے والی بچی ہو تو صورتحال مزید دردناک ہوجاتی ہیں۔
ایک فرد معذور ہوتو پورا گھرانہ معذورنظر آتا ہے کیوں کہ انہیں معذور کے روزوشب میں شامل ہونا پڑتا ہے۔
اقوام متحدہ پذیر کے ادارہ برائے تعلیم(یونیسکو) کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں معذوری کے حامل 90 فیصد بچے سکول جانے سے محروم رہ جاتے ہیں ایسے بچے مجبوراََ گداگری کرتے ہیں یا معاشرے پر بوجھ سے زیادہ نہیں ہوتے۔دنیا کے مختلف خِطوں میں بدامنی کی بنا پر معذور افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
جس کا اندازہ عالمی ادارہ برائے صحت کے اعدادوشمار سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ صرف 3 سالوں میں عامی سطح پر معذور افرا کی شرح 10 سے 15 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ معذور افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہونا انتہائی افسوس ناک ہے۔ عالمی ادارہ محنت کے مطابق دنیا کے کی لیبرفورس کے 38کروڑ60 لاکھ افراد کسی نہ کسی طرح معذوری کا شکار ہیں۔ ایسے افراد اپنی معذوری کے باعث زندگی کی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ روزگار کو بھی اپنائے ہوئے ہیں جس کے باعث وہ معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے اپنا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔

یونیسف کے مطابق عالمی سطح پر 30 فیصد سٹریٹ چلڈرن مختلف قسم کی معذوری کا شکار ہیں یہ بچے زیادہ تر ایسے عناصر کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں پوری زندگی بھیک منگوانے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ ورلڈ بنک کے اعداوشمار کے مطابق دنیا کی غریب آبادی میں زیادہ ترمعذور بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے ملک میں معذور افراد کی حالت کچھ اچھی نہیں ہے ملک کے دیہی علاقوں میں 86 فیصد افراد بے روزگار ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ دیہات میں رہنے والے 70 فیصد معذور افراد اپنے خاندان پر انحصار کرتے ہیں اور دوسری جانب دیہی علاقوں کے معذور افراد تعلیمی میدان میں بھی بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پیدائشی طور پر جسمانی معذوری سے گھر والے شرمندگی اور خوف کا شکار رہتے ہیں ابتدائی کئی سال تو معذور بچے کو گھر کی چار دیواری سے باہر نکالنا بھی بوجھ سمجھا جاتا ہے۔
معذور بچہ یا بچی پڑھ لک بھی جائے تو اسے ملازمت ملنا انتہائی مشکل ہے۔ ایسے بچے معاشرتی تضاد کے باعث اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں ایسے بچے غیر تو غیر ورثا کی بھی بے حسی کا شکارہو جاتے ہیں معاشرہ بھی ایسے افراد کوان کی معذوری کے حوالے سے چھڑنے کو مشغلہ بنادیتا ہے جیسے ایک آنکھ والے کا بھینگا ، لنگڑا کی چلنے والے کو لنگڑا ، چھوٹے قد والے کو بونا، تو تلا کر بولنے والے کو تلا، للویا بگول جیسے ناموں سے پکارتے ہیں۔
یہ لفظ معذور شخص کیلئے کسی گالی سے کم نہیں ہوتے مگر پھر بھی غیر مہذب رویہ کے باوجود معذور افراد بڑی ہمت وبرداشت سے زندگی گزرانے ہیں ۔
دنیا کے 80 فیصد افراد کیلئے ترقی پذیر اور غریب ممالک سے ہے ۔ معذور افراد کیلئے جہاں بے شمار مسائل ہیں وہاں سب سے بڑا مسئلہ ان کے روز گار کا ہوتا ہے تاہم یہ بے روزگار افراد ہمت ہارنے کی بجائے اپنے آپ کو مختلف شعبوں میں مصروف رکھتے ہیں جس سے ایک طرف ان کے معاشی مسائل حل ہو رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف یہ اپنے آپ کو معاشرے پر بوجھ بنے سے بچالیتے ہیں مکمل آگاہی نہ ہونے کی بنا پر ان بچوں پر مناسب توجہ اور راہنمائی نہ ہونے کے سبب یہ دوسرے بچوں کے ساتھ گھل مل نہیں پاتے پاکستانی معاشرے کا مجموعی رویہ اس حوالے سے مایوس کن ہے۔
ملینیم ڈوپلمنٹ گولز کا ہدف پورا کرنے کیلئے خصوصی بچوں پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے کیوں کہ ان پر توجہ دیئے بغیر ہم یہ ہدف کسی بھی صورت میں حاصل نہیں کر سکیں گے۔
وقت اشاعت : 2015-10-29

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں