تازہ ترین : 1
Lahore High Court K Darwaze Per Hamla Khatoon ka Larza Kheez Qatal

لاہورہائیکورٹ کے دروازے پر حاملہ خاتون کا لرزہ خیز قتل

ابتدائی تفتیش کے بعد سے فرزانہ پروین کا قتل اب دو خاندانوں کے درمیان شٹل کاک بن چکا ہے۔ فرزانہ پروین کے ”خاوند“ اور مقدمہ قتل کے مدعی، محمد اقبال،کے مطابق فرزانہ کا قتل اس کے والد اور بھائیوں نے کیا ہے

فرزانہ چودھری:
جس معاشرے میں انسانیت کا احترام باقی نہ رہے وہاں سے خدا کی رحمت اْٹھ جاتی ہے۔ ایسے معاشرے اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے اور تاریخ انہیں روندتی ہوئی آگے نکل جاتی ہے۔ انسان ہمیشہ سے اشرف المخلوقات ہونے کا دعویدار ہے لیکن موجودہ انسان شرفِ انسانیت سے محروم ہو کر مقامِ آدمیت سے کہیں نیچے گر چکا ہے۔ ہمارا معاشرہ نام کی حد تک اسلامی ہے لیکن ہمارے رسم و رواج اس تاریک دور کی نمائندگی کرتے ہیں جب بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔
اس قبیح رسم کی مذمت اللہ کریم نے یوں فرمائی کہ روزِ جزا پروردگارِ عالم اپنی بیٹی کو زندہ دفن کر دینے والے شخص کا چہرہ بھی دیکھنا پسند نہیں فرمائے گا اور اس کی بجائے اس کی مظلوم بیٹی سے دریافت فرمائے گا کہ اْسے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا تھا۔ ہمارے معاشرے میں مرد کو بالا دستی حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں عورت کو ایک بے زبان جانور یا مالِ منقولہ سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔
اسلام اور ھادیِ برحقﷺنے عورت کو جو مقام و مرتبہ اور حقوق عطا فرمائے ہیں ہم انہیں یکسر فراموش کر چکے ہیں اور اس کے باوجود آپﷺ کے امتی ہونے کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں۔ وطنِ عزیز میں حوا کی بیٹی کو آج بھی بھیڑ بکری سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور اس کے ساتھ سراسر غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ کہیں اسے غیرت کے نام پر انتہا درجے کی بربربیت کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا جاتا ہے اور کہیں اجتماعی بے حرمتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
عورت کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کئی ایک قوانین تو بنائے گئے مگر بدقسمتی سے قانوں شکن آج بھی دندناتے پھرتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے انسانیت کی علم بردار سیاستدان خواتین کے تحفظ کا بل منظور کرانے کے باوجود آج بھی انہیں تحفظ فراہم کرنے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ کے سامنے دن دیہاڑے ضلع ننکانہ کے گاؤں سید والا کی رہائشی فرزانہ پروین کے قتل کا دلدوز واقعہ پیش آیا۔
جس کی گونج بیرونِ ملک بھی سنی گئی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے بعد سے فرزانہ پروین کا قتل اب دو خاندانوں کے درمیان شٹل کاک بن چکا ہے۔ فرزانہ پروین کے ”خاوند“ اور مقدمہ قتل کے مدعی، محمد اقبال،کے مطابق فرزانہ کا قتل اس کے والد اور بھائیوں نے کیا ہے جب کہ فرزانہ پروین کی بہن خالدہ کا کہنا ہے کہ فرزانہ کو اس کے ”آشنا“محمد اقبال اور اس کے ساتھیوں نے اینٹیں مار کر ہلاک کیا ہے اور یہ شخص فرزانہ کا شوہر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر رہاہے۔
خالدہ بی بی نے اپنے وکیل منصور الرحمان خان آفریدی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں بتایا، ”میری بہن فرزانہ مظہر اقبال کے ساتھ پہلے سے شادی شدہ تھی۔ اقبال جو اپنی پہلی بیوی عائشہ( جو اس کی چچا زاد تھی) کے قتل کیس میں اشتہاری تھا اور اس کا مظہر اقبال کے گھر آنا جانا تھا ، وہ اکثر مظہر اقبال کی غیر موجودگی میں بھی اس کے گھر آتا جاتاتھا۔
اقبال نے فرزانہ کو ورغلا کر اپنے دیگر ساتھیوں کی مدد سے اغوا کر لیا تھا۔ اسی دوران اس نے فرزانہ کو غیر شادی شدہ ظاہر کر کے ایک جعلی نکاح نامہ تیار کیا۔ حالانکہ فرزانہ کی شادی اپنے پھوپھی زاد مظہر اقبال سے 2012 میں ہو چکی تھی۔ اقبال وغیرہ کے خلاف اسی وقوعہ کی کی رو سے زیر دفعہ 496A ت پ کے تحت 10 جنوری کو مقدمہ درج کروایا گیا بعدازاں جعلی نکاح نامہ کی بابت 494 ت پ کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
اس دوران اقبال نے فرزانہ سے زبردستی تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کروایا جو بعد میں اس نے واپس بھی لے لیا کیونکہ وہ اب اقبال کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ وقوعہ کے روز اقبال فرزانہ کو پہلے شوہر مظہر اقبال کی طرف سے دائر جعلی نکاح کے مقدمے کی سماعت میں اپنے حق میں بیان دلوانے کے لئے ہائی کورٹ لے کر آیا تھا۔ خالدہ کا کہنا ہے کہ اقبال نے نکاح پر نکاح سے بچنے کے لئے میری بہن کو قتل کیا ہے۔
میں نے گزشتہ ماہ دارالامان میں اپنی بہن فرزانہ کے ساتھ 13 دن گزارے تھے۔ فرزانہ کے مطابق اسے ڈرتھا کہ اقبال اپنی پہلی بیوی عائشہ کی طرح اسے بھی قتل کر دے گا۔ خالدہ نے مزید بتایا، ”جس روز یہ وقوعہ ہوا میں موقع پر موجود تھی۔ فرزانہ وکیل کے چیمبر سے باہر نکلی اور جونہی اس نے سڑک کے دوسری جانب ہمیں دیکھا تو وہ ہماری طرف بھاگی جس پر اقبال اور اس کے ساتھیوں نے اس کا تعاقب کیا اور اسے اینٹیں مار مار کر ہلاک کر دیا۔
میں وزیراعظم، وزیراعلی پنجاب اور چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ سے اپیل کرتی ہوں کہ اصل حقائق اور ٹھوس شواہد کو مدنظر رکھ کر معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں۔“ اس کے برعکس پولیس اور اقبال کا کہنا ہے کہ فرزانہ کو اس کے والد عظیم اور بھائیوں نے پسند کی شادی کرنے پر اینٹوں کے وار کرکے قتل کیا ہے۔ فرزانہ کے والد عظیم کو پولیس نے گرفتار کرکے 7 دن کا جسمانی ریمانڈ لے لیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ فرزانہ پروین کے وارثان کی اس جنگ میں کیا اس کے اصل قاتلوں کو سزا مل سکے گی؟ کیا اقبال، جس کو پہلی بیوی کا قاتل اور اشتہاری کہا جا رہا ہے، اپنی دوسری بیوی فرزانہ پروین کا بھی قاتل ثابت ہو سکے گا یا پھر فرزانہ کے اہل خانہ نے اسے پسند کی شادی کرنے پر قتل کیا ہے؟
ذرائع کے مطابق فرزانہ پروین نے تنسیخ نکاح کا مقدمہ پاک پتن کی عدالت میں دائر کر رکھا تھا۔
جس کی اگلی پیشی 24 مارچ 2014 ء کو تھی۔ اس دوران وہ دارلامان میں رہنے لگی۔ فرزانہ کی طلاق بھی ابھی موثر نہیں ہوئی تھی۔ پولیس نے جن لوگوں کو اس کیس میں حراست میں لیا ہے وہ نامزد ملزم نہیں ہیں۔ اقبال پر پہلی بیوی کے قتل کے علاوہ ناجائز اسلحہ رکھنے کے مقدمات درج ہوئے تھے مگرپولیس کی ملی بھگت سے اس کیس کو بھی رفع دفع کردیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر فرزانہ کے قتل میں شریک ملزمان کی تعداد دو درجن سے زائد ہے اور ان کی گرفتاری کیلئے لاہور پولیس سیدو والا میں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔
لیکن ملزمان پولیس کے آپریشن کرنے سے قبل ہی رو پوش ہو چکے ہیں۔ اب تک پولیس نے 4 افراد کو گرفتار کیا ہے تاہم ایف آئی آر میں نامزد ابھی کوئی ملزم گرفتار نہیں ہو سکا۔ فرزانہ پروین کے قتل کے پسِ پردہ واقعات ہنوز ایک معمہ بنے ہوئے ہیں لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے اور ہمارے نظامِ انصاف میں پائی جانے والی خامیوں کہ وجہ سے ایسے واقعات کے ملزمان بچ نکلتے ہیں اور یوں اس طرح کے مقدمات عالمی سطح پر ملک و قوم کیلئے رسوائی کا موجب بنتے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اندوہناک واقعہ کو ٹیسٹ کیس سمجھتے ہوئے اصل قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔
وقت اشاعت : 2014-06-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں