بند کریں
منگل مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خون ناحق انصاف کا طالب!
مصطفی کانجو،شاہ رخ جتوئی،عبدالقادر گیلانی، اسلم مڈھیانہ یا ان جیسے دوسرے بااثر افراد کے مظالم کے میڈیاپر آنے والے واقعات آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ با اثر طبقہ کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر متعدد لوگ مظالم کا شکار ہوتے ہیں
صابر بخاری:
وطن عزیز پاکستان میں ایک طرف ریاست کے قوانین ہیں تو دوسری اس ملک کے جاگیردار، سردار اور دوسرا با اثر طبقہ ہے جنہوں نے ملکی قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے قوانین بنا رکھے ہیں جن کے سامنے ریاست کے قوانین کچھ اہمیت نہیں رکھتے۔مصطفی کانجو،شاہ رخ جتوئی،عبدالقادر گیلانی، اسلم مڈھیانہ یا ان جیسے دوسرے بااثر افراد کے مظالم کے میڈیاپر آنے والے واقعات آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ با اثر طبقہ کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر متعدد لوگ مظالم کا شکار ہوتے ہیں مگر کسی کی مجال نہیں ہوتی کہ وہ ان کیخلاف کھڑے ہو سکیں۔ ضلع لودھراں سے تعلق رکھنے والامصطفیٰ کانجو سابق مرحوم وزیر مملکت برائے خارجہ صدیق کانجو کا بیٹا ہے۔ جاگیردار فیملی سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اس کے ناز ونخرے بھی نرالے تھے۔ خود کو دوسروں سے منفرد اور ممتاز سمجھنے والے با اثر لوگوں سے چھوٹی سے بات بھی گوارا نہیں ہوتی کیونکہ ان کی ضد اور گھمنڈ بام عروج پر ہوتا ہے۔
جاگیردار اپنی اولاد کی پرورش بھی اس طرح کرتے ہیں کہ وہ دوسروں سے منفرد ہیں۔ وہ تربیت دیتے ہیں کہ باقی لوگ کمی کمین ہیں آپ ہی اس ملک کے وارث ہوا اور قانون آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ذرائع کے مطابق مصطفیٰ کانجو اپنی گرل فرینڈ(م) کیساتھ ایک پارٹی سے واپس آرہا تھا اور نشے میں دھت تھا۔جیسے ہی وہ کیولری گراؤنڈ کے نزدیک پہنچے تو ایک خاتون ڈرائیور سے گاڑی کی ٹکر ہو گئی جس کا ملزم کو اتنا رنج ہوا کہ اس نے اپنی چودھراہٹ قائم کرتے ہوئے اور گرل فرینڈ کے سامنے ہیرو بنتے ہوئے کلاشنکوف سے فائرنگ شروع کر دی جس کی زد میں آکر نویں جماعت کا طالبعلم پندرہ سالہ زین جاں بحق جبکہ اس کا دوست سولہ سالہ حسنین شدید زخمی ہو گیا جس کو سروسز ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے جہاں اس کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب گاڑی سے ٹکر ہوئی تو مصطفی کانجو کی گرل فرینڈ (م) کی خاتون ڈرائیور سے تکرار بھی ہوئی۔ (م) کے سامنے اپنی دھاک بٹھانے کے لئے مصطفیٰ کانجو نے فائرنگ شروع کر دی جس کی زد میں آکرماں باپ کا لخت جگر ابدی نیند سو گیا اور دوسرا ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔پولیس نے مصطفیٰ کانجو کے سات گارڈ اور دو رشتہ داروں کو گرفتار کر لیا جس کے بعد ملزم کو بھی پولیس نے خوشاب سے گرفتار کر کر کے لاہور منتقل کر دیا۔
مصطفی کانجو نے تفتیش میں فائرنگ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑی کی ٹکر سے وہ سیخ پا ہو گیا اور فائرنگ شروع کردی۔اس کا کہنا ہے کہ وہ نشے کی حالت میں نہیں تھا۔ملزم نے واقعہ میں جس کلاشنکوف کا استعمال کیا وہ بھی غیر قانونی ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زین کی موت گلے پر گولی لگنے اور زیادہ خون بہہ جانے سے ہوئی۔ذرائع کے مطابق مصطفیٰ کانجو کی سپورٹ اس کا بھائی ایم این اے عبدالرحمان کانجو کرتا ہے۔
اپنے آبائی گاوں علی پور کانجوں میں بھی ان بااثر جاگیرداروں نے لوگوں کا جینا دو بھر کر رکھا ہے۔دوسری طرف زین کی بیوہ والدہ اور اس کی دو بہنیں اپنے لخت جگر اور اکلوتے بھائی کی جدائی پر نوحہ کناں اور انصاف کی متمنی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ زین دوست کے گھر کیک دینے گیا تھا کہ اس کی ناحق موت واقع ہو گئی۔وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی واقعہ کا نوٹس لے رکھا ہے۔
میڈیا میں آنے کی وجہ سے شاید زین کے اہلخانہ کو انصاف مل جائے! مگر جو با اثر افراد خاص طور پر دیہی علاقوں میں اپنی چودھراہٹ قائم کئے ہوئے ہیں۔عام لوگوں کو کمی کمین سمجھتے ہوئے نشان عبرت بنا رہے ہیں۔ قانون بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور نہ ایسے واقعات میڈیا پر نظر آتے ہیں۔ ریاست امیر، غریب کا فرق ختم کرتے ہوئے قانون کی عملدراری کو یقینی بنائے کیونکہ اسی میں اس ملک کی بقاء ہے۔
ایس ایس پی محمد علی نیکو کارا و ملازمت سے برطرف کیے جانے پر پولیس افسران میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق اس حوالے سے صورتحال کا جائز ہ لینے کیلئے پاکستان پولیس سروس ایسوسی ایشن کا اجلاس آئی جی پنجاب آفس لاہور میں منعقد ہوا جس میں قرار داد منظور کی گئی کہ تمام افسران اس کیس میں مداخلت کریں تا کہ محمد علی نیکوکارا کو انصاف مل سکے اور آئندہ کیلئے ضابطہ انکوائری بھی بنائی گئی ہے کہ اس طرح کی انکوائری کیلئے کم سے کم تین افسران کا بورڈ انکوائری کرے گا اور آئی جی بلوچستان کو پنجاب میں آئی جی تعینات نہ کیا جائے، کیا گیا تو پولیس افسران سے ان کے انڈر کام نہیں کریں گے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پاکستان پولیس سروس ایسوسی ایشن کا کوئی وجود نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی اجلاس منعقد ہوا ہے۔ آنے والے دنوں میں پولیس افسران اور حکومت کے درمیان معاملات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اس کیلئے کچھ دن انتظار کرنا پڑے گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-09

(0) ووٹ وصول ہوئے