تازہ ترین : 1
Kamyab Riastoon Ki Darja Bandi

کامیاب ریاستوں کی درجہ بندی

پاکستان کہاں کھڑا ہے ؟ امریکہ کے ” کرائسس اسٹیٹ ریسرچ سنٹر “ نے کسی بھی ریاست کی ناکامی کی وجہ سے خاتمے کا جو معیار مقر ر کیا ہے اس میں خطرے کے 12نشانا ت رکھے ہیں

ہارون مصطفی جنجوعہ :
عالمی برادری کسی بھی ریاست سے تعلقات استوار کرتے وقت اُسے کامیابی ناکامی کے معیار پر ضرور پرکھتی ہے۔ اُسی پیمانے پر جانچنے کے بعد اُس سے کاروباری نوعیت کے معاملات طے کیے جاتے ہیں۔ کامیابی اور ناکامی کو جانچنے کے لئے کچھ اصو ل وضع کیے گئے ہیں۔ انہی اصولوں کے مطابق اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کوئی ملک کس قدر ناکام ریاست میں تبدیل ہو چکا ہے یا کوئی ملک کس رفتار سے ترقی کر رہا ہے۔
یہ اصول تمام ممالک کے لئے یکساں ہیں۔ بد قسمتی سے ان میں ناکام ریاست کے لئے جو پیمانہ رکھا گیا ہے ہم اس پرکافی حد تک پورا اترتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی خامیوں کو دور کرتے ہوئے ملکی ترقی میں اہم کردارادا کیاجائے۔
دنا بھی میں کسی بھی ریاست کی ناکامی کا اندازہ ایک مخصوص معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے لگایا جاتا ہے ۔ یہ معیار عالمی سطح پر ماہرین کی زیر نگرانی قائم کیا گیا ہے جس میں کسی بھی ملک کی ناکامی کا اندازہ اُس پوائنٹس کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے ۔
اس معیار یا پیمانے میں سب سے نچلی سطح پر نظر آنے والے ملک کو کامیاب ترین ملک کا درجہ دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح باقی ممالک کی صورت حال، کامیابی یا ناکامی،کی درجہ بندی ہوتی ہے ۔ امریکہ کے ” کرائسس اسٹیٹ ریسرچ سنٹر “ نے کسی بھی ریاست کی ناکامی کی وجہ سے خاتمے کا جو معیار مقر ر کیا ہے اس میں خطرے کے 12نشانا ت رکھے ہیں ۔ ان میں دو کا تعلق اقتصادی صورت حال سے ہے جبکہ چار سماجی اور چھ سیاسی معاملات سے متعلق ہیں۔
یہ درجہ بندی مختلف فہرستوں پر مشتمل ہے۔ سماجی فہرست میں خوراک کی کمی یا دوسرے علاقوں سے نقل مکانی کرکے آنے والوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ وسائل سے زیادہ آبادی کا بڑھ جانا شامل ہے۔ اسی طرح بے گھر لوگوں کی تعداد میں اضافہ کو بھی ریاست کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح تشدد کے زمرے میں نا انصافی اور ریاستی جبر کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ گروہوں کی موجودگی اورکسی بھی بنیاد پر انتقام لینے کی خواہش رکھنے والے گرہوں کا ہونا ریاست کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کہنا ہے کہ کسی بھی ریاست میں حکومت یا کسی بھی گروہ کی جانب سے انتقامی کار روائیاں اُس ریاست کی تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ اسی طرح پیشہ وارنہ صلاحیتوں کے حامل افراد، دانشوروں اور مختلف شعبوں کے ماہرین کا ہجرت کر جانا بھی ریاست کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ یادرہے اس میں سیاسی مخالفین کے ڈر سے جلا وطن کرنے والے یا روزگار کے مواقع نہ ملنے کی وجہ سے جانے ولاے دونوں ہی شامل ہیں۔
ایسے لوگوں کا چلے جانا بہت سے مسائل کا باعث بنتا ہے اور ریاست کے انتظامی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔
ریسرچ سنٹر یہ بھی کہتا ہے کہ تعلیم کا دوہرا معیار، عدم مساوات کے زمرے میں آتا ہے جس سے معاشرے میں دو واضح طبقے جنم لیتے ہیں۔ ان کے درمیان وقت کے ساتھ ساتھ فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور پھر شدید نفرت کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح فی کس آمدنی میں کمی ، قرض، بچو ں کی شرح اموات میں اضافہ، کاروبار میں ناکامی کا تناسب اور غربت میں اضافہ بھی ریاست کی ناکامی کے زمرے میں آتا ہے۔ کامیاب ر ترقی یا فتہ ممالک میں یہ شرح ناکام ریاستوں کی نسبت بہت کم ہوتی ہے۔
ریاستوں کی ناکامی کا گراف تیار کرنے والے ادارے نے سیاسی سطح پر جن کاموں کو ریاست کے لیے خطر ناک قرار دیا، اُن میں جرائم کے علاوہ احتساب کا عمل ہونا یا سیاست دانوں کی جانب سے خود کو احتساب سے مبرا سمجھنا بھی شامل ہے۔
بد عنوانی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی میں اضافہ، حفظان صحت کے حوالے سے ناکامی اور عوامی نقل وحمل کے مناسب انتظامات نہ ہونا بھی شامل ہیں۔ پولیس سٹیٹ بھی ریاست کی ناکامی کا باعث بنتی ہے جبکہ حکمرانوں کا سکیورٹی فورسز، مرکزی بینک، سفارتی عملہ، کسٹم اور دیگر ریاستی اداروں کو ذاتی مفادات اور سہولیات کے لیے استعمال میں لانا بھی ریاست کو کمزور اور ناکام بنا نا ہے۔
آمرانہ طرز حکومت اور انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ آئین اور قانون کی خلاف ورزی بھی ناکام ریاست کو ظاہر کرتی ہے۔
تحقیقی ادارے نے ناکام اور کامیاب ریاستوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ بھی کہا ہے کہ ریاست کے انداز ریاست ، ذاتی فوج ، دوسرے ممالک کی فورسز کی مداخلت اور سیاسی مخالفین کو رہشت زدہ کرنے کا عمل بھی ناکام ریاستوں میں ہوتا ہے۔ اسی طرح جارحانہ، بیان بازی، غیر ضروری الزامات، قوم پرستی اور عام شہریوں کو ڈرانے دھمکانے کا عمل بھی ریاستی کمزوری سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ کیاس ادارے نے کسی بھی ملک کی ناکامی کے جا اسباب بیان کیے ہیں اُن سے اختلاف ممکن نہیں ۔ یہ درست ہے کہ یہ سب عوامل کسی بھی ریاست کی کمزوری کا ظاہر کرتے ہیں۔ تحقیقی ادارے کے ماہرین نے یہ معیار مجموعی طور پر قائم کیا ہے۔ اگر ہم اس معیار پر مختلف ممالک کو پرکھیں تو معلوم ہوتا ہے۔ کہ واقعی جن ممالک میں یہ خرابیاں پیدا ہوں وہ ناکامی کیا جانب گامزن ہوجاتے ہیں۔
ہمارے سامنے کئی ایسے ممالک کی مثالیں موجود ہیں جو تباہ برباد ہو گئے اور کئی ایسے ممالک بھی اس دنیا میں موجود ہیں جو ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے چلے گئے۔ ہم بخوبی اُن کے حالات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
اب ہمارے سامنے ایک خوفناک سوال آتا ہے۔ وہ یہ کہ خود اس وقت کہاں کھڑے ہیں۔ ناکام ریاستوں کے اس گراف میں اپنا مقام ڈھونڈیں تو دل کی دھڑکن رُکنے لگتی ہے۔
بد قسمتی سے یہ سب برائیاں پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔ان میں سے کچھ نے تو وطن عزیز کو بُری طرح جکڑ رکھا ہے جبک کچھ ابھی اتنی مضبوط نہیں ہو پائیں کے اُن کے اثرات ملک بھر میں محسوس کیے جاسکیں ۔ بد قسمتی عالمی سطح پر تیار کیے گئے اس پیمانے میں ہم خاصے نچلے درجے پر کھڑے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حالات کی سنگینی کو محسوس کیا جائے اور شہداء کے اس دیس کو لوٹنے اور نوچنے کی بجائے اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیا جائے۔
ابھی حالات انتے نہیں بگڑے کہ ہم مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہو جائیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنی صلاح کرتے ہوئے وطن عزیز کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کریں۔ ہم سب کو اپنی اپنی جگہ اپنا کردار مکمل ایمانداری سے نبھانا ہوگا تبھی ہم کامیابیوں کے گراف میں سب سے اوپر نظر آئیں گے۔
وقت اشاعت : 2014-02-08

(4) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں