تازہ ترین : 1
Kala Jadu

کالا جادو

یہ معاشرتی ناسور بن چکا ہے مکرو عزائم رکھنے والے افراد کے پاس سادہ لوح لوگوں کو بھانے کیلئے طرح طرح کے تشہیری حربے بھی موجود ہوتے ہیں۔ ”محبوب آپ کے قدموں میں“ ، دشمن کو زیر کریں یا بندش کی کاٹ کرائیں“ ،

اے یودرانی:
عرفان گھر کے باغیچے میں ٹہل رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر کیاری میں پڑی ہوئی چھوٹی سی پوٹلی پر پڑی۔ آگے بڑھ کر اس نے اسے اٹھایا تو وہ وزن میں ہلکی پھلکی سی محسوس ہوئی۔ اس نے اسے کھول کر دیکھا تو پوٹلی میں اس کے گھر کے افراد کی تعداد کے برابر تعویزات موجود تھے۔ یہ تعویز عجیب سی لکھائی اور تصاویر پر مشتمل تھے۔ بس پھر کیا تھا پورے گھر میں کہرام مچ گیا، کوئی کہنے لگا پیر صاحب سے رابطہ کریں تو کوئی کہنے لگا فلاں عامل سے، کوئی کچھ اور کوئی کچھ۔
لیکن تمام گھر والے پریشان تھے۔
ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات معمول بنتے جارہے ہیں۔ کہیں کپڑے کی گڑیاں اور گڈا بنا کر ان میں سوئیاں چبھو کر دریا کی زمین میں دبایا جاتا ہے اور کہیں بکرے کی سری لے کر اس کا کالا جادو میں استعمال کیا جاتا ہے۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ کالے جادو کیلئے خواتین کے بال، انسانی ہڈیاں اور کفن کا ٹکڑا بھی استعمال کیاجانے لگا ہے۔
مکرو عزائم رکھنے والے افراد کے پاس سادہ لوح لوگوں کو بھانے کیلئے طرح طرح کے تشہیری حربے بھی موجود ہوتے ہیں۔ ”محبوب آپ کے قدموں میں“ ، دشمن کو زیر کریں یا بندش کی کاٹ کرائیں“ ، ”بے اولادی گھریلو ناچاقی اور کاروباری نقصان کے توڑ“ جیسے خوش کن نعرے اپنائے جاتے ہیں۔ یہ تمام عام معاتی مسائل ہیں اور تقریباََ ہر شخص کو درپیش ہوتے ہیں۔
بہت سے لوگ اپنے عام مسائل کو جادو ٹونہ سمجھ کر ایسے عاملوں کا رخ کرلیتے ہیں جو ان مسائل کا حل کالے جادو کی مدد سے ہی کرنے لگتے ہیں۔ جہاں سے دوسرے لوگوں کیلئے نئے مسائل جنم لیتے ہیں ۔ جادو کا یہ عم اپنے ارد گرد ہونے والے معمول کے واقعات کو غیر فطری طور پر اپنے قابو میں لانے کے لئے اپنایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہوتا ہے جو ناجائز طریقے سے دوسروں کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

سحر زدہ شخص کو عجیب و غریب اثرات سے گزرنا پڑتا ہے۔ عموماََ جادو کرنے والے افراد کسی نہ کسی شکل میں ایسے عمل کرتے ہیں جو شیاطین کو راضی کررہے ہوں۔ کالے جادو کا شکار شخص کسی طرح بھی مشکل حالات میں گھِر جاتا ہے۔ کچھ صورتوں میں وہ مسلسل بیمار رہنے لگتا ہے اور اسے عام علاج کرانے سے بھی افاقہ نہیں ہوتا۔ اسے توہمات کا شکار کردیا جاتا ہے یا پھر اسے دیگر حوالوں سے نقصانات کا شکار ہونا پڑتا ہے۔
ایسی صورتحال میں اس کیلئے روحانی علاج کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہوتا۔
دین اسلام میں جادو کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کے سیکھنے اور سکھانے والوں کو سخت تنبیہ ہے۔ مگر کسی کا خود کو مسلمان کہنا اور ایسے عمل میں ملوث ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ شخص سراسر گمراہی کے راستے پر ہے۔ ایسا شخص جو کسی کے باطل عملیات کا شکار ہوجائے۔ اس کا علاج اسلامی تعلیمات سے عین ممکن ہے۔
کچھ لوگ دین سے دوری کے سبب جادو ٹونے کے ایسا عملیات کا علاج انہی عاملوں سے کرانے لگتے ہین جو خود گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں۔
جادو ٹونے کے اثرات سے بچنے کیلئے اسلامی تعلیمات کا سہارا لینا چاہیے کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یوں بھی لوگوں کو اپنے ذاتی سماجی، معاشی غرضیکہ ہر طرح کے مسائل کے حل کیلئے اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہی رجوع کرنا چاہیے۔

کالا جادو ایک حقیقت ہے اور دین سے دوری کے سبب لوگ اس کی وجہ سے نفسیاتی مریض بنتے جارہے ہیں۔ خصوصاََ برصغیر میں اس طرح کے باطل علوم کو ہندوؤں میں زیادہ اہمیت دی جاتی تھی اور اب بھی دی جاتی ہے۔ اپنی مرادیں حاصل کرنے کیلئے جانوروں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو بھی اپنے دیوتاؤں وغیرہ کے بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ۔ کالے جادو کا مقصد عموماََ فطرت کی خلاف ورزی کرنا ہوتا ہے۔
انسان جو ”نامعلوم“ کے خوف کا شکار ہوتا ہے تو وہ توہمات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ لوگوں کو تسخیر کرنا اور ان پر حکومت کرنے کی دھن انہیں جب کچھ بھی کر گزرنے پر اکساتی ہے تو وہ کالے جادو کا سہارا لینے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ لالچ، حسد جیسے جذبات بھی دوسروں کو نقصان پہنچانے کیلئے کالے جادو کی مدد لینے پر آمادہ کرتے ہیں۔ انسان ایسے مواقع پر نادیدہ طاقتوں کی مدد سے لوگوں کو زیر کرنے پر آمادہ ہوتا ہے تو وہ انسانیات کے درجے کو بھول کر ہر طرح کی اخلاقیات بھول جاتا ہے۔

جادو کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس حوالے سے کچھ ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ لیکن پہلے ہل بھی لوگ اس سے بچاؤکیلئے تدابیر اختیار کرتے تھے۔ خواتین کے سرکے بالوں پر جادو کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے بزرگ کہا کرتے ہیں کہ سر کے بالوں اور کٹے ہوئے ناخنوں کو سرعام پھینکنا غلط ہے اور نحوست کی علامت ہے۔ اس بات کی سختی سے تاکید کی جاتی ہے کہ خواتین کے بالوں کو کسی خوص جگہ پر دفنا دینا چاہیے۔
اسی طرح ناخن کاٹنے کے بعد بھی انہیں کسی مناسب جگہ دفن کرنے کا کہا جاتا ہے۔ قصاب بھی بکرے کی گوشت کی وہ ہڈی توڑ کر پھینک دیتے ہیں جنے بارے میں مشہور ہوتا ہے کہ یہ جادو وغیرہ میں استعمال ہوتی ہے۔
ماضی میں لوگ جانتے تھے کہ جادو ٹونے کا یہ عمل بے رحم اور سفاک عمل ہے جس سے لوگوں کو اذیت دی جاتی ہے۔ یہ کسر آج کل غیر ملکی فلمیں نکال رہی ہیں۔
کسی زمانے میں خوف پیدا کرنے والی فلم دیکھنے سے منع کیا جاتا تھا مگر آج کل بڑے پیمانے پر ایسے موضوعات پر فلمیں دکھائی جاتی ہیں جن میں کالا جادو اور کوف کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ خوف کے اس عنصر نے لوگوں کو مزید نفسیاتی امراض میں مبتلا کررکھا ہے۔ متعدد غیر ملکی فلموں میں کالا جادو، گندی آتما، جادو گرنیاں اور ایسی دوسری خرافات ہی کو موجوع بحث لایا جاتا ہے جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ذہنی اذیت میں بھی مبتلا کررہی ہیں۔
پاکستان معاشرہ میں اس طرح کے عوامل سے بچنے کیلئے لوگوں کو ایسے گمراہ کن عاملوں سے بچانا ضروری ہے۔ اس کا موٴثر بہتر طریقے دینِ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہے۔ روحانی طریقوں پر عمل کر کے ہی اس طرح کے کالے جادو اور ان کے اثرات سے بچا جاسکتا ہے۔ توہمات کا شکار شخص کسی طرح بھی اپنی ترقی جاری نہیں رکھ سکتا ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق جادو حرام ہے۔ اس حرام سے بچنے کے لئے دین کی جانب راغب ہونا بہت ضروری ہے۔ اسی میں سب کی سلامتی ہے۔
وقت اشاعت : 2014-04-29

(4) ووٹ وصول ہوئے

قارئین کی رائے :

  • intizar ali Says : 30/04/2014 - 13:51:05

    This is really good content we must conway as much we could. This is not wrong for this life but for eternal life as well. I appriciate this struggle of urdu point. Allah give u people "jaza" against this fortune

    Reply to this comment

اپنی رائے کا اظہار کریں