بند کریں
بدھ مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جیلوں میں قیدیوں کے مسائل
جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی بند ہیں اور صوبے کی32 جیلوں کے50ہزار قیدیوں کیلئے77روپے فی قیدی بجٹ ہے جس میں دو وقت کی روٹی اورادویات کی سہولتیں فراہم کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے
احمد کمال نظامی:
جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی بند ہیں اور صوبے کی32 جیلوں کے50ہزار قیدیوں کیلئے77روپے فی قیدی بجٹ ہے جس میں دو وقت کی روٹی اورادویات کی سہولتیں فراہم کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے۔ کسی انسان کیلئے 77 روپے یومیہ زندگی گزارنا مشکل ہے چونکہ جیلوں میں قیدیوں کے کھانے اور ان کی دیکھ بھال کیلئے مناسب رقوم نہیں ملتی۔
علاج معالجہ کی بھی کوئی مناسب صورتحال موجود نہیں۔ ناقص کھانا سے جیل میں سینکڑوں قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ اس قسم کی شکایات بھی ہیں کہ بیمار یا مردہ جانوروں کاگوشت جیلوں میں فروخت ہوتاہے اسے کھا کر ان کو متلی ہوتی ہے۔ قیدیوں نے پتلے شوربے والی سالن‘ خراب آٹے کی روٹیوں اور بد ذائقہ چائے کے خلاف کئی مرتبہ احتجاج کیاہے۔
معدے اور جگر کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہونے والے قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے۔گزشتہ سال ڈیڑھ سو قیدی ان بیماریوں کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن گئے۔ فیصل آباد سے بہت سے قیدیوں کے مطابق تقسیم ہونے والی روٹیاں جلی ہوئی ہوتی ہیں۔ سالن پھیکا اور چائے کی رنگت اس قدر کالی ہے کہ جیسے اس میں دودھ ڈالنے کی زحمت ہی نہ کی گئی۔گوشت چیونگم کی طرح چبانے کے باوجودنہیں نگلا جاتا۔
گھر سے کھانا غیر قانونی کہہ کر واپس کردیاجاتاہے۔ قیدیوں کے لواحقین کو یہ معلوم ہوتاہے کہ وہ جو کھانا اپنے کسی پیارے کو بھیج رہے ہیں ‘ اس میں سے آدھا تو جیل کے عملے کو دے دیاجاتاہے اور باقی آدھے کھانے میں ان کاقیدی‘ اپنے جیل کے دوستوں کو شامل کرتاہے ۔ جیلوں میں قیدیوں کو تقسیم ہونے والاکھانا انسانوں کے بجائے جانوروں کے معیار کا ہے۔
جیل حکام کے مطابق پنجاب کی32 جیلوں کے 50ہزار سے زائد قیدیوں کیلئے کچھ عرصہ قبل تک 55روپے فی قیدی بجٹ ہوتا تھا اور اب اس میں 22روپے فی قید اضافہ کیاہے جس سے کھانے کامعیار بہتراور علاج معالجے کی سہولتیں بھی پہلے سے زیادہ ملنے لگی ہیں۔ عملے کی کمی کے باعث اکثر جیل سپر نٹنڈ نٹس پڑھے لکھے قیدیوں میں سے نسبتاً صالح افرا دکو جیل وارڈنز کے مددگاروں کی ڈیوٹی دے کر جیل کے انتظامی معاملات کو چلاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے انہیں صوبے کی جیلوں کیلئے1500 نئے جیل وارڈنز بھرتی کرنے کی منظوری دی ہے۔گزشتہ دنوں آئی جی پنجاب نے ڈسٹرکٹ جیل جھنگ کے دورہ پر قیدیوں سے موبائل ٹیلیفون بھی برآمد کئے۔فیصل آباد کی جیلوں میں دو تہائی قیدیوں کے پاس موبائل ٹیلیفونز اور مختلف برانڈز کی سمیں موجود ہیں وہ گھر والوں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ رکھتے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر جیلوں میں بیٹھ کر اپنا اپنا جرائم کا نیٹ ورک بھی چلاتے ہیں اور بھائیوں،بچوں کے کاروبار کو چلاتے ہیں۔
پنجاب میں گزشتہ پانچ سالوں میں سزائے موت پر عدم عملدرآمد ہونے سے جیلوں میں ایسے قیدیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ سینکڑوں قیدیوں کی اپیلیں صدر مملکت کے پاس ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد پنجاب کے قیدیوں کی ہے۔2008ء میں سزائے موت کے قیدیوں کی پھانسی ایک صدارتی سے آرڈر سے روکی گئی تھی۔سابق صدرآصف علی زرداری کے بعد ممنون حسین نے بھی سزائے موت کے قیدیوں کے سلسلہ میں جاری شدہ صدارتی سٹے آرڈر کو منسوخ نہیں کیا۔
ہوم ڈیپارٹمنٹ اور چاروں صوبوں کے آئی جیل خانہ جات نے حکومت کو مراسلات بھجوا رکھے ہیں کہ جن قیدیوں کی اپیلیں ایوان صدر میں فیصلہ کی منتظر ہیں اگر ان قیدیوں کے پھانسی کے احکامات پرعملدرآمد ہوجائے تو مسائل بہت حد تک حل ہوسکتے ہیں۔صدر مملکت کو پانچ سو سے زائد ایسے قیدیوں کی اپیلیں بھیجی گئی ہیں جو سزائے موت کے قیدی ہیں اور سپریم کورٹ میں سے بھی ان کی اپیلیں مسترد ہوچکی ہیں۔
ان میں سے62 قیدیوں کی اپیلیں صدر مملکت اس لئے رد کرچکے ہیں کہ یہ قیدی دہشت گردی‘ اغواء برائے تاوان اور قتل کے مجرم شامل ہیں۔ ملٹری کورٹ سے سزائے موت پانے والے چند قیدیوں کی اپیلیں جی ایچ کیو میں زیرالتوا ء ہیں۔ اگر ان اپیلوں کی فیصلوں میں تاخیر نہ ہوں تو جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں کمی ہو جائے گی۔ سزائے موت کے 502قیدی سنٹرل جیل ساہیوال میں ہیں۔
سنٹر ل جیل لاہور میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد476 اور فیصل آباد میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد 431 ہے جبکہ راولپنڈی میں426‘ گوجرانوالہ میں405 ملتان میں395ہے۔ پنجاب کی32جیلوں میں48ہزار پانچ میں سے سزائے موت کے قیدی بی کلاس کی سہولت پارہے ہیں جن میں تین خواتین شامل ہیں۔سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہورہاہے۔ فیصل آباد ریجن کے آٹھ جیلوں میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی تعداد1329ہے جن میں سزائے موت پانے والی10خواتین شامل ہیں۔
سزائے موت کے فیصل آباد ریجن میں سب سے زیادہ قیدی429 فیصل آباد 222 قیدی میانوالی میں ہیں۔ ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں6مرد اور ایک خاتون‘ جھنگ میں260 مرد اور پانچ خواتین‘ سرگودھا میں194‘ شاہ پور میں101اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سزائے موت کے منتظر 121قیدی‘ جیلوں کے عملے کیلئے غیر ضروری ذمہ داری بنے ہوئے ہیں۔ ملک کی اعلیٰ عدالتوں سے جن قیدیوں کو یہ سزائیں دی گئی ہیں یا تو ان کی رحم کی اپیلیں منظور ہونی چاہئیں یا ان کی سزاؤں پرعملدرآمد ہوناچاہئے تاکہ جیلوں میں ان کی سزاؤں کے مطابق ان کے ساتھ سلوک روا رکھا جائے۔
فیصل آباد ریجن کی جیلوں میں گنجائش سے دوگنا قیدی بند ہیں ان جیلوں کیلئے2557 ملازمین کی منظوری کے باوجود 313آسامیاں خالی ہیں جن میں سے فیصل آباد میں وارڈز کی40آسامیاں خالی ہیں۔ ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں ہیڈ وارڈز کی6‘وارڈز کی18‘ بورسٹل جیل ہیڈ وارڈ ز کی2اور وارڈز کی33 ‘ڈسٹرکٹ جیل جھنگ میں ہیڈ وارڈ کی4اور وارڈز کی15‘ سرگودھا میں ہیڈ وارڈز کی9اور وارڈز کی 51‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہیڈوارڈز کی6اور وارڈز کی34‘ شاہ پور میں وارڈز کی48‘ میانوالی میں ہیڈ وارڈز کی7جبکہ وارڈز کی32آسامیاں خالی ہیں۔
تعمیرشدہ بارکوں کے لحاظ سے فیصل آباد ریجن کی تمام جیلوں میں 5918 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے لیکن اس وقت 173عورتوں سمیت ان جیلوں میں پابند سلاسل افراد کی تعداد11808ہے۔ فیصل آباد میں143نابالغ قیدی بند ہیں اور ریجن کی تمام جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہے۔ ان میں سے فیصل آباد کی سنٹرل جیل میں1206 کی گنجائش کے مقابلے میں اس وقت 2852قیدی رکھے گئے ہیں۔
823 کی گنجائش والی جیل میں2220قید ی ہیں اسی طرح دیگر جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں کہیں زیادہ قید ہیں۔ پنجاب کی چار بڑی جیلوں‘ سنٹر ل جیل لاہور‘ سنٹر ل جیل فیصل آباد ‘ سنٹرل جیل ملتان اور سنٹرل جیل راولپنڈی میں قیدیوں کو ان کی بیویوں سے علیحدگی میں ملاقاتیں کرانے کیلئے124سے زائد خصوصی کمروں کی تعمیرہورہی ہے۔ کوٹ لکھپت جیل لاہور میں56 کمرے تعمیر ہوچکے ہیں۔
سنٹرل جیل فیصل آباد میں بھی دو درجن کمرے تعمیر ہونے والے ہیں۔ جیلوں میں شادی شدہ قیدیوں کو ان کی بیویوں سے ملنے کیلئے جو سکیورٹی پلان بنایاگیاہے اس میں نکاح ناموں کی تصدیق کے علاوہ خواتین کی جیلوں میں آمد سے پہلے دو افراد سے اس امر کی گارنٹی بھی لی جائے گی کہ ملاقات کیلئے آنے والی قیدیوں کی بیویاں ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان