بند کریں
منگل مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عمران خان نے سیاست میں نئے انداز متعارف کرائے
پاکستان کے لیڈر جو فلو ہونے پر اپنی تمام مصروفیات ترک کر دیتے تھے اُن کے لئے عمران خان نے لیڈر شپ کے میرٹ اور معیار کو خاصا اونچا کر دیا ہے
ملک اعظم:
دونوں سیاسی جماعتیں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے قائدین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔حکومت ہے کہ مزاکرات اور کمیٹی کمیٹی کھیل کر یہ سمجھ رہی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں جماعتوں کے کارکن تھک جائیں گے اور اْن کو وہ کچھ سیاسی طورپر قربان نہیں کرنا پڑے گا جس کی جستجو یہ جماعتیں کر رہی ہیں۔واقفان حال کا کہنا ہے کہ دوران آزادی ،انقلاب مارچ وزیر اعلیٰ شہباز شریف استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہو گئے تھے اور اُنہوں نے باقاعدہ طور پر وزیراعظم کو مطلع بھی کر دیا تھالیکن علامہ طاہرالقادری کی طرف سے کسی قسم کی نرمی نہ برتنے پر اپنے فیصلے کو تبدیل کر دیا۔
اگر ایف آئی آر اور شہباز شریف کا استعفیٰ لے کے طاہر القادر ی واپس آجاتے تو عمران خان نواز شریف کے استعفیٰ کے قریب تر ہو جاتے۔ میری ناقص رائے میں پنجاب کی حکومت ہی نواز شریف حکومت کی بنیاد ہے۔ بقول شیخ صاحب کے سیاست میں ٹائمنگ بہت اہم ہوتی ہے۔ عمران خان نے پاکستان کی سیاست میں نئے انداز متعارف کرائے ہیں۔ انہوں نے تحریک ِ انصاف کے ساتھ انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج میں اپنے آپ کو 8x20کے کنٹینر نما جیل میں نظر بند کر لیا ہے۔
پچھلے دو ہفتوں سے اُسی میں قیام پذیر ہیں اور دھرنے کے شرکاء کے ساتھ ہیں۔
پاکستان کے لیڈر جو فلو ہونے پر اپنی تمام مصروفیات ترک کر دیتے تھے اُن کے لئے عمران خان نے لیڈر شپ کے میرٹ اور معیار کو خاصا اونچا کر دیا ہے۔ پچھلے دو ہفتوں سے عمران خان قوم سے خصوصاً نوجوانوں سے نئے پاکستان کا نظریہ اصول بیان کر رہے ہیں۔ کرپشن سے پاک معاشرہ باوقار پاکستان ، خودار قوم اور سچا لیڈر اس کے خدوخال ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ اْن کی والدہ نے حدیث کی روشنی میں جھوٹ بولنے سے منع کیا ہے۔ خدا نے اْن کو سیاست میں آنے سے پہلے ہی عزت، شہرت اور دولت سے نوازا لہٰذا وہ اس ملک کے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اُن کا مقصد قوم کو جگانا ہے اور یہ بھی کہا کہ انہوں نے خود کو بھی کڑے امتحان میں ڈال لیا ہے لہٰذا اس سے وہ پبلک پراپرٹی بن گئے ہیں۔ اُن کا یہ سبق اُ ن کے ورکرز اور سپورٹرز بھی پڑھ رہے ہیں۔
پارٹی میں سچ بات کرنے والے کو عزت دلانا اور اس کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر نا اْن کی ذمہ داری بن گئی ہے۔ اس فلسفے کو برداشت کرنے کے لئے دوسر ے اور تیسرے درجے کی لیڈر شپ کو اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تحریکِ انصاف کے کئی چُھپے ہوئے مراد سعید اور ناز بلوچ کو اوپر لانا ہوگاجو کہ عمران خان کے واضح کردہ اصول پر تو پورا اُترتے ہیں لیکن عمران خان تک پہنچنے کے منتظر ہیں یقینا کچھ رہنماوٴ ں کی دلچسپی اس سے مختلف ہو سکتی ہے۔
جبکہ دوسری طرف نواز شریف نے اپنی ساری طاقت اور توجہ کا مرکز پارلیمنٹ کو بنایا ہوا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو ایک ڈھال بنایا ہوا ہے۔پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے نام پر نواز شریف حکومت ختم نہ کرنے کا ساتھ نبھایا۔یقینا آصف علی زرداری نے سے ایسے فیصلہ کی توقع تھی کیونکہ یہ ایک خالصتاً سیاسی فیصلہ تھا جس کے نتیجہ میں ان کو صوبائی حکومت وفاق میں اپوزیشن لیڈر اور اربوں روپے کے تقریباً ثابت شدہ کرپشن کیسز سے بچاوٴ گویا پیپلز پارٹی نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔
کاش ہمارے سیاستدان اور حکمران کبھی غریبوں کے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ اجلاس بلاتے ، کبھی سامراجی قوانین کے خاتمے اور سٹیٹس کوکے خاتمے کے لئے بھی اجلاس بلاتے ، کبھی وسائل کی منصفانہ تقسیم عدلیہ ،فوج ، بیورکریسی اور سیاستدانوں کے احتساب کے لئے قوانین کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اجلاس منعقد کرتے۔ ہمارے ملک کی بجائے یہ بحران کسی بھی دوسرے جمہوری ملک میں آیا ہوتا اور دھاندلی کے اتنے واضح ثبوت اور 14عدالتی فیصلے دھاندلی کے خلاف آچکے ہوتے تو یقینا اُس ملک کا وزیر اعظم عوام کے پاس فریش مینڈیٹ کے لئے جا چکا ہوتا لیکن یہ ہے پاکستان یہاں آئین اور قانون کی حکمرانی کا ہے فقدان۔
یہاں امپورٹڈ وزیراعظم پاکستان نامزد ہونے کے بعد وزیر اعظم کا شناختی کارڈ ایشو ہوتا ہے یہاں عدالتوں سے اجازت کے بغیر رات کے اندھیروں میں جیلوں کے دروازے کھل جاتے ہیں یہاں جعلی ڈگریوں والے راج کرتے ہیں ، یہاں انصاف مصلحتوں کا شکار ہے ، یہا ں ذاتی مفاد ملکی مفاد سے عظیم تر ہے، یہاں ہر طاقت ور محب وطن اور مخالف ملک دشمن ہے ، یہاں سب چلتا ہے کیونکہ ہم ہیں پاکستانی اور بھول چکے ہیں آئین و قانون کی حکمرانی۔
آخر ی خبریں آنے تک پی ٹی آئی کے سینئر وائس چےئر مین شاہ محمود قریشی نے حتمی طور پر اسحاق ڈار کو مطالبات سے آگاہ کر دیا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایک کے علاوہ باقی سارے معاملات طے ہیں لیکن ایک مطالبہ ہم مان نہیں سکتے اور دوسرے کے متعلق ہم اپنی رائے لیڈر شپ سے پوچھ کر دیں گے گویا مذاکرات کی ناکامی کا تاثر دونوں رہنماوٴ ں کے چہرے پر واضح تھا۔
شاہ محمود قریشی جیسے زیرک اور سفارتکاری کے ماہر اگر پی ٹی آئی کی طرف سے مذا کرات نہ کر رہے ہوتے تو یہ مذاکرات بہت پہلے کے ختم ہوچکے ہوتے۔ جس طرح انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تقریر کر کے پی ٹی آئی پر الزامات دلیل سے غلط ثابت کئے اور اسی طرح انہوں نے مذاکرات اِن رائیٹنگ پیپرکے اصول کو واضح کر کے حکومتی سنجیدگی کو ریکارڈ پر لے آئے۔
سیاسی جماعتوں میں ڈیڈ لاک کوئی نیک شگون نہیں ہے۔ پی ٹی آئی نے عوامی تحریک سے فاصلہ قائم کر کے سیاسی پختگی کا ثبوت دیا ہے۔ اس طرح عمران خان جیسے بڑے لیڈر کی دھرنے میں موجودگی کے بعد پارٹی رہنماوٴں کے سیلاب زدہ علاقوں میں عملی طور لوگوں کی خدمت زیادہ موزوں ہو گئی۔ جو اضلاع سیلاب سے زیادہ متاثر ہیں اور لوگوں کی جمع پونجی ، مویشی ، سیلاب کی نظر ہوگئے ان کے لئے امدادی سامان کا بندوبست تحریک ِ انصاف کو لوگوں کے دلوں کے اور قریب لے جائے گا۔
عمران خان نے قدرتی آفات زلزلہ کے نتیجے میں لاکھو ں لوگوں کے بے گھر ہونے پر قوم سے اپیل کی تھی اور تین دنوں میں سو کروڑ روپیہ جمع ہو گیا تھا۔ اب بھی عمران خان کو براہ راست عوام سے سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے کامو ں کے لئے اپیل کرنی چاہیے۔ ا س میں کوئی شک نہیں کہ 65سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد ہم اپنی ترجیحات کو ملکی ضروریات کے مطابق نہیں بنا سکے۔ اربوں روپوں سے سٹرکیں ، پل ، میٹروز اور پارکس تو بناتے ہیں لیکن سیلاب سے ہر سال اربوں کے نقصان اور سینکڑوں لوگو ں کی زندگیوں کی قربانی کے بعد بھی بند، ڈیم اور بیراجوں کی مرمت ہماری ترجیح میں شامل نہ ہونا بدقستمی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-11

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان