بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عمارتیں۔۔فلک بوس سے زمین بوس
عمارتوں کے گرنے اور منہدم ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں عمارات کی تعمیر میں استعمال ہونے والا میٹریل ، تکنیکی خرابیاں اور سب سے بڑھ کر ماہرین کی رائے کو نظر اندا ز کیا جانا وغیرہ شامل ہیں
تہمینہ رانا:
عمارتوں کے گرنے اور منہدم ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں عمارات کی تعمیر میں استعمال ہونے والا میٹریل ، تکنیکی خرابیاں اور سب سے بڑھ کر ماہرین کی رائے کو نظر اندا ز کیا جانا وغیرہ شامل ہیں ۔دیگر اسباب میں قدیم اور شکستہ عمارتوں کی مرمت پر توجہ نہ دینا بھی شامل ہے۔ وسائل کی کمی بھی اس کی بڑی وجہ ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے اندر شعور اور احساس ذمہ داری کب بیدار ہو گا کہ ہم قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روک سکیں اور تما حفاظتی تدابیر کو مدِ نظر رکھ کر عمارات کی تعمیر کو ممکن بنائیں۔

ہمارا یہ دستورہی بن چکا ہے کہ جب تک کوئی حادثہ رونمانہ ہو اجائے ہم سد ھرتے نہیں۔ انتظامیہ بھی ”کارروائی کریں گے‘ کا نعرہ لگا کر میٹھی نیند سو جاتی ہے۔ تھوڑا اور بہتر کریں تو مرنے والوں اور زخمیوں کی سرکاری خزانے سے مالی امداد کر کے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ سال ہا سال سے بارشوں کے موسم میں مکانات ، عمارات اور چھتوں کے گرنے کے حادثے رونما ہو رہے ہیں۔
قیمتی انسانی جانیں حادثات کا شکار ہو کر ہلاک ،زخمی یا مفلوج ہو جاتی ہیں مگر ہماری گورنس ہے کہ بدلنے کا نام نہیں لے رہی ۔ہمارے پاس حادثات سے نبٹنے کیلئے جدید مشینری نہیں ہوتی۔ اگر کہیں ہوتی بھی ہے تو تنگ وتاریک گلیوں میں سے اُسے کاگزر نہیں ہوسکتا اور امدادی کارروائیوں میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو پاتی۔ گزشتہ بیس، پچیس برسوں سے لاہور میں اندرون شہر کے مختلف علاقوں میں دھڑادھڑ کثیر منزلہ عمارتیں بن رہی ہیں۔
ان کی تعمیر کے وقت کسی سٹرکچرل انجینئر سے ڈایزائننگ نہیں کرائی جاتی ۔ ساراکام ٹھیکیدار یا مستری خود ہی کر لیتے ہیں۔ ایسا محض پیسہ بچانے کی خاطر کیا جاتا ہے کہ جو رقم سٹرکچرل انجینئر کی جیب میں ڈالنے ہیں ، اس سے کیوں نہ چار کام مزید کروالیے جائیں۔ جب اس وقتی بچت کا بھیانک نتیجہ ملتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور کئی قیمتی انسانی جانیں اس کی بھینٹ چڑھ چکی ہوتی ہیں۔

داروغہ والا میں ایک عظیم الشان مسجد کی چھت گرنے کا بھیانک حادثہ ہمارے سامنے ہے۔ کیا اس حادثے سے کوئی سیکھے گا؟ ماضی کی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے وثوق سے یہ کہا جاسکتاہے کہ چند ہفتوں کے بعد ہم بہ سب فراموش کر کے کسی نئی بریکنگ نیوز کے منتظر ہوں گے اور یوں معاملہ رفع دفع ہو جائے گا۔ لیکن اُن لوگوں کے دکھوں کا ازالہ کون کرے گا جن کے بیٹے، باپ اور بھائی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اُن سے جدا ہو گئے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ملک میں ناقص میٹریل لگانے والے ٹھیکیداروں کے خلاف شفاف انکوائری اور سزا کے قوانین پر عملدارآمد کروایا جاتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ قوانین ہیں تو سہی مگر اُن پر عملدارآمد ہی نہیں ہوتا۔ دولت اور سرمائے کا استعمال عین وقت پر بڑی سی بڑی آزمائش کو ٹال جاتاہے۔ گزشتہ دنوں میں بارش اور تیز ہواوٴں کے باعث لاہور میں خستہ حال گھروں کے مکین خوفزدہ ہوکر رشتہ داروں کے گھرمنتقل ہونے لگے۔
بوسیدہ گھروں کے مکینوں میں بھی شدید خوف کی لہر دوڑ گئی حالانکہ ی واقعات سرکاری محکموں کا پول ہر سال کھولتے ہیں۔ ایسے ہی ایک گھر کے رہائشی خاتون نے منہ زور برستی بارش کے دوران واسا کے دفتر فون کر کے مدد کیلئے پکارا تو وہاں سے خاموشی کے سوا اُسے کوئی جواب نہ ملا۔ مایوس ہو کر اُس نے خادم اعلیٰ اور وزیر اعظم نواز شریف کی رہائش گاہ فون کر کے اپنی شکایت درج کرانا چاہی تو ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے یہ کہہ کر فون بندکردیا کہ ”جی میرے تو اپنے گھر میں پانی نکالنے والا کوئی نہیں۔

صرف لاہور کی ہی بات نہیں ہر بڑے اور پرانے شہر میں ہزاروں مکان خستہ حالی کا شکار ہیں اور کسی بھی وقت زمین بوس ہونے کو تیار ہیں۔لاہور میں خطر ناک اور بوسیدہ عمارتوں کے مکینوں کو متعلقہ محکمے نے نوٹس تو جاری کر دئیے مگر اُنہیں متبادل رہائش گاہیں کون مہیا کرے گا۔ اُن بوسیدہ گھروں میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باعث اُن کے پاس یہاں رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

نئی عمارات کے گرنے کی ایک وجہ یہ بھی کہ یہ عمارات ایک اینٹ کی دیوار پر کھڑی کی جاتی ہیں۔ قانون کی یہ کھلی خلاف ورزی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ملی بھگت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ ادارہ برائے ترقیات لاہور (ایل ڈی اے) کے مطابق صرف شاہ عالمی بازار میں کئی سو کثیر منزلہ تجارتی عمارتیں ہیں جن میں سے اکثر با اثر اورمقامی سیاسی رہنماوٴں کی ملکیت ہیں۔

لاہور کے بڑے اور تاریخی بازار انار کلی اور اس سے ملحقہ دھنی رام روڈ پر ایسی درجنوں قدیم تجارتی عمارتیں ہیں جو شہر میں گرنے والی متعدد پرانی عمارتوں کی طرح محض بہانے کا انتظار کررہی ہیں۔
بوسیدہ عمارتوں کے گرنے کی ایک وجہ اردگرد نئی تعمیرات بھی ہوتی ہے۔ کسی بوسیدہ عمارت کے آس پاس جب کوئی دولتمند غیر قانونی طور پر تہہ خانے بناتا ہے تواس بوسیدہ عمارات کی بنیادیں مزید کمزور ہو جاتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مزید بوسیدہ ہو کر گر جاتی ہیں۔
والڈ سٹی اتھارٹی کے مطابق ان عمارتوں میں زیادہ تر کرایہ دار رہتے ہیں۔ ایک عمارت میں کئی کئی خاندان رہائش پذیر ہیں ، زیادہ تر بوسیدہ عمارتیں تنگ گلیوں میں واقع ہیں جہاں کسی حادثہ کی صورت میں بروقت امدادی کارروائی بھی نہیں کی جاسکتی ۔
سرکاری ریکارڈ میں گزشتہ 14 سال سے ان عمارات کو خطر ناک قرار دیا جا چکا ہے لیکن بارشوں کا موسم گزرتے ہی ان عمارتوں کی دوبارہ تعمیر یا اس کی حالت بہتر بنانے کے ضلعی حکومتوں کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔
کھنڈر بنتی ان عمارتوں کا حسن وجمال 8 عشرے قبل تک دیدنی تھا مگر آج ان کے مکین مجبوراََ یہاں رہائش رکھے ہوئے ہیں۔ غربت کے باوجود ان عمارات کے ساتھ ان کی جذباتی وابستگی بھی ہے۔ وہ انہیں بزرگوں کی نشانیاں قرار دینے میں حق بجانب ہیں۔ ایس عمارتیں پشاور، کراچی، کوئٹہ ، راولپنڈی ،ملتان ، سکھر اور دیگر کئی بڑے شہروں میں سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔
یہ عمارتیں اتنی بوسیدہ ہو چکی ہیں کہ ان کے مکینوں کوہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ جانے کس وقت ان کے بزرگوں کی نشانیاں ان کا مدفن نہ بن جائیں۔ یہ امر لائق توجہ ہے کہ ملک بھر میں سینکڑوں خاندان اپنی آبائی رہائش گاہوں کو چھوڑ کرکرائے کے مکانوں میں گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بوسیدہ، سالخوردہ اور خستہ و شکستہ یہ ہزاروں عمارات محض کھنڈرات نہیں بلکہ ہمارا قومی ثقافتی روثہ بھی ہیں۔ عالمی اداروں کو محفوظ کرنے کیلئے حکومتوں کو خطیر سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-25

(0) ووٹ وصول ہوئے