بند کریں
جمعرات مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
علم ہی تومعاشرے کا حسن ہے
قرآن پاک میں علم مختلف صو رتوں میں 778مرتبہ آیا ہے علم کی اہمیت کا انداز ہ اس بات سے ہی ہو جاتا ہے کہ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد ﷺ پر پہلی وحی علم کی اہمیت پر ہی نازل ہوتی ہے سورت العلق میں الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
مصنف : بابر سلیم نایاب
انسان الله پاک کی ایک خوبصورت تخلیق ہے جسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے لفظ انسان انسانیت کے بغیر ادھورا ہے اسی طرح علم کے بغیر بھی انسان کی تکمیل اس کا شعور اُس کی عقل ادھوری ہے ۔علم انسان کو صرف دنیاوی کامیابی ہی عطا نہیں کرتا بلکہ زندگی کی خوبصورتی اور دلکشی کے وہ چراغ بھی عطا کرتا ہے جسکی روشنی سے وہ خود بھی اور دوسروں کو بھی منور کرتا رہتا ہے اور اپنے اس طرز عمل کی بنیاد پر ساری زندگی صدقہ جاریہ اور نیکی کماتا ہے ۔
علم کی اہمیت سے انکار حقیقی طورپر وحشت اور جاہلیت کو جنم دیتا ہے اور پھر جس معاشرے میں تعلیم کی تبلیغ اور تربیت نہ ہو وہ معاشرہ بد تہذیبی اور جنگ و جدل میں مبتلا ہو جاتا ہے جسکی مثال موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں کثیر آبادی کے لوگ علم کے رموز اور اُسکی اہمیت سے نا آشنا ہیں ۔قصور اُن کا ہی نہیں بلکی حکومت وقت اور مختلف قسم کی جاہلانہ فرسودہ روایات ہیں جس میں قبیلے کے قبیلے ان فرسودہ روایات کے چنگل میں جکڑے ہوئے ہیں ۔

قرآن پاک میں علم مختلف صو رتوں میں 778مرتبہ آیا ہے علم کی اہمیت کا انداز ہ اس بات سے ہی ہو جاتا ہے کہ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد ﷺ پر پہلی وحی علم کی اہمیت پر ہی نازل ہوتی ہے سورت العلق میں الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ،ترجمہ :پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے پڑھییے کہ تیرا رب بڑی عظمت والا ہے جس نے قلم کے زریعے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا ۔
اسی طرح سورت ا لزمر میں الله تعالیٰ فرماتا ہے ۔ترجمہ:فرما دیں کیا اہل علم او ربے علم برابر ہو سکتے ہیں ۔
پاکستان میں آج جو افراتفری اور بد امنی کے جتنے بھی اسباب ہیں اُن میں سب سے بڑا سبب جاہلیت ہے جن لوگوں نے بندوقیں اُٹھائی ہوئی ہیں جو خودکُش دھماکے کر رہے ہیں اور اپنے ہی مسلمانوں بھائیوں کا نا حق خون کر رہے ہیں اُن میں اکثریت اُن بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں کی ہے جو علم سے بالکل ناآشنا ہیں جن کو علم کا پتا ہی نہیں اور نہ ہی اُن کی نسلوں کو جو نسل در نسل جاہل اور علم سے محروم چلی آ رہی ہے اورمزید بدقسمتی یہ ہے کہ اُن کی تعلیم و تربیت کے لیے کوئی نظام ہی وضع نہیں کیا گیا ۔
مردوں کے مقابلے میں خواتین کی کشیر تعداد علم سے محروم ہے کیونکہ ُن کا پڑھنا لکھنا بعض علاقوں اور قبیلوں میں مردوں کی غیرت کا امتحان سمجھا جاتا ہے ،لہذا اُ ن علاقوں میں عورت پاؤں کی جوتی سمجھی جاتی ہے اور یوں وہاں کی عورت کی زندگی وہی مردوں کے معاشرے کی فرسودہ روایات کو نبھاتے ہوئے گزار دیتی ہے ایک پڑھی لکھی عورت ایک اچھی نسل کو جنم دیتی ہے مگر جہاں علم حاصل کرنا ہی جرم عظیم سمجھا جائے تو وہاں صرف اور صرف وحشت ہی ہو سکتی ہے مگر شعور نہیں ۔
پاکستان میں فاٹا کے اکشیر یت علاقے جہاں
پاک فوج ضرب عضب آپریشن کر رہی ہے وہاں صرف تعلیم کی محرومی کی وجہ سے لوگ دہشت گرد بنے اور پاکستان کی دشمنوں نے بڑی مہارت سے
اُن کی برین واشنگ کر کے اپنی انگلیوں پر نچایااگر وہاں تعلیم چپے چپے پر پھیلی ہوتی تو آج صورتحال یکسرمختلف ہوتی ۔صرف فاٹا ہی نہیں سند ھ کے دیہی علاقوں میں ہاریوں کے لیے تعلیم کے دروازے بند ہیں اور یوں سندھی وڈیرے نسل در نسل اُن پر حکمرانی کرتے چلے آ رہے ہیں اسی طرح بلوچستان کے بھی ایسے کافی علاقے ہیں جہاں علم اورتعلیم کو انسان کا دشمن تصور کیا جاتا ہے وہاں بھی عورت کے لیے تعلیم حاصل کرنا اپنی جان جوکھوں میں ڈالنا ہے پنجاب کے دہیی علاقوں کی صورتحال بھی دوسرے صوبوں سے مختلف نہیں یہاں بھی پرائمری کے بعد عورت کا مزید پڑھنا معیوب سمجھاجاتا ہے۔
حکومت وقت کے لیے اس سلسلے میں ایک کڑا امتحان ہے کہ وہ تعلیم کی اہمیت کے لیے کیا کرتی ہے صرف سڑکیں بنانے اور دیگر نمود و نمائشی چیزیں بنانے سے ملک ترقی نہیں کرتے بلکہ تعلیم کومعاشرے میں عام کرنے سے ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے ۔
یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیامیں چایلڈ لیبر میں دوسرے نمبر پر ہے پاکستان میں تقریبا 5.5 ملین کے قریب بچے پڑھنے لکھنے سے محروم ہیں جو ہوٹلوں مختلف کارخانوں اور بھٹوں پر مزدوری کر رہے ہیں اور یوں جن بچوں کے ننھے منھے ہاتھوں میں کتابیں اور قلم ہونا چاہیے اُن کے ہاتھ میں گارا اور مٹی ہے اس سے بڑی بدقسمتی اور ظلم کیا ہو سکتا ہے جہاں بچے پیدا ہوتے معاشی تنگدستی کی وجہ سے مزدور بنا دیا جاتے ہیں جن کی زندگی مزدوری کرتے گزر جاتی ہے ۔

یوں تو پنجاب حکومت نے شرح خواندگی کو بڑھانے کے لیے مختلف پروجیکٹ شروع کیے ہوئے ہیں جن میں اس وقت چھ کے قریب پروجیکٹ اپناکام خوش اسلوبی سے کر رہے ہیں یہ پروجیکٹ لاٹریسی نان فارمل ایجوکیشن کے ادارے کے زریعے چل رہے ہیں جو خاطر خواہ نتائج بھی دے رہے ہیں ۔
اسی طرح پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی اس قسم کے پروجیکٹ چلانے کی اشد ضرورت ہے تا کہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھ لکھ کر اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں ۔
پاکستان میں جب علم ہر گھر کی دہلیز پر پہنچ جائے گا وہی دن پاکستان کی سلامتی او رامن کی بہت بڑی نوید ثابت ہو گا ۔ مسلم شریف میں ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص علم کے لیے سفر کرے تو الله تعالیٰ اُس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دے گا ۔
حضرت حسن بصری نے فرمایا۔علم کا ایک باب سیکھنا اور اُس پر عمل کرنا دنیا اور دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے۔لہذا انسانیت کی راہنمائی اور اُس کی حقیقی ذہنی نشوونما کے لیے موجودہ حالات میں ہر صاحب علم پر لازم ہے کہ وہ اپنے اپنے حصے کا چراغ جلاتا جائے تا کہ اُس کی روشنی سے تاریک ذہنوں میں علم کی شمع جل اُٹھے ۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-30

(3) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     بابر سلیم نایاب

بابر سلیم نایاب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-