بند کریں
پیر مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حج پالیسی برائے حج 2014ء کیلئے تجاویز
حج کانفرنس کا انعقادوزارتِ مذہبی اْمورکے قیام سے لے کر 2004ء تک ہر سال حج کانفرنس کر کے حج سے متعلقہ اداروں سے تجاویز لے کر انہیں حج پالیسی کا حصہ بنایا جاتا رہا ہے

بابو عمران قریشی:
وزارتِ مذہبی اْمور کے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف صاحب کے اعلان کی مطابق حج 2014ء کے لئے حج پالیسی کا اعلان جنوری 2014ء میں کر دیا جائے گا۔حج کانفرنس کا انعقادوزارتِ مذہبی اْمورکے قیام سے لے کر 2004ء تک ہر سال حج کانفرنس کر کے حج سے متعلقہ اداروں سے تجاویز لے کر انہیں حج پالیسی کا حصہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ابتداء میں بین الاقوامی پھر قومی اور آخر میں علاقائی کانفرنسیں منعقد ہوتی رہیں۔

ان کانفرنسوں کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ ایک کام کرنے کے لئے بہت سارے لوگ کوشاں رہتے تھے جس کا نتیجہ حاجیوں کے حق میں بہتر ثابت ہوتا تھا۔ حج کے بعد شکایات تو اس وقت بھی ہوتی تھیں لیکن آٹے میں نمک کے برابر ہوتی تھیں۔ جب سے حج پالیسی وزارتِ مذہبی اْمور کے کانفرنس روم میں بیٹھ کر بننی شروع ہوئی ہے حج کے بعد شکایات کے انبار لگنے شروع ہو گئے ہیں۔
(تجویز)ماضی کی طرح قومی حج کانفرنس منعقد کی جائے۔ کانفرنس کے انعقاد پر اخراجات کا فکر کم اور اس کی افادیت کا زیادہ خیال رکھا جائے۔ کانفرنس میں امسال حج پر جانے والے حاجیوں کے علاوہ علمائے کرام، دانشوروں، تمام ائیر لائنز کے نمائندے، مئوسسہ جنوبی ایشیاء، سعودی وزارتِ حج، ڈائریکٹر جنرل جدہ، ڈائریکٹر مکہ، ڈائریکٹر مدینہ، مالیاتی ادارے، تیل سے تعلق رکھنے والے ادارے، سول ایوی ایشن، انٹی نارکوٹیکس، ایف آئی اے، ا ے ایس ایف،کسٹم، مرد و خواتین ماسٹر ٹرینزز، گروپ آرگنائزرز، تمام حاجی کیمپوں کے ڈائریکٹرز کے علاوہ حج سے متعلقہ دیگر ادارے، ایجنسیاں، حج مشن مکہ اور مدینہ منورہ اور سعودی سفیر کو شریک ہونے کی دعوت دی جائے۔
اور حج پالیسی کا اعلان وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف قومی حج کانفرنس کریں (حاجیوں کی تعداد) گزشتہ سال حاجیوں کی کل تعداد تقریباً 1,45,000(ایک لاکھ پینتالیس ہزار) مقرر تھی جس میں تقریباً 90,000(نوے ہزار) گورنمنٹ سکیم اور تقریباً 55,000(پچپن ہزار) پرائیویٹ سکیم کے تھے۔گورنمنٹ سکیم کے تحت پہلے آؤ پہلے پاؤ کے تحت درخواستوں کی وصولی ہوئی۔
(تجویز)گورنمنٹ سکیم کی تعداد کم از کم 100,000(ایک لاکھ) اور پرائیویٹ سکیم کی 70,000(ستر ہزار) مقرر کی جائے اور ٹور آپریٹرز کے درمیان اس کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔
(تجویز)وی آئی پی کوٹہ ختم کیا جائے تا کہ حقداروں کی حق تلفی نہ ہو۔ وی آئی پی کوٹہ ایک قسم کی سیاسی رشوت ہوتی ہے۔ یہ کوٹہ ختم کر کے ان لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جائے جو پیسے دے کر حج کرتے ہیں اور جن کی کوئی سفارش نہیں ہوتی۔گورنمنٹ سکیم اور پرائیویٹ سکیم کا موازنہ)بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ گورنمنٹ سکیم کی نسبت پرائیویٹ سکیم میں سہولتیں بہت زیادہ ہیں اس لئے لوگ گورنمنٹ سکیم کی نسبت پرائیویٹ سکیم کو پسند کرتے ہیں کہ گورنمنٹ سکیم میں سہولتیں نسبتاً کم ہیں لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے۔
جّدہ سے لے کر واپس جّدہ تک معلم، ٹرانسپورٹ اور خیموں کا نظام یکساں ہے۔ صرف رہائشی انتظامات ٹور آپریٹرز خود کرتے ہیں جبکہ گورنمنٹ سکیم والوں کے لئے وزارتِ مذہبی اْموروالے کرتے ہیں۔اخراجاتِ حج گورنمنٹ سکیم کے کم اور پرائیویٹ سکیم کے زیادہ ہوتے ہیں اور بعض اوقات ڈبل سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ گورنمنٹ سکیم میں دوبارہ حج کرنے پر پابندی ہوتی ہے جبکہ پرائیویٹ سکیم میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔
محرم کے معاملے میں بھی زیادہ چھان بین پرائیویٹ سکیم میں نہیں ہوتی جبکہ گورنمنٹ سکیم میں حقیقی محرم نہ ہوتو اجازت نہیں ہوتی۔ گورنمنٹ سکیم میں صرف اصل اخراجات وصول کئے جاتے ہیں مگر پرائیویٹ سکیم میں متفرق اخراجات بھی عازمینِ حج سے وصول کئے جاتے ہیں۔ گورنمنٹ سکیم میں واجباتِ حج محفوظ ہوتے ہیں جبکہ بعض ٹور آپریٹرز واجبات وصول کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔

(تجویز)ٹور آپریٹرز کو اصل اخراجات اور متفرق اخراجات اور کچھ منافع کے علاوہ انتہائی مہنگا پیکیج منظور نہ کیا جائے وگرنہ حج بالکل کمرشل ہو جائے گا۔(کل واجباتِ حج) گزشتہ سال کل واجباتِ حج اسلام آباد اور دیگر شہروں سے 2,95,000(دو لاکھ پچانوے ہزار) سے لیکر 4,21,000(چار لاکھ 21 ہزار) روپے اور کراچی ، کوئٹہ اور سکھر سے 2,85,000(دو لاکھ پچاسی ہزار) سے لیکر 4,11,000(چار لاکھ 11 ہزار) روپے تھے۔
(تجویز) وفاقی وزیر مذہبی اْمور کے اعلان کے مطابق حج 2014ء کے لئے صرف ایک ہی کیٹیگری رکھی جائے گی لہٰذا کوشش کی جائے کہ مذکورہ کیٹیگری میں عوام دوست حج واجبات مقرر کئے جائیں جو عوام کی دسترس میں ہوں۔ لہٰذا واجباتِ حج امسال کی وائیٹ کیٹیگری 300,000(تین لاکھ ) روپے سے بڑھنے نہ پائیں۔
(قیام کی مدت )گزشتہ سال قیام کی مدت 42 دن مقرر تھی۔ 12 ذوالحجہ سے لے کر 20 ذوالحجہ تک حاجیوں کو مکہ مکرمہ ٹھہرایا گیا یعنی تقریباً ایک ہفتہ حج ختم ہونے کے بعد مدینہ پاک بھیجا گیا۔
اکثر حجاج عرصہ قیام سے اْکتا جاتے ہیں۔ اور حج فئیر اور عام فئیر کا ڈیفرنس یا زیادہ کرایہ ادا کر کے واپس آتے ہیں۔بعض کے پاس روزمرہ کے اخراجات ختم ہو جاتے ہیں اس لئے جلدی واپس آنا چاہتے ہیں۔(تجویز)قیام کی مدت 35دن مقرر کی جائے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکتاہے کہ ائیرلائنز تعاون کریں۔ اور ڈیپارچر شیڈول اس طرح تیار کیا جائے کہ حج کے فوراً بعد مدینہ روانگی ممکن ہو سکے۔
جو حجاج کسی مجبوری کے باعث اس سے بھی کم عرصہ میں واپس آنا چاہیں اْن کے لئے شارت پیکیج تیار کیا جائے اور زائد کرایہ چارج نہ کیا جائے۔(تجویز)ڈائریکٹ مدینہ والوں کی واپسی بھی مدینہ سے ہو۔ واپسی پرجّدہ ائیرپورٹ پر پروازیں لیٹ اس لئے ہوتی ہیں کہ مدینہ ائیرپورٹ کا بوجھ بھی جّدہ ائیر پورٹ پر پڑ جاتا ہے۔ اس لئے ڈائریکٹ مدینہ والوں کی واپسی بھی مدینہ پاک سے ہونی چاہیے۔
ایسا سعودی ائیرلائنز بآسانی کر سکتی ہیں۔(حج ائیر فئیر / کرایہ ) پی آئی اے کو اس سال حج فئیر نہ بڑھانے دیا جائے، کیونکہ پی آئی اے کے حج فیئر بڑھنے سے دوسری ائیر لائنز کے کرائے بھی خود بخود بڑھ جاتے ہیں حالانکہ اْن کی طرف سے ایسی کسی خواہش کا اظہار نہیں کیا جاتا۔ کرایوں میں اضافہ ہونے سے لامحالہ حج اخراجات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
دوسرا کبھی ایک طرف سے خالی آنے اور کبھی تیل مہنگا ہونے کا بہانہ بنا کر ہر سال کرایوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ بھارت کا حج فئیر کم۔ لندن اور امریکہ کا فاصلہ زیادہ کرایہ کم اور مذہبی تہوراوں پر دوسری ائیر لائینوں کی طرح خصوصی رعائیت وغیرہ مثالیں دینے سے بھی کچھ اثر نہیں پڑتا۔کرایہ امسال کے کرائے سے زیادہ نہ ہو اور شارٹ سٹے کا کرایہ بھی اتنا ہی ہونا چاہیے۔

(تجویز)امسال دیگر ائیرلائنز کے حج ااپریشن میں شامل ہونے سے پی آئی اے اور سعودی ائیر لائین پر ماضی کی طرح زیادہ بوجھ نہیں پڑا۔ عموماً عین حج پالیسی منظور ہوتے وقت وزارتِ دفاع کرائے کم کرنے۔ قیام کی مدت کم کرنے اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کی مخالفت کرتی ہے جس سے حج پالیسی کے مسودہ میں تبدیلی کر دی جاتی ہے۔ اس دفعہ اللہ کے مہمانوں کا مفاد عزیز رکھتے ہوئے ایسی کسی کوشش کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔
(چارٹر جہاز۔زائد سامان کا کرایہ )حج فلائیٹس کے لئے جب جہاز چارٹر کئے جاتے ہیں تو پورے جہاز کا کرایہ وزارتِ مذہبی اْمورحاجیوں سے وصول کر کے ائیر لائنز کو ادا کرتی ہے۔ واپسی پر حاجیوں کے زائد سامان کا کرایہ ائیر لائنزالگ وصول کرتی ہیں حالانکہ یہ اْن کا حق نہیں ہوتا۔ (تجویز)زائد سامان کا کرایہ وزارتِ مذہبی اْمور کے پلگرم ویلفئیر فنڈ میں جمع ہونا چاہیے اور جیبیں بھرنے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے(رہائشی انتظامات )شروع میں عازمینِ حج خود پہنچ کر رہائشوں کا بندوبست کرتے تھے۔
بعد ازاں معلمین اپنے حاجیوں کے لئے رہائشوں کا انتظام کرتے تھے۔ اس کے بعد پاکستان سے جا کر رہائشی کمیٹی ہائیرنگ کرتی تھی۔ گزشتہ چھ سالوں سے حج مشن کی رہائشی کمیٹی انتظام کرتی ہے۔ جب سے حج مشن نے انتظام کرنا شروع کیا ہے رہائشیں حرم سے دور سے دور تر ہوتی جا رہی ہیں۔ کبھی جبلِ عمر کی رہائشوں کا انہدام۔ کبھی شامیہ محلہ کی رہائشوں کے انہدام کا بہانہ بنا کر مکانات حرم سے دور اور مہنگے تر ہوتے جا رہے ہیں۔
حج 2013ء میں تو حد ہی کر دی گئی۔ کدئی العزیزیہ میں مکانات ہائیر کئے گئے۔ کرایہ بھی کئی گنا زیادہ تھا۔ حالانکہ حرم کے قریب کم کرایہ کے مکانات خالی رہ گئے جس کا فائدہ دیگر ممالک نے اْٹھایا اور بعد میں جا کر اپنے حاجیوں کے لئے نزدیک اور کم کرائے کی رہائشیں ہائیر کیں۔(تجویز)مکہ مکرمہ حرم سے نزدیک رہائش کا کرایہ 4,000(چار ہزار) ریال سے زیادہ ہر گز نہیں ہونا چاہئیے اور ایک ہی کیٹیگری مقرر کی جائے۔
مکانات متعلقہ مکاتب کی معرفت ہائیر کرائے جائیں۔ شکایات کی صورت میں اْن پر جرمانے کئے جائیں۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو چھ سال پہلے کی طرح غیر جانبدار رہائشی کمیٹی تشکیل دے کر بھیجی جائے۔ مکانات مقامی حج مشن تلاش کرے اور حتمی منظوری رہائشی کمیٹی دے۔ اگر اس تجویز پر عمل کیا جائے تو یقینا مکانات حرم سے قریب بھی ملیں گے اور کرائے بھی کم ہوں گے۔
مڈل مین کی بجائے براہ راست مالکان سے مکانات کرائے پر لئے جائیں۔ ہائیرنگ کا کام ابھی سے شروع کر دیا جائے کیونکہ ڈائریکٹر جنرل کے پاس پہلے سے فنڈز موجود ہوتے ہیں۔ان میں سے اخراجات پورے کر کے پہل کی جائے اور فنڈز کا انتظار نہ کیا جائے۔ بروقت ہائیرنگ سے کرایہ بھی کم ہو گا اور حرم سے نزدیکی بھی ہو گی۔العزیزیہ اور کدئی محلوں کی بجائے حرم کے قریبی محلوں میں مکانات ہائیر کئے جائیں۔
بے شک وہ عمارتیں چھوٹی ہوں اور زیادہ آسائشوں والی نہ ہوں۔ بہر کیف حرم کی قربت کو اولیت دی جائے باقی سہولتیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔فرشی گدے کی اجازت حاصل کی جائے۔ رہائشیں قریب ہائیر کرنے سے حاجی خوش ہوتے ہیں اور یہ حج پالیسی کی کامیابی کا سبب ہوتا ہے۔ کرائے زیادہ ہونے اورفاصلے زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پلنگ والی رہائشیں اگر حرم کے نزدیک ہائیر کی جائیں تو کرایہ زیادہ ادا کرنا پڑتا ہے البتہ رہائشیں کھلی ہوتی ہیں۔
پاکستانی حاجی چونکہ زیادہ تر دیہات سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ رہائشیں نزدیک ہوں بے شک پلنگ کی بجائے فرشی گدے ہوں۔ اس کے لئے سعودی وزارتِ حج سے خصوصی اجازت لے کر گدے والی رہائشیں ہائیر کی جائیں۔(تجویز)کوسٹر سروس بھی بری طرح ناکام ہو گئی تھی۔ اؤل تو ان کی تعداد کم تھی دوسرا ملتی ہی نہیں تھیں۔ حاجیوں نے دن رات طواف اور عبادت کے لئے آنا ہوتا تھا جبکہ کوسٹر صرف نماز کے اوقات میں چلتی تھیں۔
دوسرا حج کے ایام میں حرم سے دور اْتار دیتے تھے کیونکہ آگے جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔آئندہ ٹرانسپورٹ والی رہائشیں ہائیر نہ کی جائیں۔ اگر ناگزیر ہو تو خدام الحجاج کو مانیٹرنگ کے لئے مقرر کیا جائے۔(ٹرانسپورٹ)مکہ سے منیٰ۔ منیٰ سے عرفات۔ عرفات سے مزدلفہ۔ مزدلفہ سے منیٰ اور منیٰ سے مکہ کے لئے ٹرانسپورٹ کا کرایہ 180 ریال اور مونو ریل کا کرایہ 300 ریال کاٹا جاتا ہے۔ باقی مقامات کے لئے تو ٹرانسپورٹ کسی نہ کسی طریقہ سے مل جاتی ہے مگر مذکورہ مقامات کے لئے صرف 50 فیصد حاجیوں کو ملتی ہے۔ اور باقی یا تو پیدل سفر کرتے ہیں یا پھر زائد کرایہ دے کر پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-20

(3) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان