بند کریں
منگل مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گھریلو ملازمین پر تشدد
اب یہ خرابی عام ہوتی جارہی ہے گھروں میں ملازم کے طور پر کام کرنے والے یہ بچے انتہائی غربت زدہ ماحول سے آتے ہیں۔ اس لئے چند روپوں کیلئے دردر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں
مصنف : سید بدر سعید
گزشتہ کچھ عرصہ سے گھریلو ملازمین پر تشدد کے حوالے سے خبریں میڈیا پر آرہی ہیں مختلف واقعات میں نہ صرف یہ کہ ملازمین پر تشدد کیا گیا بلکہ کئی واقعات میں تو تشدد کی وجہ سے ملازمین دنیا سے کوچ بھی کر گئے۔ عام طور پر غریب لوگ اپنے بچوں کو دیہات سے شہر کام کاج کیلئے بھیج دیتے ہیں۔ ایسے ملازمین رکھنا اب امارت کی علامت بن چکا ہے۔ کم عمر بچے وار بچیوں کو کوٹھی یا بنگلے کے کسی کونے میں سر چھپانے کی جگہ فراہم کردی جاتی ہے ایسے بچے 24گھنٹے کے ملازم ہوتے ہیں۔
ہر ماہ ا‘ن کی تنخواہ اُن کے گھر بھیج دی جاتی ہے۔ اُن کے حصے میں دو وقت کی روٹی ، چھت اور مالکان کی جھڑکیوں کے سوا کچھ نہیں آتا۔ ایسے گھرانوں کی کمی نہیں جو اپنے ملازمین سے اچھا برتاؤ کرتے ہیں اور ا‘ن پر اضافی بوجھ نہیں ڈالتے ۔ دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو ان بچوں پر نہ صرف تشدد کرتے ہیں بلکہ کولہو کے بیل کی طرح مسلسل کام میں مصروف رکھتے ہیں۔
اکثر اوقات ا‘ن کے والدین کو بھی اُن سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
گھروں میں ملازم کے طور پر کام کرنے والے یہ بچے انتہائی غربت زدہ ماحول سے آتے ہیں۔ اس لئے چند روپوں کیلئے دردر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں اور پھر کسی ایک گھر میں کل وقتی ملازم کے طور پر رہنے لگتے ہیں۔ ہم اسے چائلڈ لیبر کہیں یا غلامی لیکن سچ یہ ہے کہ ہمارے ہاں چائلڈ لیبر کے حوالے سے سرگرم بعض نام نہاد این جی اوز کی کرتا دھرتا بھی اپنے گھروں میں ایسے ہی بچوں سے کام کاج کے نام پر مشقت لینے میں مصروف ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں پر تشدد کی خبر منظر عام پر نہیں آتی اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں عموماََ گھر سے باہر جانے کی اجازت ہی نہیں ہوتی نہ ہی کسی کو اُن سے ملنے کی اجازت ہوتی ہے۔ پھر انہیں نہ تو اپنے حقوق کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی کسی قانونی کارروائی کا۔ مالکان سے کسی قسم کی شکایت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ایسی صورت میں نوکری ختم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
ایسے واقعات بھی ریکارڈ پر ہیں جن کے مطابق مالکان کے گھریلو ملازم پر تشدد سے اُس کے جاں بحق ہونے کی اطلاع گاؤں فون کر کے دے دی اور گر والوں کے آنے سے پہلے ہی معصوم ملازم کو دفن بھی کردیا کہ تشدد کا پول نہ کھلے۔ گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات منظر عام پر اُسی صورت آتے ہیں جب تشدد کے بعد حالت بگڑنے پر انہیں ہسپتال لایا جائے یا پھر اُن کی موت ہوچکی ہو۔
عموماََ با اثر اور دولت مند مالکان سزا سے بچ جاتے ہیں کیونکہ یا تو قانون کے محافظوں کا منہ نوٹوں سے بھر دیا جاتا ہے یا پھر ڈرا دھمکا کر اُن بچوں کے وارثوں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے ایسی قانون سازی کی جائے جس سے جبری مشقت اور کم عمر بچوں کو ملازم رکھنے کا سلسلہ ختم ہوسکے۔ اسی طرح ملازمین پر تشدد کے خلاف بھی موثر قانون سازی ہونا ضروری ہے۔

اس ساری صورتحال کا ایک اور رُخ بھی ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کم عرم بچے بطور ملازم گھروں میں کام کرنے پر کیوں مجبور ہوتے ہیں۔ہزار قوانین کے باوجود جب تک اصل وجہ کو درست نہیں کیا جائے گا تب تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہو پائے گا۔ جب تک معاشرے سے غربت کا خاتمہ نہیں ہوگا یا کوئی ایسا نظام متعارف نہیں کرایا جائے گا جس کے تحت یہ بچے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی ذریعہ آمدنی میں اضافہ کا باعث بنیں تب تک غریب اور مجبور لوگ اپنے بچوں کو یونہی ملازمت کے نام پر مشقت کے جنگل میں دھکیلتے رہیں گے۔
غربت زدہ گھرانوں کے یہ ننھے پھول چوبیس گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مالکان کا علم ہوت ہے کہ اُن کے پیچھے آنے والا بااثر شخص کوئی نہیں ہے اسی طرح انکے وارثوں کو بھی علم ہوتا ہے کہ وہ اِن رئیس زادوں سے ٹکڑ نہیں لے سکتے۔ غربت اور احساس محرومی کی وجہ سے ان بچوں کی تربیت ویسی نہیں ہوپاتی جیسی ہونی چاہئے۔ اس لئے ان میں سے کچھ غلط روش پر بھی چلنے لگتے ہیں اور پھر جوانی کی دہلیز پر پہنچ کر جرائم پیشہ افراد کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔

گھریلو ملازمین پر تشدد انتہائی افسوس ناک عمل ہے لیکن دوسری طرف ملازمین کی تربیت بھی ضروری ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر گھروں میں کام کاج کرنے والوں میں چوری کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں کم تنخواہ ، مہنگائی اور غربت کے ساتھ ساتھ لالچ اور مالکان سے کسی بات کا انتقام لینا بھی شامل ہے۔ ایسی وارداتیں ہونے لگیں تو بعض اوقات کوئی ایسا نقصان بھی ہوجاتاہے جس سے وقتی اشتعال غالب آجاتا ہے، اس لیے ایسے حادثات میں کسی ایک فرقی کو ذمہ دار ٹھہرانا بھی درست نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں قانونی طور پر نہ صرف یہ کہ کم از کم تنخواہ مقرر کی جائے اور ملازمین کے حقوق کی پابندی لازمی بنائی جائے وہیں ملازمین پر کوئی جرم ثابت ہونے پر انہیں اور ان کے ضمانتی افراد کو کٹہرے میں لایا جائے۔ ملازمین پر تشدد خصوصاََ اُن کا قتل سنگین جرم ہے جو ہمارے معاشے کے بے حصی اور ہیجان خیزی کی عکاسی کرتاہے۔ اس مسئلہ پرقابو پانے کیلئے قانون کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ایک اچھا معاشرہ قائم ہوسکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-22

(4) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-