بند کریں
جمعرات مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈرپ آبپاشی ترقی کا سفر
چولستان کا وہ صحرا جہاں چند ایک جنگلی جھاڑیاں ہی پانی کے بغیر خشک ہوا کے تھپیڑوں اور دھوپ کی تاب لا سکتی ہیں وہاں پچھلے پانچ ماہ سے مالٹے کے پودے نشو نما پا رہے ہیں
تحریر۔ چودھری محمد اشرف ، عبدلرزاق بروہی:
انسانی تاریخ میں جتنی ترقی اور تبدیلی آئی ہے اس کی وجہ انسانی سوچ اور کچھ کر گزرنے کی لگن ہے۔ اسی سوچ اور لگن نے بہت سے ناممکنات کو ممکن بنا دیا۔ ایسا ہی ایک شا ہکار یزمان کے صحرا 66-DB میں دیکھا جاسکتا ہے جہاں کے رہائشی بابا امان اللہ نے محکمہ زراعت کی مدد سے چولستان کے صحراء میں مالٹے کے باغ کی بنیاد رکھی۔
چولستان کا وہ صحرا جہاں چند ایک جنگلی جھاڑیاں ہی پانی کے بغیر خشک ہوا کے تھپیڑوں اور دھوپ کی تاب لا سکتی ہیں وہاں پچھلے پانچ ماہ سے مالٹے کے پودے نشو نما پا رہے ہیں۔ اور یہ صرف ڈرپ آبپاشی کے زریعے ممکن ہوا۔ بابا امان اللہ کا کہنا ہے کہ:
''یہ صحرا ہے ادھر خشکی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا، مگر ڈرپ آبپاشی نے کمال کر دیاہے۔ اس کی مدد سے مالٹے کا باغ لگایا ہے اور پودے اچھی نشو نما پا رہے ہیں۔
ان پودوں کے ساتھ ہم نے خربوزے کے بیج بھی ڈالے تھے انکی نشو نما بھی بہت اچھی ہوئی ''
تا حد نگاہ پھیلے صحرائی ٹیلوں کے درمیان دس ایکڑ پر لگے مالٹے کے پودے اور تربوز کی بیلیں مستقبل کے نخلستان کی پیش گوئی کرتے ہیں اور ہر گزرنے والے کو رکنے اور ایک لمحے کے لئے سوچنے پر ضرور مجبور کر دیتے ہیں۔ بابا امان ا للہ نے بھی ہر آنے والے کو خوش آمدید کہتے کہتے ہوئے اانکی خاطر تواضع خربوزوں سے کی۔

'' یہاں میلہ سا لگا رہتا ہے بہت لوگ دیکھنے آتے ہیں، پہلے لوگ یقین نہیں کرتے تھے کہ یہاں اتنی گرمی میں پودے بچ جائیں گے مگر اب سخت گرمی کا موسم گزار لیا ہے اگلی گرمیوں تک پودے بڑے اور مضبوط ہو جائنگے۔ہم نے ہر آنے والے کو یہاں کے خربوزے کھلائے۔ مالٹے کا باغ تو تین سالوں میں تیار ہوگا اگلے سال ہمارا خربوزے کی فصل بیچنے کا ارادہ ہے''
ڈرپ آبپاشی میں پانی، مزدوری اور کھادکی بہت زیادہ بچت ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ہر طرح کی نا ہموار زمین کے لئے انتہائی موضوع طریقہ ء آبپاشی ہے۔
اس کا استعمال زمین کی سطح ہموار کیے بغیر باٰٰآ سانی کیا جا سکتا ہے۔اس میں پانی لگانے کا طریقہ بھی بہت آسان ہے۔
'' اس صحرا میں کسی طریقے سے بھی آبپاشی کا تصور نہیں کیا جا سکتا یہاں زمین ٹیلوں کی شکل میں ہے اور لفٹ اریگیشن سے بھی پانی نہیں دے سکتے۔ اگر ایک ایکڑ دوگھنٹے میں سراب ہوتا ہو تو یہاں دو گھنٹے میں ایک کنال بھی سراب نہیں ہوگا جبکہ ہم اس گرمی میں بھی روزانہ صرف 1 1/2 گھنٹے میں سارے پودوں کو پانی پلا دیتے ہیں''
ڈرپ آبپاشی میں پانی ایک ٹینک میں سٹور ہوتا رہتا ہے اور بوقت ضرورت قطروں کی صورت میں استعمال میں لایا جاتا ہے جو براہ راست پودے کی جڑوں میں جاتے ہیں۔
جبکہ بقایا پانی ٹینک میں ہی محفوظ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاشتکار ڈرپ آبپاشی سے مطمئن اور خوش دکھائی دیتے ہیں۔
'' ہمیں اگر2 گھنٹے کا نہری پانی ملے تو اس سے آٹھ دن ان پودوں کو پانی دے سکتے ہٰیں۔ ابھی یہ پودے چھوٹے ضرور ہیں مگر گرمی کی شدت بھی کافی ہے جس کی وجہ سے پانی کا استعمال کافی ہوتا ہے۔ پھر بھی روایتی طریقہء آبپاشی سے بہت کم پانی استعمال ہوتا ہےٓ''
ڈرپ آبپاشی کی مدد سے ریگستان میں آنے والی یہ خوشگوار سرسبز تبدیلی زراعت کے میدان میں انقلاب برپا کر سکتی ہے اور اس سے 2 1/2 لاکھ ایکڑ پر مشتمل چولستان کے صحراء کو سرسبز باغات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-05

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان