بند کریں
بدھ مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ
انگریز دور کی بنائی ہوئی پاکستانی جیلیں اب قیدیوں کیلئے آسودگی ، تربیت اور اصلاح کے مراکزکا روپ دھار رہی ہیں۔یہ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ اس حقیقت کا نظارہ آج بھی ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں پاکستان کا ہر شہری اپنی آنکھوں سے کرسکتا ہے
سلطان حمید راہی/ڈاکٹر جمیل اختر:
انگریز دور کی بنائی ہوئی پاکستانی جیلیں اب قیدیوں کیلئے آسودگی ، تربیت اور اصلاح کے مراکزکا روپ دھار رہی ہیں۔یہ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ اس حقیقت کا نظارہ آج بھی ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں پاکستان کا ہر شہری اپنی آنکھوں سے کرسکتا ہے عام طور پر ایک پاکستانی جیل کا تصور یہ ہوتا ہے کہ ایسا عقوبت خانہ جہاں نہ تو کھانا بہتر ملتا ہو نہ لیٹرین کا بہتر بندوبست ہو۔
نہ رہائش اور سونے کا معقول انتظام ہو، نہ تعلیم ومطالعہ کا بہتر ذریعہ ہو،نہ دستکاری اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولت میسرہو ، نہ ہی ڈاکٹر کی خدمات حاصل ہوں اور نہ ہی علاج کیلئے ادویات میسر ہوں۔لیکن ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ کے سپرنٹنڈنٹ چودھری اصغر علی نے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کی خصوصی ہدایت اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات کی نگرانی میں پنجاب کی جیلوں کے متعلق اس سارے تاثر کو یکسر غلط ثابت کردیا ہے اور یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ کوئی بھی ذمہ دار سرکاری افسر اگر اپنے زیرقلم محکمہ یاادارہ میں بہتری پیدا کرناچاہے تو کرسکتا ہے البتہ سسٹم کی خرابی اور وسائل کی عدم دستیابی کا رونا رو کر اپنے فرائض سے چشم پوشی محض ایک ڈھونگ اور بہانہ تراشی ہے۔
اب سپرنٹنڈنٹ جیل شیخوپورہ چودھری اصغر علی کا یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی نظر آتا ہے کہ اس جیل میں بند قیدیوں کو جبر وتشدد کا ماحول نہیں بلکہ اب وہ ویلفیئر اور حفاظت کے حصار میں رہ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جیل میں سکول کو باقاعدہ ایک سکول کی شکل دینے کیلئے سلاخیں ہٹا دی گئی ہیں ،دیواروں پر خوش نماسن رائزنگ پیٹنگز بنا دی گئی ہیں۔
جس سے اس میں پڑھنے والے قیدیوں کو قید کا احساس نہیں رہتا بلکہ اب ان کے دماغ تعلیم کے حصول پر آماد ہ نظرآتے ہیں۔ اس سے قبل کبھی بھی جیل سکول میں صبح کی اسمبلی نہیں ہوئی تھی اب سکول کے اوقات کی ابتدا ہر روز باقاعدہ اسمبلی سے ہوتی ہے قرآنی آیات کی تلاوت ہوتی ہے ،خوبصورت نظمیں پڑھی جاتی ہیں۔اس سکول میں 40 قیدی بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ایک قیدی جو کہ ”او لیول“ ڈگری ہولڈر ہے وہ تمام بچوں کو پڑھاتا ہے اور ان کو شارٹ کمپیوٹر کورسز بھی کروائے جارہے ہیں۔
بعض بچے ان کورسز میں ماہر ہوچکے ہیں جبکہ کچھ ابھی زیر تربیت ہیں۔جو قیدی بچے پڑھائی نہیں کرناچاہتے ہیں ان کو فرنیچر سازی اور ٹیلرنگ کی تربیت دی جاتی ہے اسی طرح جیل میں قید کل 33 خواتین میں سے 15 خواتین باقاعدہ سکول میں تعلیم حاصل کررہی ہیں جبکہ باقی خواتین ووکیشنل ٹریننگ حاصل کررہی ہیں۔
سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ چودھری اصغر علی نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی بتایا کہ جیل میں صرف کمپیوٹر یا روایتی تعلیم ہی نہیں دی جاتی ہے بلکہ مذکورہ جیل میں اسلامی تعلیمات کیلئے الگ سے اساتذہ کی تقرری کی گئی ہے جو مختلف بیرکوں میں جاکر قیدیوں کو اسلام کے بنیادی ارکان اور ایک مسلمان کے حقوق وفرائض سے متعلق باقا عدگی سے درس دیتے ہیں۔
اسی طرح ہفتہ وار بزم ادب کا انعقاد بھی کروایا جاتا ہے ،مختلف ورکشاپس اور سیمینارز کے ذریعے قیدیوں کی اخلاقی وذاتی تربیت بھی کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 14 اگست کو تحریک پاکستان سے متعلق اور6 ستمبر کو ”دفاع پاکستان“ کے حوالہ سے جیل کے قیدیوں کووڈیو فلمیں بھی دکھائی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک فلاحی ادارہ”رہائی“ کے تعاون سے قیدیوں کو کل وقتی سکول ٹیچر، ٹیلر ماسٹر اور کارپینٹر مہیا کردئیے گئے ہیں جو کہ مسلسل انکی تربیت میں مصروف ہیں یہ سوا ل بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ یہ قیدی جیل میں رہ کر مختلف ہنر سیکھ لیں گے لیکن یہ رہائی کے بعد کہاں نوکری کریں گے اور کونسا ادارہ انہیں اپنے ہاں ملازم رکھے گا توسپرنٹنڈنٹ جیل موصوف نے اس کا حل یہ ڈھونڈا ہے کہ ایک معاہدہ کے تحت پینتھر ٹائر کمپنی کواس امر کا پابند کررکھا ہے کہ ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ کا تربیت یافتہ کوئی بھی فرد اگر ان سے ملازمت کی درخواست کریگا تو وہ نہ صرف اسے اپنے پاس ملازم رکھیں گے بلکہ اس بنیاد پر اسے عام ملازموں سے ماہانہ ایک ہزار روپے زیادہ تنخواہ بھی دیں گے۔
قیدیوں کا ذوق مطالعہ بیدار رکھنے اور انہیں اکتاہٹ اور قید کے احساس سے آزاد رکھنے کیلئے جیل لائبریری میں دلچسپی کی حامل معیاری کتب بھی رکھی گئی ہیں جو کہ قیدیوں کو بلاتخصیص مطالعہ کیلئے دی جاتی ہیں تعلیم کیساتھ ساتھ قیدیوں کی صحت کے حوالہ سے بھی حوصلہ افزا اقدامات جیل میں عملی طو رپر نظر آتے ہیں مثال کے طور پر الٹرساؤنڈ ،ای سی جی اور لیبارٹری وغیرہ کی سہولیات جیل کے اپنے 20 بیڈ ز پر مشتمل ہسپتال میں موجود ہیں۔
سپیشلسٹ ڈاکٹروں کا ہفتہ وار باقاعدہ معائنہ ہوتا ہے جو مریضوں کو دی جانیوالی سہولیات کا جائزہ لیتے ہیں اور کسی بھی قسم کی خامی یا کوتاہی کا فوری ازالہ کرتے ہیں،شفاف ترین پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب بھی کی گئی ہے جو کہ تمام قیدیوں کے روز ہ مرہ استعمال سے زیادہ پانی فراہم کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔
قیدیوں سے ملاقات کیلئے آنیوالوں کی سہولت کا بھی خاص طور پر انتظام کیا گیا ہے۔ جیل گیٹ پر واٹر کولر اور سائبان کا بہترین انتظام کیا گیا ہے۔ جیل میں پی سی او بوکس بنادئیے گئے ہیں اور ہرقیدی کو ہفتہ میں مخصوص اوقات میں اپنے عزیزوں سے بات کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ قیدی آئی جی جیل خانہ جات اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے خصوصی احکامات کے تناظر میں سپرنٹنڈنٹ چودھری اصغر علی کے انقلابی اقدامات کو تحسین بھرے الفاظ میں بیان کرتے سنائی دیتے ہیں۔ یقینی طور پر پاکستان کی ہر جیل کو انہی بنیادوں پر جدت اور سہولت سے مزین کردینا چاہیے تاکہ معاشرہ سے جرم کاخاتمہ ہوسکے اور نفرت صرف جرم سے ہو انسان سے نہ ہو۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان