بند کریں
پیر مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چلتے پھرتے بم
سی این جی اور ایل پی جی سلنڈر کا بڑھتا ہوا استعمال خطرہ بن چکا ہے۔۔۔۔ہمارے ہاں یہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے کہ آئے روز بے گنا ہ لوگ گاڑیوں میں لگے ہوئے ناقص سلنڈروں کی زد میں آکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں
غلام زہرا:
ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ میں لگائے گئے سی این جی سلنڈرز کے باعث حادثات میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ ایل پی جی کی سلنڈروں میں غلط طریقے سے منتقلی بھی حادثات کا سبب بنتی ہے۔ فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑیاں سڑکوں پر چل رہی ہیں ۔ بعض بڑی گاڑیوں کی چھتوں پر بھی گیس سلنڈر نصب کیے جاتے ہیں۔ رکشا ڈرائیور بنا سوچے سمجھے غیر قانونی ورکشاپس کو ترجیح دیتے ہیں ۔
اس کے علاوہ رہائشی آبادیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈر کی سرعام فلنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔
ہمارے ہاں یہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے کہ آئے روز بے گنا ہ لوگ گاڑیوں میں لگے ہوئے ناقص سلنڈروں کی زد میں آکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر پبلک ٹرانسپورٹ میں سی این جی سلنڈرز کی بجائے آکسیجن سلنڈر فٹ ہیں ۔
کراچی، پشاور، لاہور اور دیگر کئی شہروں میں سی این جی مسافر گاڑیاں، موبائل بموں، میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ میں لگے سی این جی سلنڈرز نہایت خطر ناک شکل اختیار کر چکے ہیں۔ سلنڈروں کے فٹنس سرٹیفکیٹ چیک کئے بغیر کمرشل گاڑیوں کو سی این جی کی فراہمی پر پابندی کے باوجود ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چوری چھپے سی این جی فروخت کی جاتی ہے۔

چند روز قبل شہر سے باہر جانے کا اتفاق ہوا، پٹرول مالکان نے ہڑتال کے باعث پٹرول پمپ بند کر رکھے تھے ،اُ س دن سی این جی کا بی ناغہ تھا۔ کافی انتظار کے بعد ایک وین آئی۔ مسافروں کو بٹھانے کے بعد وہ لاری اڈہ سے ملحق ایک حویلی سے وہ گیس سلنڈر اٹھالایا اور اُسے وین میں فٹ کرنے لگا، مسافروں نے واویلا مچا دیا لیکن اُس کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
بعد میں پتہ چلا کہ وہ سی این جی سلنڈر کی بلیک میں خریدو فروخت کا دھندہ بھی کرتاہے۔
”جرم اور پھر جرم“ لیکن ڈرائیور کو رتی بھر پروا نہ تھی بلکہ اُس کا کہنا تھا کہ اگر ہم ان پٹرول پمپوں ، سی این جی اور ڈیزل کی کمی بیشی اور ناغوں پررہیں تو فاقوں ہی مر جائیں۔ بھلا ہو ہمارے مالک کا جس نے ہماری روزی روٹی کا وسیلہ بنارکھا ہے۔ ڈرائیور کی ان باتوں کے بعد کسی کے پاس کہنے کو الفاظ نہ تھے۔
اسلئے کہ انہیں بھی بہر حال سفر کرنا تھا۔
ایک شخص کا کہنا تھا کہ انہیں ”چلتے پھرتے بم“ کہنا زیادہ مناسب ہے جو پیدل چلنے والوں یا مختلف قسم کی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کیلئے خطرے کی گھنٹی ہیں جو اُن کی بے وقت موت کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ بم کم وبیش ہر رکشے اور گاڑی میں موجود عوام کا تعاقب کر رہے ہیں جو گیس کی ناکارہ کٹ کی صورت میں موجود ہیں اور دورانِ سفر کسی بھی وقت اُس گیس کٹ کے پھٹ جانے سے کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کے خطرات ہر وقت سروں پرمنڈلاتے رہتے ہیں۔
رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں میں نصب شدہ غیر معیاری گیس سلنڈروں کا پتہ آسانی سے پتہ چل جاتا ہے لیکن بیشتر گاڑیاں ایسی بھی ہیں جن کی چھتوں پر سی این جی سلنڈر نصب کیے گئے ہیں اور غیر معیاری ہونے کے باعث اُس کے پھٹ جانے سے نقصان ہوتا ہے ۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں نسبتاََ یہ صورتحال زیادہ گھمبیر ہ ے۔ اب تک کئی افراد اس قسم کے حادثات کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جا چکے ہیں اور کئی معذور ہو چکے ہیں۔

گزشتہ دنوں درگئی میں سلنڈر پھٹنے سے ایک نوجوان شدید زخمی ہو گیا تھا اور اُسے اپنی ٹانگ سے محروم ہونا پڑا۔ اس ی دوران ایک اور واقعہ تخت بھائی روڈ پرہوا جس میں ٹریفک حادثے کے بعد گاڑی کا گیس سلنڈر پھٹ جانے سے آگ لگ گئی تھی جس میں ایک خاندان کے چار افراد سمیت نو جھلس گئے تھے۔
اسی نوعیت کا ایک حادثہ چند روز پہلے لاہور میں پیش آیا ایک خاتون بیٹے بیٹی سمیت کنٹونمنٹ بورڈ سے رکشے پر گھر واپس جا رہے تھے کہ رکشا ڈرائیور نے کسی دوسری گاڑی کے ساتھ ریس لگا دی۔
اسی دوران ایک اور گاڑی اوورٹیک کرتے ہوئے ٹکرا گئی جس سے گیس سلنڈر کو آگ لگ گئی ڈرائیور اور رکشے میں سوار بچے نے چلانگ لگا کر اپنی جانیں بچائیں جبکہ خاتون اور اُس کی بیٹی عروج حادثے کا شکار ہو رک جاں بحق ہو گئیں۔
ضلع شیخوپورہ کے نواحی گاوٴں میں گیس سلنڈر پھٹنے سے سات استانیاں موت کے منہ میں چلی گئی تھیں۔ حادثے کی بابت لوگوں کی مختلف آراء تھیں۔
بعد ازاں تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ وین میں نصب سلنڈر میں جلتا سگریٹ پھینکنے سے یہ حادثہ پیش آیا تھا۔ کئی سالوں سے بس چلانے والے محمد ارشد نے بتایا کہ ایل پی جی کے سلنڈروں میں غلط طریقے سے منتقلی حادثات کا باعث بنتی ہے۔ دوسرا فٹنس سرٹیفکیٹ نہ ہونے کے باوجود گاڑیوں کو سڑک پر لایا جاتاہے۔ اُس نے بتایا کہ ایک بس کی ویلڈنگ کا کام ہو رہا تھا ، ویلڈنگ کے دوران ایک شعلہ سلنڈر پر جاگرا جس سے ایک دھماکہ ہوا اور آگ لگ گئی۔
اُس کا کہنا تھا کہ اگر بس میں مسافر ہوتے تو شاید کوئی بھی زندہ نہ بچتا۔
کراچی، لاہور، گجرات ، جہلم اور دیگر کئی چھوٹے بڑے علاقوں میں سی این جی کے علاوہ ایل پی جی سلنڈر کی سرعام فلنگ جاری ہے بلکہ رہائشی علاقوں میں بھی یہ کام جاری و ساری ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ سکول وین اور بسیں بھی اس قسم کے حادثات سے محفوظ نہیں ہیں گزشتہ برس مئی میں گجرات کے علاقے میں سکول وین کا سلنڈر پھٹ جانے سے سات بچوں کی موت ہو گئی تھی۔

لاہور کے نواح میں شادی کی تقریب سے واپسی پر مسافروں سے بھری بس میں سلنڈر میں آگ لگ جانے کی وجہ سے سنگین حادثہ پیش آیا تھا جس سے متعدد مسافر ہلاک ہو گئے تھے اور شدید زخمی ہسپتال منتقلی کے بعد بھی دم توڑتے رہے۔
ریجنل ٹرانزٹ اتھارٹی کے مطابق لاہور میں 17 سرٹیفکیٹیڈ روکشاپس ہیں لیکن زیادہ تر رکشا ڈرائیور غیر قانونی ورکشاپوں کو ترجیح دیتے ہیں لاہور میں تقریباََ 70 ہزار رکشے ہیں جن پر مختلف قسم کے رجسٹرڈ نمبر ٹائپ کئے جاتے ہیں جبکہ انتظامیہ اس بارے میں کوئی بھی قدم اُٹھانے سے قاصر ہے۔
عوام میں سی این جی اور ایل پی جی کے خدشات کے پیش نظر ضروری ہے کہ ان میں شعور بیدار کیا جائے۔
ایک کاریگر نے بتایا ایل پی جی یا مائع گیس بہت ہی خطر ناک ہے معمولی سی ٹسیکیج سے آگ لگنے کا خدشہ ہوتا ہے اور اگر سلنڈر غیر معیاری ہو یا گیس کی منتقلی غیر محفوظ ہو تو پھر خوفناک دھماکہ لمحوں میں سب کچھ تہس نہس کر سکتا ہے۔
گنجان آبادیوں میں ایل پی جی کی غیر محفوظ طریقہ سے بھرائی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی کارکردگی زبانی جمع خرچ تک محدود ہے جب کہ افسران بالا کو شاید کسی سانحے کا انتظار ہے دوسری جانب ایل پی جی استعمال کرنے اور اس کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اُن کے خلاف کارروائی کی بجائے غیر معیاری سلنڈرز والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ عوامی حلقوں نے ان حادثات کا ذمہ دار نیشنل ہائی وے اتھارٹی ، موٹروے پولیس اور ٹریفک پولیس کو ٹھہرایا ہے مگر ان میں سے کوئی بھی ادارہ اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آج سے دس بارہ سال قبل جب سی این جی نہیں تھیں تو اس وقت بھی لوگ سفر کرتے تھے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں استحکام سے بھی اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں آئے روز گھروں اور سٹرکوں میں ناقص گیس سلنڈروں کے پھٹنے کے واقعات کے سدباب کیلئے حکومت کو بھی کوئی ایسا ٹھوس لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے جس پر عملدرآمد کے نتیجے میں اس آفت ناگہانی سے چھٹکارا حاصل کیاجاسکتاہے ۔ انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-25

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان