بند کریں
منگل مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بنکوں کے باہر کیش چھیننے والے گروہ سرگرم
بنک سے رقم نکلوا کر نکلنے والوں کے ساتھ واردات کرنے والوں کا ایک منظم گروہ ہوتا ہے۔عید دوسرے تہواروں ،پنشن اور تنخواہ کے ایام ان کا خصوصی ہدف ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان دنوں میں بنکوں میں رش بڑھ جاتا ہے
صابر بخاری
گزشتہ برس کی بات ہے کہ ہمارے نوائے وقت میگزین کے سینئر ساتھی مظہر حسین شیخ کے ساتھ ڈکیتی کی واردات ہوئی اور جب وہ آفس پہنچے اور ڈکیتی کی اس واردات کے بارے میں آفس کے ساتھیوں کو بتانے لگے تو پورا کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔ قابل افسوس واردات کے بعد قہقہے کی وجہ یہ تھی کہ جب مظہر حسین شیخ اقبال ٹاوٴن کے ایک بنک سے رقم نکلوا کر باہر نکلے تو کچھ فاصلے پر موٹر سائیکل سوار ڈاکووٴں نے ان کو روک لیا۔
انکے ہاتھ میں ایک شاپر تھا جس کے اندر پراٹھے تھے۔ ڈاکوانکی بنک سے ریکی کر رہے تھے وہ سمجھے شاپر میں رقم ہے،اْنہوں نے گن پوائنٹ پر شاپر چھین لیا،مظہر حسین شیخ کی خوش قسمتی کہ رقم محفوظ رہی کیونکہ انہوں نے رقم جیب میں رکھی ہوئی تھی اور ڈاکووٴں کے ہاتھ میں پراٹھے آ گئے۔ مگر بنک سے رقم نکلوا کر ڈاکووٴں کا نشانہ بننے والے اکثر افراد رقم سے محروم ہو رہے ہیں بنک سے رقم نکلوا کر جانے والوں کے ساتھ ڈکیتی کی وارداتیں معمول ہیں جس میں مزاحمت پر اکثر شہری ہاتھ سے بھی جان دھو بیٹھتے ہیں بنک سے رقم نکلوا کر نکلنے والوں کے ساتھ واردات کرنے والوں کا ایک منظم گروہ ہوتا ہے۔
عید دوسرے تہواروں ،پنشن اور تنخواہ کے ایام ان کا خصوصی ہدف ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان دنوں میں بنکوں میں رش بڑھ جاتا ہے اور لوگ شاپنگ وغیرہ کے لئے بنکوں سے زیادہ رقوم نکلواتے ہیں۔ شادی بیاہ کے سیزن اور تنخواہ پنشن نکلوانے کے دنوں میں بھی بنکوں میں خوب رش ہوتا ہے اس لیے اس طرح کی وارداتیں ان دنوں میں زیادہ ہوتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کیش چھیننے والے گینگز منظم کارروائی کرتے ہیں۔
ان میں سے کچھ بنک کے اندر اور کچھ بنک کے باہر عموماً سڑک کی دوسری طرف کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد چار سے پانچ ہوتی ہے اور اکثر یہ کار پر ہوتے ہیں۔ یہ بنک کے اندر اور باہر ریکی کرتے ہیں گروہ کے ایک یا دو بندے بنک کے اندر موجود ہوتے ہیں جو کیش ڈلیوی کو چیک کرتے رہتے ہیں یہ اکثر بنک اکاوٴنٹ اوپن کرانے یا رقم نکلوانے کے بہانے بنک میں بیٹھے ریکی کرتے رہتے ہیں جیسے ہی کوئی شخص زیادہ رقم نکلوا کر بنک سے باہر نکلتا ہے ریکی کرنے والا شخص باہر کھڑے اپنے ساتھیوں کو میسج یا کال کر کے ساری معلومات دے دیتے ہیں جو راستے میں گن پوائنٹ پریہ رقم چھین لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ ان لوگوں کے پاس انفارمیشن ہوتی ہے کہ فلاں بندے نے فلاں کو اس دن، تاریخ کو اتنی رقم پے منٹ کرنی ہے اس دوران یہ گینگ کارروائی کر کے وہ رقم چھین لیتے ہیں۔ اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے والوں کا یہ لوگ پیچھا کرتے ہیں اور ویرانے میں جا کر رقم چھین لیتے ہیں اس کے علاوہ یہ اے ٹی ایم کے اندر گھس کر گن پوائنٹ پر مطلوبہ رقم نکلوا لیتے ہیں۔
بعض نوسر باز بنکوں کے اندر سادہ لوح افراد سے کیش گننے کے چکر میں بھی کچھ رقم غائب کر دیتے ہیں۔ تھانہ ستو کتلہ کے ایک بنک میں ایک نوسر باز نے کیشئر کے سامنے سادہ لوح شخص کی رقم گننا شروع کر دی اور کچھ رقم غائب کر دی بعد میں پولیس نے بنک سے رقم واپس دلائی۔ سی آئی اے نے حال ہی میں ایک ایسے گینگ کو پکڑا ہے جو رقم نکلوا کر جانے والے شہریوں کو لوٹتے تھے۔
ڈی ایس پی سی آئی اے میاں شفقت کے مطابق گرفتار 5 رکنی گینگ میں یاسر ،حبیب ،کاشی اور دو اور افراد شامل ہیں۔ان میں سے کاشی بنک کے اندر چیک لے کر جاتا تھا کہ کیش آرہا ہے اور اس دوران وہ کاونٹر کی ریکی کرتا رہتا تھا جیسے ہی کوئی بندہ زیادہ کیش لے کر جاتا وہ گیٹ کے پاس کھڑے شخص کو میسج کر دیتا پھر وہ شخص ساری انفارمیشن روڈ پر کھڑے اپنے ساتھیو ں کو کال پر دیتا۔
ان کے ساتھی بائیک پر آدھا کلومیٹر کے فاصلے پر جا کر گن پوائنٹ پر وہ رقم چھین لیتے۔ذرائع کے مطابق بنکوں کی زیادہ تعداد والے علاقوں میں یہ وارداتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ذرائع کے مطابق جیلیں ان گروہوں کی آماجگاہ ہیں کیونکہ یہاں سے نکل کر جرائم پیشہ عناصر ملکر کاروائیاں کرتے ہیں۔کچھ کمپنیوں کے ملازم ساتھیوں کی تنخواہ لے جاتے ہوئے بھی ساتھیوں کی مدد سے ڈکیتی کی واردات کا ڈرامہ کرتے ہیں بعض اوقات حقیقت میں بھی ان کیساتھ وارداتیں ہو جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس طرح کی وارداتیں پولیس کی طرف سے بنکوں کو دئیے گئے SOP (سٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجر) پرمکمل عملدرآمد نہ ہونے سے ہوتی ہیں۔ SOP کے مطابق بنک سے زیادہ رقم نکلوانے والے کو منزل مقصود تک پہنچنے کیلئے سکیورٹی ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ بڑی رقم نکلوانے پر بنک پولیس کو بھی مطلع کریں گے۔ اس کے علاوہ بنکوں کوکسٹمرز کو کیش ڈلیوری کی بجائے بنک ٹوبنک ٹرانسفر کی ہدایات بھی کی گئی ہیں۔
ہر تھانے کے ایس ایچ او کی ڈیوٹی ہے کہ وہ روزانہ صبح علاقے کے ہر بنک کی سکیورٹی رجسٹر پر نوٹ لکھتا ہے۔ اس کے علاوہ خاص دنوں میں بنکوں کے ارد گرد سکیورٹی میں اضافہ کیا جاتا ہے ، اس کے باوجود ، کیش چھیننے کی وارداتیں لمحہ فکریہ ہیں۔ شہریوں کو بھی چاہئے کہ وہ بنکوں سے زیادہ رقم نکلوانے کی صورت میں بنک سے سکیورٹی مانگیں کیونکہ بنک سکیورٹی دینے کی ذمہ دار ہیں اس کے علاوہ شہری زیادہ رقم نکلوانے کی صورت میں پولیس کو بھی انفارم کریں۔ بنک اور شہری دونوں حفاظتی تدابیر اختیار کریں تو کیش چھیننے کی وارداتیں کم ہو سکتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-09

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان