بند کریں
بدھ مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بحریہ دسترخوان کا افطار ڈنر
یہ دسترخوان سے جہاں لاکھوں افراد دوپہر اور رات کا کھانا کھاتے ہیں وہیں رمضان المبارک میں افطار پارسلز ملنے پر بھی دعائیں دیتے ہیں۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا بلاشبہ ایک بہترین نیکی ہے
شاذیہ سعید:
ماہ صیام کی آمد کے ساتھ ہی جہاں دنیا بھر میں افطاری کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں وہیں ہر ایک فرد چاہتا ہے کہ کسی روزہ دار کا روزہ افطار کروا کر تھوڑا ساثواب کمالے لیکن جونہی پہلا روزہ گزرتا ہے افطاریوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسہ شروع ہوجاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں افطاری کروانے کو دوستوں اور احباب سے ملاقات کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ افطاریاں آج کل ”افطار ڈنرز“ کے نام سے موسوم کی جاتی ہیں جن کا اہتمام عموماً بڑے بڑے ہوٹلوں، ریستورانوں میں کیا جاتا ہے جہاں غریب و نادار افراد کا گزر بھی مشکل سے ہوتا ہے۔ اسلام میں روزہ افطار کروانے والے کے لئے بڑا اجر ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ کسی شخص کا روزہ ایک کھجور یا ایک گلاس پانی سے بھی افطار کروادیں تو ثواب کے مستحق ٹھہریں گے۔
کہا جاتا ہے کہ جو شخص کسی روزدار کا روزہ افطار کروائے گا تو اسے بھی روزہ دار کے اجر کے برابر ثواب ملے گا اور روزہ دار کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔سو جیسا کہ ایک مسلم معاشرے میں ہونا چاہیے ہمارے ہاں بھی بڑے پیمانے پر افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے اور بڑے بڑے دسترخوانوں پر افطار کا بندوبست کرکے عوام الناس کے لئے کھول دیا جاتا ہے۔
یقیناً جو لوگ یہ کام خالصتاً اللہ کی رضا کے لئے کرتے ہیں ان کا اجر انہیں ضرور ملے گا۔
جہاں انواع واقسام کے کھانے کے ساتھ روزہ داروں کے لئے افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے وہیں اگر کسی غریب مستحق کو ایک گلاس پانی اور کجھور کے ساتھ روزہ افطار کروا دیا جائے تو اس کا اجر دگنا ہوتا ہے اسی کے پیش نظر آ ج کل رمضان المبارک میں مخیر حضرات کی جانب سے روزہ داروں کو افطار کرانے اور کھانا کھلانے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
اس میں فلاحی اداروں کے علاوہ گمنام مخیر حضرات بڑی تعداد میں حصہ لیتے ہیں۔ فلاحی تنظیموں کی جانب سے دسترخوان قائم کئے ہیں جہاں رمضان میں غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد بلارنگ ونسل وتفریق روزہ افطار کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ افطار کے سلسلے سے دینی، روحانی اور ملی جذبے میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔جب ہم فلاحی اداروں کی جانب سے افطار دسترخوان کی بات کرتے ہیں تو وہیں برسوں سے چلے آرہے بحریہ دسترخوان کا ذکر نہ کیا جائے تو ایسا ممکن نہیں کیونکہ ملک ریاض نے جہاں بحریہ ٹاوٴں سوسائٹی کو فروغ دیا وہیں ان کے دل میں ایسے افراد کے لئے بھی نرم گوشہ موجود ہے جو انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ ان غریب ونادار افراد کے بارے میں سوچیں جو روزانہ محنت مزدوری سے فارغ ہو کر جب شکم کی بھوک مٹانے کی غرض سے بیٹھتے ہیں تو ان کے پاس کھانے کے لئے ایک نوالہ اور پینے کا پانی تک موجود نہیں ہوتا اور اگر میسر آبھی جائے تو جس جگہ بیٹھ کر انہیں کھانا کھانا پڑتا ہے وہاں سے کوئی گزرنا بھی پسند نہیں کرتا ایسے میں انہیں مستحق افراد کو اگر ایک کمرے میں صاف ستھری ٹیبل پر، ائیرکنڈیشنڈ میں، صاف تھالی میں دو وقت کا کھانا کھانے کو ملے تو کیا اس کے دل سے اس شخص کے لئے دعا نہ نکلتی ہوگی جو اپنی دولت کے لٹنے کی پرواہ کئے بنا روزانہ لاکھوں شکم بھر رہا ہے۔
جی ہاں ہم ملک ریاض کی کاوش سے شروع کئے جانے والے بحریہ دسترخوان کی بات کر رہے ہیں جو لاہور سمیت پاکستان کے بہت سے شہروں میں قائم کئے گئے ہیں۔ یہ دسترخوان کسی ایک شہر میں کسی ایک مقام پر نہیں بلکہ مختلف مقامات پر قائم کئے گئے ہیں خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں مزدور طبقے کی بہتات ہو۔ صرف لاہور میں ایسے 12دسترخوان بحریہ ٹاوٴن سیکٹر سی،ٹھوکر نیاز بیگ،سبزازار،بادامی باغ،جی ٹی روڈ سنگھ پورا،آشیانہ،پیکو روڈ، ایبٹ روڈ، ریلوے سٹیشن میں قائم ہیں جبکہ گنگا رام اور جنرل ہپستال میں مریضوں کو ڈاکڑز کی ہدایت کے مطابق تین وقت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔
یوں روازنہ کی سطح پر تقریباً 7سے 6لاکھ افراد بحریہ دسترخوان سے استفادہ حاصل کر ہے ہیں۔ جب ہم رمضان میں افطاری کروانے کی بات کرتے ہیں تو بحریہ دسترخوان اس معاملے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے بلکہ ماہ رمضان میں باقاعدہ ٹیبلز پر انتظام کرنے کی بجائے پارسلز کی صورت میں دسترخوان پر جمع ہونے والوں کو افطاری فراہم کی جاتی ہے کیونکہ بقول ڈپٹی جنرل مینجر بحریہ ناصرصدیقی ہر دسترخوان میں ایک وقت میں تین سو افراد کے کھانے کی جگہ ہے لیکن ایک ہی وقت میں جمع ہونے والے افراد کو بیٹھانا بیحد مشکل ہے اسی لئے رمضان میں پارسلز کا سلسلہ شروع کیا گیا تاکہ کوئی بھی فرد افطاری سے محروم نہ رہ جائے۔
اوپر چونکہ ہم افطار ڈنر ز کی بابت بات کر رہے تھے وہیں آپکو بتاتی چلوں کہ گزشتہ دنوں بحریہ دسترخوان کی جانب سے دی مال آف لاہور میں افطاری کے انتظامات دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ وہ واحد دسترخوان ہے جو صرف رمضان کے بابرکت مہینے میں لگایا جاتا ہے جس میں مستحق افراد اور روزہ داروں کے لئے خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس افطار کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کوئی بھی شخص بلا امتیاز شریک ہو سکتا ہے خواہ وہ کسی شاپ کا مالک کو یا کارکن، کوئی باڈی گارڈ ہو، گیٹ کیپر یا پھر ڈرائیور کسی کو بھی اس میں شرکت سے نہیں روکا جاتا بلکہ اسے ” دعوت عام “کا نام دیا جاتا ہے۔
ناصر صدیقی کے مطابق یہاں پر بھی گیٹ کے باہر پارسلز تقسیم کئے جاتے ہیں تاکہ کوئی راگیر، رکشہ ڈرائیور یا کوئی مستحق فرد جو روزہ افطار کرنا چاہتا ہو اور اس کے پاس کچھ بھی کھانے کو نہ ہو تو وہ انہی پارسلز سے مستفید ہوتے ہیں۔ جب ہم دی مال آف لاہور پہنچے تو ابھی افطار میں کچھ وقت باقی تھا۔ ناصر صدیقی نے ہمیں B2 پر جانے کی ہدایت کی جہاں پر مسجد واقع ہے اور وہیں پر افطاری کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔
یہاں پر ہماری ملاقات دسترخوان کے مینجر عباس علی شاہ سے ہوئی جو اس وقت دسترخوان لگوا رہے تھے۔زمین پر دریاں بچھا کر آمنے سامنے پلیٹس اور گلاس رکھے جا چکے تھے۔ وکرز تیزی سے کھانا اور افطاری کے لوازمات ان میں منتقل کر رہے تھے تو ایک جانب بڑے سے پتیلے میں میٹھا پانی بن چکا تھا جسے جگوں میں بھر کر ہر ایک لائن میں رکھا جا رہا تھا۔ ڈیپ فریزرز میں سے روٹیاں نکالی جا رہی تھیں۔
ورکرز ایک بڑا سا تھال لیکر اس میں ایک چھوٹی پلیٹ میں ایک آم، ایک سموسہ، چند کجھوریں اور دوسری پلیٹ میں آلو مٹر کا سالن اور روٹیاں رکھ کر دسترخوان پر منتقل کر رہے تھے۔یہ ان کا اس دن کاافطار ڈنر تھا جو ہم نے بھی کیا ،کھانا بہت لذیذ تھا،جگہ بھی صاف ستھری اور بیٹھنے کی قابل تھی۔ دی مال آف لاہور کایہ حصہ پارکنگ اور مسجد کے زیر استعمال ہے لیکن ہر رمضان یہاں پر اسی انداز میں خواتین اور مرد حضرات کے لئے افطار ڈنر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
خواتین کو ٹینٹ لگا کر الگ جگہ پر بٹھایا گیا تھا ، جہاں پر میں نے بعض کسٹمز اور بچوں کو بھی دیکھا جو بحریہ دسترخوان کی روایت کے مطابق یہاں پر افطاری کے غرض سے آئی تھیں۔عباس علی شاہ نے ہمیں بتایا کہ وہ یہاں پر افطاری کا اہتمام گزشتہ 7برسوں سے کررہے ہیں ان کے ا نڈر بحریہ کے تین دسترخوان ہیں لیکن رمضان المبارک میں انہیں افطار دسترخوان کے انتظامات بھی دیکھنے ہوتے ہیں۔
یہاں پرورکرز کے لئے سحری کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جس میں دہی سالن، پراٹھے،روٹی اور چائے پیش کی جاتی ہے جبکہ جو پارسلز دیئے جاتے ہیں ان میں بریانی، سموسہ اور کجھوریں رکھی جاتی ہیں البتہ افطار ڈنر میں روازنہ میل تبدیل کر دیا جاتا ہے تین دن سالن روٹی اور چار دن چکن بریانی دی جاتی ہے۔ایک دن سوسہ اور ایک دن پکوڑوں کا انتظام کیا جاتا ہے جبکہ پھل بھی روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتا ہے۔
بحریہ دسترخوان کے ڈپٹی جنرل مینجر ناصر صدیقی نے افطار ڈنر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آن ڈیوٹی جتنے بھی ورکرز ہیں یا مال آف لاہور میں جتنے بھی ورکرز کام کرتے ہیں سب کے لئے دعوت عام ہے، یہاں پر کسی بھی قسم کی کوئی بھی تفریق نہیں کی جاتی شاپ کیپر سے لیکر وزٹرز تک ہر کوئی اس سے مستفید ہوتا ہے۔بحریہ دسترخوان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ناصرصدیقی نے بتایا کہ ہم نے لاہور میں مئی 2009ء میں ایبٹ روڈ پر اس کی بنیاد رکھی تھی جس کی شاخیں 2014ء تک 17ہو گئیں۔
رمضان کے علاوہ ہمارے دسترخوان سے6 سے 7لاکھ افراد سیر ہوتے ہیں۔ دسترخوانوں میں آنے والے ہمارے ”مہمان“ ہیں انہیں عزت سے ٹیبلز پر ائیر کنڈیشنڈ ہالز میں بیٹھا کر کھانا کھلایا جاتا ہے۔ہمارے ہاں خواتین اور مردوں کے لئے الگ الگ انتظام کیا جاتا ہے۔ہمارے چئیر مین ملک ریاض صاحب کی ہمت اور انکی روح کی تسکین کے لئے بحریہ دسترخوان کا آغاز کیا گیا۔
ایک بار ہمارے بادامی باغ والے دسترخوان میں کچھ سکول کے بچے بھی کھانا کھانے آئے جب چئیر مین صاحب کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے بچوں کے لئے بھی خصوصی اہتمام کرنے کا کہا اور ساتھ ہی ساتھ ان کے لئے ٹافیاں اور چاکلیٹس رکھنے کی بھی ہدایت دی۔آخر میں ناصر صدیقی نے کہا کہ اللہ ملک ریاض کی اس خواہش کو قبول فرمائے اور انہیں اس کا اجر ضرور دیں کیونکہ وہ اس کار خیرکے لئے کسی بھی قسم کی خیرات نہیں لیتے بلکہ وہ ملک بھر میں دسترخوان کی ذمہ داری خود اٹھاتے ہیں وہ کسی سے بھی ڈونیشنز قبول نہیں کرتے۔
بحریہ دسترخوان سے جہاں لاکھوں افراد دوپہر اور رات کا کھانا کھاتے ہیں وہیں رمضان المبارک میں افطار پارسلز ملنے پر بھی دعائیں دیتے ہیں۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا بلاشبہ ایک بہترین نیکی ہے جس کا اجر اللہ انہیں ضرور دے گا کیونکہ اس میں کسی بھی قسم کی کوئی ملاوٹ نہیں ہے یہ دل سے کیا جانے والا ایک ایسا عمل ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

یوں تومختلف مساجد میں افطار کا اہتمام کیا جانامعمول تھا لیکن گزشتہ چند برسوں سے مختلف خیراتی تنظیموں کی طرف سے اجتماعی افطاری کا باقاعدگی سے اہتمام کیا جانا بھی معمول بن گیا ہے۔ مخیر حضرات اور فلاح انسانیت کیلئے کام کرنے والے اداروں کے تعاون سے چلنے والے سحرو افطار کے پروگراموں میں مستحق اور نادار افراد کی شرکت سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنے لوگ اس انتظام سے مستفید ہوتے ہیں۔ خاص طور پر بحریہ دسترخوان کی جانب سے دی جانے والی افطاری کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-01

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان