تازہ ترین : 1
Badunwaan bureaucracy

بدعنوان بیورو کریسی

یہ پاکستان کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے۔۔۔۔۔پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں افسر شاہی یعنی بیوروکریسی انتہائی حد تک کرپشن کر دلدل میں دھنس چکی ہے

مصنف : سید بدر سعید
افسر شاہی ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں میں بیورو کریسی بھی شامل ہے۔ ہمارے ہاں اعلیٰ افسر ذاتی مفادات کیلئے کام کرتے نظر آتے ہیں اور اپنے مفاد کیلئے ملکی مفاد کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ اگر ہمیں پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو بیورو کریسی کا قبلہ درست کرنا ہوگا۔
پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں افسر شاہی یعنی بیوروکریسی انتہائی حد تک کرپشن کر دلدل میں دھنس چکی ہے۔
دنیا بھر میں بیوروکریسی کو ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی سی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک بھر میں سرکاری محکمے انہی کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔انہیں ملک کے اعلیٰ دماغ قرار دیا جاتا ہے اور انتہائی سخت امتحانات اور جانچ پڑتال کے مراحل سے گزرنے کے بعد ان کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اگر یہ اعلیٰ دماغ ملکی ترقی کیلئے پوری دیانت داری سے کام کریں تو کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز بہت جلد ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو جائے اور عوام خوشحال نظر آنے لگیں۔
ہمارا اَلمیہ یہ ہے کہ پاکستان میں افسر شاہی پاکستان کی بجائے ذاتی مفادات کیلئے کام کرنے میں مشہور ہے جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
اگر ہم انتظامی ڈھانچے کاجائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ درحقیقت ملک کا اصل انتظام بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہی ہے۔ہرشعبہ کے حوالے سے الگ محکمہ بنا ہواہے۔ بجلی، پانی، صحت، سکیورٹی سمیت صوبائی اور وفاقی تمام اداروں کے انتظامات بیوروکریسی کے اعلیٰ افسروں کے ہاتھ میں ہیں۔
ان محکموں کیلئے عوامی نمائندے کے طور پر مختلف وزارتوں کے تحت وزیر مقرر کئے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ وزیر اپنے اپنے محکموں کے لئے قانون سازی بھی کرتے ہیں اور اہم احکامات بھی دیتے ہیں۔ دوسری جانب اصل صورتحال یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاستدانوں کی اس نہج پر تربیت ہی نہیں ہوئی ہوتی۔ انہیں عام طور پر نہ تو محکمانہ کاموں کا علم ہوتا ہے ، نہ ہی قوانین کا علم ہوتا ہے ۔
افسر شاہی انہیں جس راہ پر لگا دے وہ اُسی راہ پر چل پڑتے ہیں۔ اگر وزیر کوئی ایسا ”آرڈر“ دے جو افسر شاہی کو قابل قبول نہ ہو تو پھر اس وزیر کو قانونی مار ماری جاتی ہے ۔ اس کا طریقہ کاریہ ہے کہ اُس ”آرڈر“ پر مختلف اعتراضات لگا کر اُسے واپس وزیر کی میز تک پہنچا دیا جاتا ہے اور یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ قانونی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے۔
سیاستدانو ں کے غیر تربیت یافتہ ہونے اور محکمانہ کاموں میں عدم دلچسپی لینے کی وجہ سے طویل عرصہ سے اصل انتظامی فیصلے بیوروکریسی ہی کر رہی ہے۔ افسر شاہی کی زیادہ توجہ ذاتی اثاثے بنانے اور اپنے لئے مراعات حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اکثر بیوروکریٹس کو اپنے محکمہ کے قوانین پر بھی عبور نہیں ہوتا۔
اس کی ایک وجہ یہ تو اپنے فرائض سے لاپروائی ہے اور دوسری وجہ موجودہ بیوروکریسی کانظام ہے ۔ اس نظام کے تحت ایک افسر اگر محکمہ ہیلتھ میں کام کر رہا ہے تو کچھ عرصہ بعد اُس کا تبادلہ ایگر یکلچر، ایجوکیشن یاکسی اور محکمہ ہو سکتا ہے۔اسی طرح وہ کسی ایک محکمہ کے معاملات سمجھنے کی بجائے مختلف محکموں میں ذمہ داریاں سر انجام دیتا رہتا ہے۔ محکموں کی بہتری کیلئے ہونا تو یہ چاہیے کہ محکمہ ہیلتھ میں میڈیکل سے وابستہ تجربہ کار افراد فائزہوں اور ایجوکیشن میں اسکالرز کو رکھا جائے تاکہ وہ اصل مسائل سمجھ سکیں۔
موجودہ نظام کے تحت عین ممکن ہے کہ سیکرٹری ہیلتھ کی تعلیمی ڈگریوں میں سائنس کا کوئی مضمون سرے سے شامل ہی نہ رہاہو۔ یہی صورت حال دیگر محکموں کی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اکثر محکموں میں کام کرنے والے حکومتوں کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں اور ڈاکٹرز ہسپتالوں میں فرائض سر انجام دینے کی بجائے یونین بنا کر سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔

ہمارے ہاں افسر شاہی میں ذاتی انا اور ”کمیشن“ کا عنصر میں کوآرڈی نیشن یعنی باہمی رابطے کا فقدان نظر آتا ہے ۔ قوانین کے مطابق جب کوئی محکمہ کسی منصوبے پر کام کرتا ہے تو اُس پر اُس منصوبے سے جڑے ہر محکمے سے این او سی لینا ضروری ہے۔ اس طرح عوامی مفاد کے منصوبوں میں کئی محکموں کو مل کر کام کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ صورتحال نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے عوامی منصوبوں میں قومی خزانے کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑتا ہے اور مقروض ملک کے اربوں روپے محض لاپروائی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے برباد ہو جاتے ہیں۔
مثال کے طورپر جب شہری علاقوں میں سڑک بنتی ہے تو اس میں صرف تعمیرات کا محکمہ ہی شامل نہیں ہوتا بلکہ سوئی گیس، واسا، واپڈا اور کئی دیگر محکمے بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر باہمی رابطے کے تحت ایسے منصوبے مکمل کئے جائیں تو کم عرصہ میں، کم خرچ میں بہتر منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں لیکن ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ ایک محکمہ سڑک تعمیر کرتا ہے پھر دوسرے محکمہ کو یاد آتا ہے کہ انہوں نے سیوریج پائپ لائن بچھانی تھی لہٰذا سٹرک دوبارہ اُکھاڑ کر پائپ لائن بچھائی جاتی ہے اور نئی سڑک بنائی جاتی ہے۔
اس کے بعد ایک اور محکمہ جاگ جاتا ہے کہ انہوں نے گیس پائپ لائن بچھائی تھی۔ لہٰذا ایک بار پھر سٹرک اکھاڑ کی پائپ لائن بچھائی جاتی ہے۔ اور اُس پر نئی سٹرک تعمیر کی جاتی ہے۔ اس کے بعد کوئی اور محکمہ اُنگڑائی لیتا ہے۔ یوں ایک بار بننے والی سٹرک متعدد بار بنائی اور توڑی جاتی ہے ۔ اس سارے عمل میں نہ صرف سرکاری خزانے کا بھاری نقصان ہوتا ہے بلکہ اربوں کی کرپشن بھی ہوتی ہے کیونکہ افسروں کو معلوم ہوتا ہے کہ تعمیر کی جانے والے سٹرک فلاں محکمہ دوبارہ توڑ دے گا، لہٰذا سٹرک کے نام پر جو مرضی بنا دیں، کام چل جائے گا۔
یہ بیوروکریسی کے ”کرپشن کھیل“ کی معمولی سی مثال ہے۔
مجموعی طورپر جائزہ لیں تو پاکستان میں بیوروکریسی کے درمیان اختیارات اور طاقت کی رسہ کشی انتہائی حد تک پہنچ چکی ہے۔ اعلیٰ افسروں میں مختلف سیاسی جماعتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کا رجحان اس قدر مضبوط ہے کہ اب حکومت بدلتے ہی افسروں کی اکھاڑ پچھاڑ شروع ہو جاتی ہے۔حکمران کے ذاتی ملازمین کا کردار ادا کرنے والوں کو اعلیٰ عہدے دیئے جاتے ہیں اور ناپسندیدہ افسروں کو او ایس ڈی بنا کر گھر پہنچ دیا جاتا ہے جو” اپنے حکمرانوں“ کے اقتدار میں آنے تک گھر بیٹھے تنخواہ وصول کرتے رہتے ہیں۔
بیوروکریسی میں کرپشن کا یہ عالم ہے کہ ایک رپورٹ کے مطاقب حال ہی میں خفیہ اداروں کی جانب سے بیوروکریٹس کے اثاثوں کی تفصیلاتی رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں ہوشر باانکشافات کئے گئے ہیں۔ان تفصیلات کے مطابق 257 بیورکریٹس ایسے ہیں جن کے اثاثوں میں گزشتہ 12 برس کے دروران 80 سے 300 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بعض نے اپنے بیوی، بچوں، بہن بھائیوں اور والدین کے نام سے کروڑوں کی پراپرٹی خرید رکھی ہے۔
کچھ نے سیاست دانوں کی طرح ملک سے باہر غیر ملکی بینکوں میں رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے خفیہ کاروبار چلا رہے ہیں۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق 40 فیصد بیوروکریٹس ایسے ہیں جنہوں نے ملازمت کے آغاز سے ہی سیاسی پشت پناہی حاصل کر لی جبکہ بعض افسر سیاسی صورت حال دیکھتے ہوئے اپنی پالیسی بدل لیتے ہیں۔
ضرورت ا مر کی ہے کہ افسر شاہی کا قبلہ درست کیا جائے اور ایسے افسروں کی حوصلہ شکنی کی جائے جن کی وجہ سے ایماندار افسروں پر بھی انگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔ اگر ہم نے پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو پھر بیوروکریسی میں اصلاحات اور احتساب کا عمل شروع کرنا ہوگا۔
وقت اشاعت : 2014-09-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

Syed Badar Saeed

مصنف کا نام : سید بدر سعید

سید بدر سعید کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں