تازہ ترین : 1
Awami Mizaj Or Qanoon Shikni

عوامی مزاج اور قانون شکنی

ایک مہذب قوم اور قانون کی پاسداری کے لئے اضافی تربیت کی بھی ضرورت ہے در حقیقت وہی قومیں ترقی یافتہ کہلانے کی مستحق ہوتی ہیں جو اپنی زندگی کسی قاعدے قانون کے تحت گزارتی ہیں

خالد یزدانی:
کسی بھی ملک کے شہری قانون کی کتنی پاسداری کرتے ہیں اس کا اندازہ اس کی ٹریفک اور اس سے متعلق قواعد و ضوابط کی عملداری سے کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اس حولے سے ہونے والے مشاہدے میں اکثر اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ لوگ جہاں کہیں سڑکوں پر ٹریفک قوانین پر عمل کرتے پائے گئے ہیں،وہ ممالک اور اس کے شہری عدل و انصاف کا احترام کرنے والے اور مہذب قوموں میں شمار ہوتے ہیں۔
در حقیقت وہی قومیں ترقی یافتہ کہلانے کی مستحق ہوتی ہیں جو اپنی زندگی کسی قاعدے قانون کے تحت گزارتی ہیں۔مگر ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ہمارے ملک میں ٹریفک رولز کی جس قدر خلاف ورزی ہوتی ہے شاید ہی کسی ملک میں ہوتی ہو۔ٹریفک کی یہ خلاف ورزی ہمارے عمومی مزاج کی عکاسی کرتی ہے۔ ہم بخوبی اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دوسرے ممالک کے لوگ اپنے ہاں قوانین پر کس قدر عمل پیرا ہوتے ہونگے۔
ٹریفک قوانین پر عمل کرنے سے جہاں ٹریفک میں روانی رہتی ہے وہاں حادثات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ موٹر سائیکل ، کار اور ہیوی گاڑیوں کو چلانے کے لئے متعلقہ شخص کو ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لئے ٹریفک رولز کے کڑے امتحان سے بھی گزرنا پڑتا ہے اور اس کو اسی وقت ڈرائیونگ لائسنس ملتا ہے جب ٹریفک پولیس کو اس بات کی یقین دہانی ہو جاتی ہے کہ متعلقہ شخص گاڑی چلانے کا اہل ہے اور وہ سڑک پر گاڑی چلانے اور سڑک پر لگے ٹریفک بورڈ پر اشاروں کو بھی سمجھتا ہے۔
جس طرح کسی بھی ہسپتال سے پہلے سڑک پر ایک بورڈ ہارن بجانے کی ممانعت لگا دیا جاتا ہے اسی طرح کسی بھی سکول کے قریب ٹریفک کو آہستہ رکھنے کا یا (سپیڈ بریکر) کا اشارہ دکھائی دیتا ہے جس سے نا صرف گاڑی چلانے والے کو آگاہی ہوتی ہے اور اس پر عمل ہونے سے حادثے کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں آج صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے جہاں سڑک پر نو پارکنگ کا بورڈ نصب ہو اس کے ساتھ ہی پارکنگ دکھائی دیتی ہے،اور ون وے کی خلاف ورزی تو معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔
اس طرح کسی بھی چوک پر ”سرخ“ اشارے کی خلاف ورزی کر کے اپنی جان کے ساتھ دوسروں کی جانوں سے کھیلنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔
اسی طرح لاہور ہو یا کوئی اور شہر اس کے باغات میں کھلے رنگ برنگے پھول سب کو بھلے لگتے ہیں۔ اگرچہ ایسی تمام جگہوں پر ایک تنبیہ لکھی بھی دکھائی دیتی ہے ”پھول توڑنا منع ہے“ مگر اکثر لوگ باغبان کی نگاہ سے بچتے پھول توڑنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔
اسی طرح آپ کو اکثر گرمیوں کے موسم میں نہروں پر منچلوں کا ہجوم نظر آئے گا اور اس کے ساتھ ہی سائن بورڈ پر ”یہاں نہانا منع ہے“ صرف اس لئے لکھا ہوتا ہے کہ اس جگہ پانی گہرا اور بہاؤ تیز ہے جس سے نہر میں چھلانگ لگانے والا جان سے بھی جا سکتا ہے مگر ہم ”قانون شکنی“ کر کے اس پرخطر شوق کو بے دھڑک پورا کرتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس میں نہانے والا تو اپنی جان سے چلا جاتا ہے مگر اپنے والدین اور عزیز و اقارب کو ہمیشہ کیلئے بے بس اور غمگین کر جاتا ہے۔

ٹریفک کی خلاف ورزی ہو یا پھول توڑنے سے لے کر کوئی اور قانون شکنی یہ معاشرہ کے لئے قابل فخر نہیں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔ جو قانون کی پاسداری کرتی ہیں۔ ہمیں از خود اچھا شہری بننے کے لئے قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جس سے آپ خود بھی تکلیف دہ صورت حال کا شکار نہ ہوں اور دوسرے بھی اس سے محفوظ رہیں یہ اس وقت ممکن ہے جب ہم قانون کا احترام کرنے والے اچھے شہری بنیں گے۔
ورنہ آئے روز ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والوں کے سامنے بھی قانون شکنی کے مناظر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ذریعے بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔
ایک مہذب قوم اور قانون کی پاسداری کے لئے اخلاقی تربیت کی ضرورت جتنی آج ہے پہلے نہ تھی اس کے لئے ہم سب کو مل کر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے ہم اپنے ملک و قوم کا مہذب چہرہ دنیا کے سامنے لا سکیں۔
وقت اشاعت : 2014-03-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں