تازہ ترین : 1
Awami Falah K Hakomati Iqdamat

عوامی فلاح کے حکومتی اقدامات اور کارکردگی

مسائل کے باوجود پنجاب میں دوسرے صوبوں کی نسبت تعلیم اور صحت سمیت بہت سے شعبوں میں صوتحال بہت بہتر ہے۔آج ہم صرف صحت کے حوالے سے پنجاب حکومت کے اقدامات اور کارکردگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔ بلا شبہ صحت کے حوالے سے بہت کچھ کیا گیا اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے

محمد یسین وٹو:
مسائل کے باوجود پنجاب میں دوسرے صوبوں کی نسبت تعلیم اور صحت سمیت بہت سے شعبوں میں صوتحال بہت بہتر ہے۔آج ہم صرف صحت کے حوالے سے پنجاب حکومت کے اقدامات اور کارکردگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔ بلا شبہ صحت کے حوالے سے بہت کچھ کیا گیا اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں ہسپتال کم ہیں، اس طرف بھی حکومت کی توجہ ہے۔
جہاں سوال یہ بھی ہے کہ شہروں میں رش کی وجہ سے ٹریفک جام رہتی ہے۔کسی حادثے اور ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولنس کا جائے وقوعہ پر پہنچنا اور وہاں سے مریض یا زخمیوں کو ہسپتال تک لانا کبھی کبھی ناممکن ہوجاتا ہے۔ اس کے لئے حکومت پنجاب کی طرف سے انقلابی”موٹر بائیکس ایمبولینس “ سروس متعارف کرائی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے ابتدائی طور پر صوبے کے 9 ڈویڑنل ہیڈکوارٹرز میں موٹر بائیکس ایمبولینس سروس شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہزار موٹربائیکس پر مشتمل ایمبولینس سروس کا اجراء تمام ڈویڑنل ہیڈکوارٹرز سے کیا جائیگا موٹربائیکس ایمبولینس سروس کے اجراء کیلئے عملے کی بھرتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کو ہسپتالوں کے ساتھ منسلک کرنا بہت ضروری ہے۔ تنگ گلیوں اور محلوں میں کسی مصیبت، حادثے یا قدرتی آفت میں گھرے افراد کو ریسکیو کرنے کیلئے موٹربائیکس ایمبولینس کا نظام ممد و معاون ثابت ہو گا اور پاکستان میں یہ سروس پہلی بار شروع کی جا رہی ہے اور اس سروس کے اجراء سے جائے حادثات تک فوری رسائی ممکن ہو سکے گی اور اس سروس کے آغاز سے عوام کو بے پناہ ریلیف ملے گا۔
اس سروس کا آغاز ہوچکا ہے۔گزشتہ روزوزیراعلیٰ شہبازشریف سے سکاٹ لینڈ کے سابق رکن پارلیمنٹ حنظلہ ملک نے ملاقات کی اور 10 موٹربائیکس ایمبولینسوں کا تحفہ وزیراعلیٰ کو دیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ریسکیو 1122 کے تربیت یافتہ عملے کی جانب سے موٹربائیکس ایمبولینس کے ذریعے زخمی شخص کو طبی امداد دینے اور ریسکیو کا عملی مظاہرہ دیکھا اور عملے کی مہارت کو سراہا۔
صوبہ پنجاب کیلئے صحت کے شعبہ میں 2016ء کامیاب سال رہا اور اسکی سب سے اہم اور بڑی کامیابی پولیو کیخلاف کامیاب مہم ہے جس کی براہ راست نگرانی وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کرتے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی رہنمائی اور محکمہ صحت کے افسران و پولیو ورکرز کی محنت کے نتیجہ میں پنجاب پولیو سے پاک صوبہ بن گیا ہے اور 2016ء میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا حالانکہ دیگر صوبوں میں پولیو کے 19 کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ دیگر صوبوں سے روزانہ پنجاب آتے جاتے ہیں۔
چیف منسٹر ہیلتھ روڈ میپ پروگرام پر عملدرآمد سے پنجاب میں بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کی روٹین ایمونائزیشن کوریج پچاس فیصد سے بڑھ چھیاسی فیصد تک پہنچ گئی جسکی انٹرنیشنل پارٹنرز نے بھی تصدیق کی ہے۔ پنجاب کو حاملہ خواتین اور نوزائدہ بچوں میں پائی جانے والی بیماری تشنج کا خاتمہ کیا گیا جو نومولود بچوں اور حاملہ خواتین کی اموات کی ایک بڑی وجہ تھی۔
وزیر اعلیٰ نے صوبے میں بچوں کو اسہال کی بیماری سے بچانے کیلئے روٹا وائرس ویکسین تعارف کرانے کی منظوری دی۔ ہر سال ہزاروں بچے اسہال کی بیماری سے موت کا شکار ہو جاتے تھے۔ کڈنی سینٹر ملتان اور لاہور سروسز ہسپتال کا نیا آؤٹ ڈور مکمل، انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز لاہور کا تیسرا فیز پایہ تکمیل کو پہنچا، واہ کینٹ جنرل ہسپتال 200 بیڈز پر مشتمل تعمیر شروع ہوئی، میو ہسپتال کے سرجیکل ٹاور کو مکمل کرنے کیلئے 7 سو ملین روپے جاری کئے گئے، وزیر اعلیٰ نے ڈاکٹروں کیلئے تین ارب پچاس کروڑ روپے کا سپیشل الاؤنس پیکیج دیا، بی ٹی ایل اپ گریڈ کی گئی، درجہ چہارم کے ملازمین کے سروس سٹرکچر کی منظوری دی گئی۔
نرسوں کو چار ہزار اور آٹھ ہزار روپے خصوصی الاؤنس کی منظوری دی گئی جو انہیں جنوری 2017 ء سے ملنا شروع ہو گا۔ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ پر تیزی سے کام شروع ہوا چار ارب روپے فراہم کئے گئے۔ 2017ء میں پہلا فیز 3 سو بستروں کا مکمل کرنے کا ٹارگٹ ہے۔ ویکسی نیٹرز کی حاضری کیلئے آئی ٹی سسٹم Evaccs متعارف کروایا گیا جس سے حاضری چالیس فیصد سے بڑھ کر ستانوے فیصد تک پہنچ گئی۔
حکومت نے ویکسی نیٹرز کو 26 سو موٹر سائیکلیں فراہم کیں اور ویکسی نیٹرز کی پانچ سو آسامیاں پیدا کی گئیں۔ ویکسین سٹوریج کیلئے لاہور اور ملتان میں سٹیٹ آف دی آرٹ ویئر ہاؤس قائم کئے گئے۔ سیالکوٹ، گوجرانوالہ، ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان کے میڈیکل کالجز کے ساتھ پانچ پانچ سو بستروں پر مشتمل ٹیچنگ ہسپتالوں کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ وزیر آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ان ڈور مریضوں کا علاج معالجہ شروع ہوا،صوبے کے چالیس ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کی ری ویمپنگ شروع کی گئی میڈیسن کی خریداری کیلئے سینٹرل کنٹریکٹ سسٹم متعارف کرایا گیا اور ملٹی نیشنل ونینشل فرموں کو پری کوالیفائڈ کیا گیا۔
صوبے میں جعلی و غیر معیاری ادویات کی تیاری و فروخت کیخلاف بھرپور آپریشن شروع کیا گیا۔ ڈرگ کورٹ سے مختلف کیسوں میں ملزمان کو مجموعی طور پر ستر سال کی سزائیں اور کروڑوں روپے جرمانہ کیا گیا۔ طیب اردگان ہسپتال مظفر گڑھ کی توسیع کی منظوری دی گئی جس میں مزید اڑھائی سو بستروں پر مشتمل بلاک تعمیر کیا جا رہا ہے۔ تمام ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینوں کی فراہمی کا آغازہوا۔
چلڈرن ہسپتال لاہور کا توسیعی منصوبہ مکمل چھ سو بستروں کا اضافہ ہوا۔گورنمنٹ میاں میر ہسپتال کی تعمیر مکمل کی گئی۔ گورنمنٹ شہباز شریف ہسپتال بیدیاں روڈ پر آپریشنل کیا گیا۔ گورنمنٹ سمن آباد ہسپتال تعمیر و آپریشنل کیا گیا یہ پیپلز لیس ہسپتال ہے۔ گورنمنٹ رانا عبدالرحمن ہسپتال سوڈیوال کوارٹر کا افتتاح ہوا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے سو بستروں پر مشتمل تحصیل لیول ہسپتال مناواں کا سنگ بنیاد رکھا۔
چار ہزار نرسز پی پی ایس سی کے ذریعے بھرتی کی گئیں۔ پوسٹ گریجوایٹ ٹرینی ڈاکٹرز کے داخلوں کیلئے ٹرانسپیرنٹ اور میرٹ پر مبنی آن لائن انڈکشن پروگرام متعارف کرایا گیا۔ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کا بل اسمبلی سے پاس ہوا۔ پنجاب بلڈ ٹرانسفیوڑن اتھارٹی کا بل اسمبلی سے پاس ہوا۔ بیس ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ایمونائزیشن کی سروس فراہم کی گئی۔
ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کیلئے چودہ ارب روپے فراہم کئے گئے۔ گردے کے مریضوں کو ڈائلیسز کی سہولت فراہم کرنے کیلئے چھ سو ملین روپے فراہم کئے گئے۔ صوبے میں ماں بچہ کی صحت کو بہتر بنانے اور شرح اموات پر قابو پانے کیلئے آٹھ سو بنیادی مراکز صحت پر چوبیس گھنٹے ڈلیوی کی سہولت فراہم کی گئی جس کی وجہ سے یہاں ہونے والی زچگیوں کی تعداد دس ہزار سے بڑھ کر پینسٹھ ہزار تک پہنچ گئی۔
وقت اشاعت : 2017-01-19

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں