تازہ ترین : 1
Aalmi Tableeghi Ijtema Raiwind

عالمی تبلیغی اجتماع رائے ونڈ

آج جس تبلیغی تحریک کی سارے عالم میں صدائے باز گشت ہے اس کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس ہیں جن کے مجاہدوں، ریاضتوں اور روحانیت واخلاص سے اس تحریک کی ابتداء ہوئی

مولانا مجیب الرحمن انقلابی:
آنکھوں میں شب بیداری کے آثار، سجدوں سے منور پیشانیوں ، کاندھوں پر بستر اٹھائے اور ہاتھ میں تسبیح لیے ذکر الٰہی میں مصروف بے شمار قافلے آج پوری دنیا میں ملک ملک شہر شہر اور قریہ قریہ دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کیلئے اللہ کی راہ میں امت کے ایک ایک فرد کے دروازے پردستک دیتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ان قافلوں کو عرف عام میں ”تبلیغی جماعت“ کہا جاتا ہے جس کا مرکزی اجتماع عام ہر سال راؤنڈ میں منعقد ہوتا ہے۔
حج کے بعد مسلمانوں کا یہ دوسرا بڑا اجتماع ہے جس میں پوری دنیا سے لاکھوں مسلمان شرکت کر تے ہیں۔ حسبِ سابق تبلیغی جماعت کے مرکزی اجتماع کا آج آغاز ہو رہا ہے۔ جس کا پہلا سیشن 7نومبر سے 9نومبر)جمعہ، ہفتہ، اتوار) تک ہوگا جبکہ9 نومبر بروز اتوار اجتماعی دُعا ہوگی اور تبلیغی اجتماع کا دوسرا سیشن 14 نومبر سے 16نومبر تک ہوگا جبکہ 16 نومبربروز اتوار کو دوسرے سیشن کی اجتماعی دعا ہوگی۔

آج جس تبلیغی تحریک کی سارے عالم میں صدائے باز گشت ہے اس کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس ہیں جن کے مجاہدوں، ریاضتوں اور روحانیت واخلاص سے اس تحریک کی ابتداء ہوئی۔بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی کا گھرانہ ان خوش قسمت خاندانوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مقبولیت و محبوبیت سے خوب نوازا تھا۔ جہاں اس خاندان کے مردوں میں جذبہ جہاد، تقویٰ ونیکی، دین کی اشاعت و ترویج کا عام رواج تھا وہاں ان کی عورتیں بھی دینداری، عبادت گزاری، شب بیداری اور ذکر و تلاوت میں پیچھے نہ تھیں۔

آپ کے والد مولانا محمد اسماعیل ولی کامل اور والدہ محترمہ بھی ”رابعہ سیرت“ خاتون تھیں جنہو ں نے آپ کی پرورش و تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔ آپ نے چھوٹی عمر میں ہی قرآن مجید اور دینی علوم کی تعلیم مکمل کر کے نیکی و تقوی کی راہ اختیار کر لی تھی۔ آپ نے جہاں شیخ الہند مولانا محمود الحسن جیسے مجاہد عالم دین سے علم حاصل کیا وہاں دوسری طرف آپ نے اپنے وقت کے قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے تصوف و سلوک کی منازل تیزی سے طے کیں۔
اپنے پیر و مرشد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے جب آپ نے عرض کیا کہ حضرت! ذکر کرتے ہوئے میرے دل پر بوجھ محسوس ہوتا ہے حضرت گنگوہی یہ سن کر متفکر ہوئے اور فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا قاسم نانوتوی نے اپنے مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے اس قسم کی شکایت کی تھی توحاجی امداد اللہ صاحب نے جواب فرمایا کہ”اللہ تعالیٰ آپ سے کام لیں گے“۔

بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس نے جب اپنے گردوپیش کا جائز ہ لیا تو ہر طرف دین سے دوری عقائد کی خرابی اور اعمال و عقائد کا بگاڑ دیکھ کر فکر مند دیکھائی دینے لگے۔ آپ نے محسوس کیا کہ عام دینداری سمٹتی چلی جا رہی ہے جس کا دائرہ ”اخص الخواص“ تک رہ گیا ہے۔ پہلے جو خاندان اور قصبات و علاقے اور شہر ”رشد و ہدایت“ کے مراکز سمجھے جاتے تھے ان میں بھی اس قدر تیزی کے ساتھ انحطاط و زوال ہوا کہ اب ان کی ”مرکزیت“ ختم ہوتی جارہی ہے۔
انہوں نے محسوس کیا کہ دین کو سیکھنے سکھانے کا شوق و جذبہ پیدا کئے بغیر اسے ہم اپنی زندگی میں معمول کا حصہ نہیں بنا سکتے اور یہ سب کچھ صرف مدارس و مکاتب اور خانقاہی نظام سے نہیں ہوگا کیونکہ ان سے وہی فیضیاب ہو سکتے ہیں جن میں پہلے سے دین کی طلب ہواور وہ خود ان مراکز میں آئیں گے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ بہت ہی محدود لوگ ہوتے ہیں ، اس لیے مولانا الیاس کاندھلوی ضروری سمجھتے تھے کہ اس ”دعوت و تبلیغ“ کے ذریعہ ایک ایک دروزاہ پر جا کر اخلاص و للہیت اور منت و سماجت کے ساتھ ان میں دین کے ”احیاء‘ کی طلب پیدا کی جائے کہ وہ اپنے گھروں اور ماحول سے نکل کر تھوڑا سا وقت علمی و دینی ماحول میں گزاریں تاکہ ان کے دل میں بھی سچی لگن اور دین سیکھنے کی تڑپ پیدا ہو۔

دعوت دین کا یہ وہی راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے انبیاء کرام علیہ السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی مقدس اور فرشتہ صفت جماعت پوری دنیا پر اسلام کو غالب کرنے میں کامیاب ہوئی۔ حضرت مولانا محمد الیاس کی دین کے لیے تڑپ و بے چینی اور درد وبے قراری دیکھنے میں نہیں آتی تھی۔ دین کے لئے اس درد وفکر میں جب بے چینی بڑھتی تو راتوں کو اٹھ کر ٹہلنے لگتے۔
جب ایک جاننے والے نے خط کے ذریعہ آپ سے خیریت دریافت کی تو آپ نے جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ ”طبیعت میں سوائے تبلیغی درد کے اور خیریت ہے“۔ پھر مولانا محمد الیاس خود سراپا دعوت بن کر ”دعوت و تبلیغ “ والے کام کو لے کر بڑی دلسوزی کے ساتھ دیوانہ وار ”میوات“ کے ہر علاقہ میں پھرے ہر ایک کے دامن کو تھاما، ایک ایک گھر کے دروازہ پر دستک دی کئی کئی وقت فاقے کیے، گرمی و سردی سے بے پرواہ ہو کر تبلیغی گشت کیے۔
جب لوگوں نے آپ کی آواز پر حسب خواہش ”لبیک“ نہ کہا تو آپ بے چین و بے قرار ہو کر راتوں کو خدا کے حضور روتے گڑگڑاتے اور پوری امت کی اصلاح کے لیے دعا کرتے۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ میواتی حضرات نے اپنے جان و مال اور زندگیوں کو اس کام پر قربان کر دیا اور ایک ایک گھر سے ایک ہی وقت میں کئی کئی افراد دین کے کام کے لیے باہر نکلنے لگے۔
مولانا الیاس نے اس دعوت و تبلیغ والے کام کے طریقہ کار اور چھ اصولوں کے علاوہ کچھ مطالبے اور دینی تقاضے بھی رکھے ہیں جس کے تحت اس دعوت و تبلیغ والے کام کی محنت و ترتیب اور مشورہ کے لیے روزانہ کم از کم دو سے تین گھنٹے وقت دینا، ذکر و اذکار اور اعمال کی پابندی کرناروزانہ دو تعلیمیں کروانا ایک مسجد میں اور ایک گھر میں، ہفتہ میں دو گشت کرنا، جس کے تحت کچھ وقت نکال کر اپنے ماحول میں ضروریات دین کی تبلیغ کیلئے باقاعدہ جماعت بنا کرایک امیر اور ایک نظام کی ماتحتی میں اپنی جگہ اور قرب و جوار میں تبلیغی گشت کرنا، ہر مہینہ میں تین دن اس دعوت و تبلیغ والے کام میں لگاتے ہوئے اپنے شہر یا قرب و جوار کے علاقہ میں گشت و اجتماع کرتے ہوئے دوسروں کو بھی اس دعوت و تبلیغ والے کام پر نکلنے کیلئے امادہ اور تیار کرنا، سال میں ایک ”چلہ“ یعنی چالیس دن اللہ کے راستہ میں دعوت و تبلیغ کیلئے لگانا، اور پھر چار مہینے(تین چلے) اللہ تعالیٰ کے راستہ میں نکل کر لگاتے ہوئے دین اور اس دعوت و تبلیغ والے کام کو سیکھے اور پھر ساری زندگی اسی کام میں صرف کرنا۔
بقول حضرت مولانا پالن پوری کے کہ ”اس دعوت و تبلیغ والے کام کو کرتے کرتے مرنا اور مرتے مرتے کرناہے“۔
مولانا محمد الیاس نے اس دعوتی سفر اور نقل و حرکت کے ایام کا ایک مکمل نظام الاوقات مرتب کیا جس کے تحت یہ تبلیغی جماعتیں اپنا وقت گزراتی ہیں۔ آج پوری دنیا میں تبلیغی جماعت اس دعوت و تبلیغ والے کام کو پوری محنت، اخلاص وللہیت اور ایک نظم کے ساتھ کر رہی ہے اور اس کام کے اثرات و ثمرات سے آج کوئی بھی ذی ہوش انسان انکاری نہیں۔
۔۔۔ اللہ کی مدد و نصرت سے ناقابل یقین حد تک کامیابی ہو رہی ہے۔ دن رات اللہ تعالیٰ کی نافرمانی و معصیت اور فسق و فجور میں زندگی گزارنے والے لاکھوں افراد اس تبلیغی جماعت کی بدولت تہجد گزار، متقی، پرہیز گار اور دین کے داعی بنتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ صبح جاگنے سے لے کر رات سونے تک۔۔۔ گویا کہ اللہ کے یہ بندے پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک پوری زندگی میں دین لانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
تبلیغی جماعت بھی آج دعوت و تبلیغ کے اس مقدس کام میں جان و مال اور وقت لگا کر یہ کام پوری دنیا میں کرنے اور پھیلانے میں مصروف ہے۔ رائے ونڈ کے اس ”عالمی تبلیغی اجتماع“ میں ہر سال لاکھوں افراد ایک جگہ جمع ہو کر۔۔۔ ملکی، سرحدی، صوبائی امتیازات، قومی لسانی تعصبات اور گروہ بندی سے تائب ہو کر سب یہاں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ جہاں اللہ والوں کی صحبت میں ان کے گزرے یہ لمحات ان کیلئے متاعِ حیات، دنیا میں کامیاب زندگی اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
وقت اشاعت : 2014-11-08

(5) ووٹ وصول ہوئے

قارئین کی رائے :

اپنی رائے کا اظہار کریں