بند کریں
منگل مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
37 ملین کا ہیلپ لائن منصوبہ
وزارت قانون و انصاف ”شہری حقوق پر مفت قانونی مشورہ“ کھا گئی؟۔۔۔۔ہمارے ہاں سرکاری فائلوں کو کھنگالا جائے تو اکثریوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ ایک سے ایک ’ قابل“ افسر ومشیر نے ایسے ایسے لفریب منصوبے سرکار کی خدمت میں پیش کر رکھے ہیں
مصنف : سید بدر سعید
ہمارے ہاں سرکاری فائلوں کو کھنگالا جائے تو اکثریوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ ایک سے ایک ’ قابل“ افسر ومشیر نے ایسے ایسے لفریب منصوبے سرکار کی خدمت میں پیش کر رکھے ہیں کہ انسان ان کے نتائج کا سوچ کر ہی عش عش کر اٹھتا ہے یہ الگ بات ہے کہ جوں جوں منصوبوں کی فائل ایک میز سے دوسری میز تک جاتی ہے توں توں حقیقت کھلتی جاتی ہے کہ افسر شاہی نے ان فائلوں میں کالا باغ کے نام سے محض سبز باغ ہی دکھایا تھا۔
ایسا ہی وزارت قانون وانصاف کے ”سمجھداروں“ نے کیا ہے۔ وزارت قانوں وانصاف اور انسانی حقوق نے 37 ملین روپے کی لاگت سے ایک شاندار منصوبہ شروع کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ہیلپ لائن بنائی جانی تھی جس پرانسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے قانونی رہنمائی فراہم کی جانی تھی۔ اس منصوبہ کے تحت مفت قانونی راہنمائی کے لیے تین لیگل ایڈوائزر مقرر کیے گئے ہیں۔
جن کے ذمہ تو ہین ، بچوکے حقوق جسمانی تشدد، گھریلو تشدد، منفی بنیادوں پر تشدد۔ کام کی جگہوں پر ستایا جانا، اغواء، قتل، اقلیتی حقوق کی پامالی، گمشدہ افراد ، قیدیوں کے حقوق ، زنا بالجبر، فرقہ ورانہ تشدد، دہشت گردی اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے افراد کے حوالے سے قانونی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو بلاشبہ ایک شاندار منصوبہ ہے ۔
اس پر عمل درآمدکی صورت میں پاکستانی شہریوں کو اپنے حقوق سے آگہی ہوگئی اور شہری اپنے حقوق کی پامالی پر مفت قانونی مشورہ حاصل کر سکیں گے۔ ایسا ہوتا ہے تو یقینا پاکستانی ترقی اور عوامی شعور کی جانب سفر کرے گا۔ دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ فائلوں میں دبا یہ منصوبہ صرف فائلوں کی حد تک ہی شاندار ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ دیگر کئی منصوبوں کی طرح اسے بھی بیورو کریسی کی روایتی بے حسی اور سُستی کھا گئی ہے اور یہ منصوبہ ابتدائی طور پر گزشتہ برس جولائی کے مہینے میں شروع ہونا تھا اور منصوبہ کی کل مدت دو برس مقرر کی گئی تھی۔
دوسری جانب اس منصوبے کا عملاََ افتتاح ہی 27مئی 2015 کو گیارہ ماہ کی تاخیر سے کیا گیا۔ اب اس کی 13 ماہ کی کارکردگی صفر ہے ۔ ادارہ میں ابھی تک وفاقی سیکرٹری قانون کی جانب سے ٹال فری نمبر تک نہیں لگ سکا۔ ٹال فری نمبر نہ ہونے کی وجہ سے عوامی مدد کو کالز موصول ہونے کی شرح مخص 10سے12 فی ہفتہ ہے۔ یعنی 20 کروڑ سے زیادہ کی آبادی کے حامل ملک میں ایک دن اوسطاََ محض دوافراد سرکار سے اپنے حقوق کے لئے قانونی مشاورت کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس طرح کی ہیلپ لائن بورڈ آف انویسٹمنٹ وزارت تجارت پارلیمانی امور، معاشی امور، وفاقی محتسب اور وزارت داخلہ میں بھی قائم ہیں۔ ہیلپ لائن منصوبہ کی ڈائریکٹر مسز نگینہ اختر کے مطابق انہوں نے تین سو سے زائد محکموں اور وفاتر کو خطوط لکھے ہیں لیکن کسی بھی ادارے نے تاحال جواب نہیں دیا۔ ان کے مطابق کسی بھی ٹارگٹڈ شعبہ سے کسی نے رابطہ نہیں کیا بلکہ صرف 60لوگوں نے رابطہ کیا جس میں سے زیادتر سرکاری ملازم تھے جنہیں مناسب فورم پر رابطہ کے لئے رہنمائی فراہم کی گئی۔

سوال یہ ہے کہ کیا حکومت وقت نے 37 ملین کا ہیلپ لائن منصوبہ صرف 60افراد کے لیے قائم کیا ہے سوال یہ بھی ہے کہ لوگ قانونی مشاورت کے لئے سرکاری اسک ’مفت مدد“ پر بھروسہ کیوں نہیں کرتے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس منصوبہ کا لوگوں کی اکثریت کو علم ہی نہ ہو اور محکمہ جنگل میں مور نچانے پر تلا ہو۔ اس اہم ترین منصوبے کی ناکامی پر جتنے بھی سوال اٹھتے ہیں ان کا رخ محکمہ کی انہی کارکردگی سے جڑا ہوا ہے۔
کیا یہ منصوبہ صرف کاغذات کی حد تک پالیسی سازوں کو خوش کرنے اور حکومت کے ”ترقیاتی“ کاموں کی فہرست میں محض اضافہ کرنے کے لئے تھا؟ ایک شاندار منصوبہ حکومت کی عدم دلچسپی اور محکمہ وزارت قانون وانصاف کی مجرمانہ غفلت کی نذر ہوتا نظر آرہا ہے جس پر عام شہریوں کے ٹیکسوں سے 37ملین خرچ ہو چکے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-09

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-