تازہ ترین : 1
3 Bhaiyoon Ki Dilkharash Dastaan

آٹھ سالہ چوتھے بھائی نے درخت پر چڑھ کر جان بچائی

سات خونخوار کتوں کے بھنبھوڑ نے سے تین کمسن بھائیوں کی دلخراش موت۔۔۔ ان تین بچوں کے والدین کو جو اس واقعے میں اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے شاید زندگی بھر ذہنی سکون میسر نہیں آ سکے گا

احسان الحق
سوموار یکم جون کی دوپہر کو رحیم یار خان کے نواحی قصبے فیروزہ کے قریب واقع چک 66 عباسیہ میں ایک ایسا دلخراش واقع پیش آیا جو معاشرتی بے حسی اور انسانی المیوں کے حوالے سے نہ صرف مدتوں یاد رکھا جائے گابلکہ اس بھیانک واقع کی یاد میں ان تین بچوں کے والدین کو جو اس واقعے میں اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے شاید زندگی بھر ذہنی سکون میسر نہیں آ سکے گا لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے ”نوٹس “ لیے جانے کے باوجود نہ تو اس واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی اور نہ ہی علاقے کی کسی بڑی سیاسی یا انتظامی شخصیت نے ان بچوں کے گھر جا کر انہیں حوصلہ دینے کی کوشش کی ہے۔
یکم جون کی صبح فیروزہ کے نزدیک واقع چک 79 عباسیہ سے تعلق رکنے والا ایک بد قسمت خاندان جس کے سربراہ کا نام محمد ارشاد اور خاتون کا نام سکینہ بی بی ہے اپنے چار کمسن بچوں کے ہمراہ روزی روٹی کی تلاش کیلئے صبح سویرے ملحقہ گاوٴں 66 عباسیہ میں گئے جہاں کھیتوں میں کام کے دوران انہوں نے اپنے چار بچوں کو نزدیکی درختوں کی چھاوٴں میں بیٹھا دیا جس کے دوران بچے کھیل کود میں مصروف ہو گئے لیکن اسی دوران 7 خونخوار کتوں نے جو بعض اطلاعات کے مطابق آوارہ تھے جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق وہ کتے چند چوہدریوں نے لڑائی کیلئے پال رکھے تھے ،نے اچانک ان بچوں پر حملہ کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے انتہائی بے دردی سے 13 سالہ علی حسنین، 5 سالہ عبداللہ اور 3 سالہ عبید اللہ کو موقع پر ہی کاٹ کاٹ کر جاں بحق کر دیا جبکہ خوش قسمتی سے اس خاندان کا چوتھا بچا جس کی عمر 8 سال بتائی جاتی ہے نے ایک قریبی درخت پر چڑھ کر اپنی جان بچائی جبکہ بچوں کے بچاتے ہوئے سکینہ بی بی بھی معمولی زخمی ہوگئی۔
شور سن کر بچوں کا والد جو مذکورہ جگہ سے تھوڑی دور فصلوں کو پانی لگا رہا تھا اور کچھ قریبی لوگ فوری طور پر موقع پر پہنچے مگر ان کی آمد سے قبل یہ کتے اپنا کام کر چکے تھے لیکن والدین تو پھر والدین ہی ہوتے ہیں اس لیے ان کے اصرار پر تینوں بچوں کو فوری طور پر نزدیکی ہسپتال پہنچایا گیا مگر ڈاکٹروں کے مطابق ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی ان بچوں کی موت واقع ہو چکی تھی۔
اس دلخراش واقع کی الیکٹرونک میڈیا پر بریکنگ نیوز نشر ہونے کے بعد حسب روایت میاں شہباز شریف نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچنے کے احکامات جاری کیے لیکن ان سطور کی اشاعت تک نہ تو ان کتوں کے مالکان کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی اس بد قسمت خاندان کیلئے صوبائی یا وفاقی حکومت کی جانب سے کسی قسم کی مالی امداد کا اعلان کیا گیا تاہم ڈی ایس پی لیاقت پور سید جمشید علی نے راقم کو بتایا کہ یہ کتے آوارہ ہی تھے اس لیے کسی کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں ہے۔
تاہم معلوم ہوا ہے کہ چند روز قبل محکمہ صحت لیاقت پور کے حکام کے مطابق اس واقع کے بعد 200 سے زائد جبکہ ای ڈی او ہیلتھ رحیم یار خان کے مطابق ضلع بھر میں 511 کتے تلف کیے جا چکے ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ ضلع بھر میں ایسا واقع رونما نہیں ہو گا۔اس دلخراش واقع کے بعد شہریوں کو اس وقت بھی سخت اذیت اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب یہ تین بچوں کے جنازوں میں کسی سرکردہ سیاسی یا انتظامی شخصیت نے شرکت کرنا تک گوارہ نہ کیا جس سے سیاست دانوں اور حکمرانوں کی اپنی عوام سے محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر موجود علاقے کے لوگوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر عام یا بلدیاتی انتخابات قریب ہوتے تو ان جنازوں میں سیاسی شخصیت کا تانتا بندھا ہوتا۔سول سوسائٹی نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ مذکورہ خاندان کیلئے فوری طور پر مالی امداد کا اعلان کیا جائے۔
وقت اشاعت : 2015-06-11

(1) ووٹ وصول ہوئے

قارئین کی رائے :

اپنی رائے کا اظہار کریں