تازہ ترین : 1
Zardari Ne Pentra Kiyon badla

زرداری نے پینترا کیوں بدلہ؟

سوئس بینکوں سے رقوم کی واپسی اور آئی جی سندھ کی تقرری پر اختلاف سے تعلقات میں بگاڑ!!۔۔۔۔ اپوزیشن پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے حکومت وقت کے خلاف تنقیدی بیان کوئی غیر معمولی بات ہی نہ ہی تعجب خیز ہے

اسرار بخاری
بے شک آصف زرداری کا بیان سیاسی دھماکہ ہے میاں نواز شریف سے "مفاہمت" کے تاثر نے مخالفت کا چولا بدل لیا ہے۔ آصف زرداری پیپلز پارٹی کے سربراہ ہیں جو پارلیمنٹ میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہیں اور اپوزیشن پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے حکومت وقت کے خلاف تنقیدی بیان کوئی غیر معمولی بات ہی نہ ہی تعجب خیز ہے۔ اس کے باوجود یہ بیان سیاسی دھماکہ اس لیے ہے کہ صدر زرداری نے یہ اعلان ایسے وقت میں دیا جب نوازشریف حکومت کئی مسائل سے دوچار ہے۔
عمران خان اور طاہر القادری حکومت گرانے کے لیے سر گرم ہو چکے ہیں۔ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ ساتھ پرویز رشید سر دھر کی بازی لگائیں ہوئے ہیں۔ عمران خان کا سونامی مارچ اور طاہر القادری کا انقلاب ایک ہو جائے تاکہ حکومت گرانے کا کا م جلد انجام تک پہنچ سکے۔اس مقصد کے لیے وہ تقریبا ہر روز طاہرالقادری کے گھر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔
بدھ کے روز تو بغیر اطلاح کے ہی پہنچ گئے۔طاہر القادری کو ان کی یہ ادا یا بے تکلفی پسند نہ آئی اور ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو کے بہانے انہوں نے ان تینوں کو اپنے ڈرائنگ روم میں انتظار کے لیے بٹھائے رکھا۔دراصل چوہدری برادران اور شیخ رشید نوازشریف کو ایک لمحے براداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں مگر خود کیوں کے اسے گرانے کی قوت نہیں رکھتے۔
طاہر القادری اور عمران خان کی احتجاجی تحریکوں نے ان کو روشنی کی کرن دکھائی ہے اور وہ اس کرن کو معدوم نہیں ہونے دینا چاہتے اس لیے بھاگ بھاگ کر طاہر القادری کے گھر کے چکر پہ چکر لگا رہے ہیں انہیں دھڑکا لگا ہے کہ طاہرالقادری کوئی ایسا چمتکار نہ دکھادیں کہ وہ حکومت گرانے کی مہم سے دستربردار نہ ہو جائیں اور بعض شرائط عائد کر کے انقلاب کو قدرے موخر نہ کردیں جب تک یہ انقلاب سڑکوں پر نہیں آجاتا ان تینوں افراد کو یہ دھڑکا لگا رہے گا اور اسی طرح ان کا آنا جانا بھی لگا رہے گا۔
بات آصف زرداری کے بیان سے شروع ہوئی تھی جو یوں ہے "نوازشریف کو وزیراعظم منتخب کیا گیا تھا لیکن وہ شہنشاہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔نوازشریف دوسرے صوبوں میں مداخلت نہ کریں‘وہ عمران خان کے اس مطالبے پر کیوں خوفزدہ ہیں کہ چار حلقوں کی دوبارہ گنتی کی جائے۔"
آصف زرداری کے محولہ بالا بیان کے تین حصے ہیں ایک تنقید ہے کہ وہ وزیراعظم کی بجائے جو ایک جمہوری اور عارضی عہدہ ہے سے شہنشاہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں جو غیر جمہوری اور مستقل عہدہ ہے جس کی حکومت کی مدت کی طرح اختیارات بھی لامحدود ہوتے ہیں بیان کا دوسرا حصہ ایک طرح سے انتباہ جیسا ہے کہ وہ دوسرے صوبوں میں مداخلت نہ کریں اور بیان کا تیسرا حصہ یہ ہے کہ نواز شریف عمران خان کے مطالبے پر چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کر وانے سے اجتناب کا مطلب ہے کہ وہ اس خدشہ کا شکار ہیں کہ دوبارہ گنتی میں دھاندلی کے شواہد مل سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ پوار الیکشن ہی مشکوک ہو جائے گااور اس طرح عمران خان کی جانب سے قبل از وقت انتخابا ت کے نعرے اور مطالبے میں جان پڑ جائے گی۔
اگر چہ معاشی میدان میں نواز حکومت نہ کئی اقدام کیے ہیں لیکن ماہرین معاشیات کے مطابق اس سلسلے میں ترجیحات کا صحیح تعین نہیں کیا گیا ہے۔پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور میں بجلی اور گیس کی بدترین لودشیڈنگ اس کی انتخابات میں شکست کا باعث بنی۔ ن لیگ نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا نعرہ لگایا پھر اس کے لیڈر اور کارکن لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں بھی پیش پیش رہتے اور وزیزاعلی پنجاب شہباز شریف تو خود اس احتجاج کا حصہ بن گئے اور مینار پاکستان کے سائے تلے ایک احتجاجی کیمپ لگایا کرتے تھے۔
اس لیے حکومت بنتے ہی ن لیگ کی پہلی ترجیح ہی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے تھا۔ تمام دستیاب وسائل کا رخ اس جانب موڑ دینا چاہیے تھے۔اگر چہ بجلی کمپنیوں کے پانچ سو ارب واجبات کی ادائیگی پر جس سے چند روز لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی رہی عوام نے سکون کا سانس لیا مگر پھر لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلط ہو گیا جبکہ حکومت کی ترجیحات میٹروبس میٹروٹرین جیسے میگا پراجیکٹس بن گئے ہیں یہ تمام پراجیکٹس بلا شبہ ملک کی ترقی کا چہرہ روشن کریں گے اور ان سے پاکستان کو ہی فائدہ پہنچے گا تاہم یہ فائدہ ان پراجیکٹس کی تکمیل کے بعد ہی ہو سکتا ہے اور یہ تکمیل بحرحال کچھ وقت کے بعد ہی ممکن ہے۔
نوازشریف حکومت کو اقتدار میں آتے ہی انقلابی قدم اٹھانا چاہیے تھا بجلی کمپنیوں آئی بی پیز سے معاہدے ختم کرنے کی سبیل کرنی چاہیے تھی یہ معاعدہ بے نظیر کے دور میں کیے گئے اور جن شرائط اور جس قیمت پر کیے گئے اس کا سارا فائدہ پاکستان کے لوگوں کی بجائے ان کمپنیوں کو ہوا ہے۔نوازشریف حکومت نے کیونکہ یہ معاہدے نہیں کیے تھے اس لیے ان معاہدوں کے خاتمے کے لیے عالمی عدالتوں سے رجوع کیا جا سکتا تھا مگر یہ کمپنیاں کیونکہ امریکی ہیں اور اس میں پاکستان کے بارسوخ افراد کے شئیز ہیں۔
یہ چیزیں شاید حکومت کے پاؤں کی زنجیر بن گئی ہیں ان معاہدوں کے باعث حکومت بجلی گھر کی پیداواری صلاحیت کے مطابق قیمت ادا کرنے کی پابند ہے مثلأ 300میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والی کمپنی کو حکومت اس کی ضرورت کے مطابق ایندھن فراہم کرے گی بصورت دیگر بجلی گھر کا مالک یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اپنی پوری گنجائش کے مطابق بل وصول کرے یعنی اگر بجلی پیداواری کی صلاحیت 300میگا واٹ ہے لیکن حکومت نے جو ایندھن فراہم کیا اس سے 200 میگا واٹ بجلی ہی پیدا کی جا سکتی ہے چناچہ بجلی کمپنی حکومت کو یا واپڈا کو 200میگا واٹ بجلی ہی فراہم کریں گی مگر قیمت 300میگا واٹ بجلی کی ہی وصول کریں گی کیونکہ اگر 100 میگا واٹ بجلی پیدا نہی ہوئی تو اس میں سارا قصور حکومت کا ہے اس طرح سے جو 100میگا واٹ کے پیسے مفت میں وصول کیے جاتے ہیں اس میں کمیشن کی خاصی گنجائش نکل سکتی ہے اور اس سلسلے کو ملی بھگت سے طویل مدت تک جاری رکھا جا سکتا ہے۔
غور طلب بات تو یہ ہے کہ عوام استعمال تو 200میگاواٹ کریں مگر بل 300میگا واٹ کا ادا کریں اس طرح بجلی پیدا کیے بغیر اربوں کھربوں روپے کھرچ کیے جا رہے ہیں۔ملک میں بجلی کی انتہائی ضرورت 19ہزار میگا واٹ بتائی جاتی ہے جبکہ گنجائش 21ہزار میگا واٹ کی ہے۔ایک اور دلچسپ پہلوں کا انکشاف بجلی و پانی کے وزیر مملکت عابد شیر علی نے کیا ہے کہ ملک کا ٹرانسمیشن سسٹم15ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی کا لوڈ برداشت نہیں کر سکتا۔
اسلئے اگر ملک میں 15ہزار میگاواٹکی بجلی پیدا کر لی جائے تب بھی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہے گا اگر چہ کمی ضرور واقعہ ہو گی اس لیے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لیے پورے ملک کے ٹرانسمیشن سسٹم کو بھی درست کرنا ہوگا اس لیے اگر حکومت کی جانب سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی مدت 2017ء بیان کی گئی ہے تو حقیقت پسندی پر مبنی ہے واپڈا کے سابق چئیرمین لیفٹیننٹ جنرل(ر)زوالفقار علی کے مطابق سسٹم میں بجلی شامل کرنے کی تشہیر درست نہیں ہے تاحال ایک میگا واٹ بجلی سسٹم میں نہیں آئی نندی پور پراجیکٹ بند ہے تاہم سولر سسٹم سے بھی ایک میگاواٹ بجلی بھی سسٹم میں نہیں لائی جاسکی۔
ملک میں 23ہزار میگاواٹ بجلی کی گنجائش ہے مگر عدم عدائیگی کی وجہ سے صرف14ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جبکہ بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔فرض کیا جائے حکومت تبدیل ہو جائے اور نئی حکومت کچھ بھی نہ کرے۔میگا پراجیکٹس نہ بنائیں ۔تعمیر و ترقی کے دیگر کام نہ کرے فقط بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم یا دو دن میں دو تین گھنٹے کر دے تو عوام کی سب سے مقبول حکومت بن جائے گی۔

جہا ں تک مسلم لیگ ن کی سیاست ‘اقدامات اور حکمت عملی کا تعلق ہے ان سے حکومت کو استحکام کی بجائے عدم استحکام کا خطرہ لاحق ہے۔کیونکہ ایک ساتھ کئی محاظ کھول لیے گئے ہیں۔صرف چودہ ماہ کے اندر جو محاظ کھول لیے گئے ہیں ان میں سب سے اہم فوج کے ساتھ تناؤ ہے۔جنرل پرویزمشرف‘طالبان کے ساتھ مذاکرات‘بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات اور ان ممالک کے ساتھ معاملات ،بھارت کے ساتھ تجارت میں عدم توازن،ایک میڈیا ہاؤس اور آئی ایس آئی کے مابین کشمکش میں حکومت کا میڈیا ہاؤس کی پشت پر کھڑا ہونا۔
ن لیگ کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو الگ شکوہ ہے کہ اپنی قیادت سے ملاقات مشکل اور دوسری پارٹیوں کے قائدین سے ملنا آسان ہے‘وہ ترقیاتی فنڈزنہ ملنے کی سیاست الگ کرتے ہیں۔بعض نہ تو برملا کہا ہے کہ اگر اپنی پارٹی میں اجنبی رہنا ہے تو کسی دوسری پارٹی میں کیوں نہ جگہ بنائی جائے۔جہا سنی جاتی ہو لیکن یہ جو 'سنی جاتی ہو'کا معاملہ ہے صرف اقتدار نہ ملنے تک ہے اس کہ بعد صورتحال ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔
بہرحال آصف زرداری جو مفاہمت کی سیاست سے چیمپئین بنے ہیں انہوں نے ایسا سخت بیان کیوں دیا اور وہ بھی ایسے وقت میں جب حکومت کو کئی محاظ کا سامنا ہے۔ان حالات میں اگر پیپلز پارٹی اپنا وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈال دیں تو نوازشریف کی حکومت کے لیے ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا۔زرداری کے بیان سے عمران خان اور طاہرالقادری کو تقویت ملی ہے۔ آصف زرداری کی نوازشریف سے اچانک ناراضگی کا سبب کیا ہے جس کا اظہار متذکرہ بیان میں ہوا ہے۔
یہ سوال سیاسی و صحافتی حلقو ں میں بری دلچسپی کے ساتھ زیر بحث ہے۔ ایک نقطہ نظر اور ہے جس کے حوالے سے منفی اور مثبت کردار اکا اظہار کیا جاسکتا ہے وہ نقطہ نظر یہ ہے کہ حکومت نے عید الفطر کے بعدایف آئی اے کی ٹیم سوئیزرلینڈ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو وہاں کے بینکوں میں جمع شدہ پاکستانی افراد کی رقوم واپس پاکستان لانے کے سلسلے میں سوئس حکام سے بات کرے گا۔
اگرچہ آصف زرداری کے 6ارب ڈالر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دوسری جانب منتقل کر دیے گئے ہیں مگر جب ان بینکوں میں پاکستانیوں کی جمع شدہ رقوم کی بات ہو گی تو آصف زرداری کی رقوم کا بھی ذکر آئے گا جو ظاہر ہے ان کے لیے نہ پسندیدہ بات ہو سکتی ہے اس طرح سندہ میں انسپکٹر جنرل سندھ کی تقرری بھی وفاق سے قدرے محاظ ارائی کا سبب بن رہی ہے۔گزشتہ دنوں وفاقی حکومت نے انسپکٹر جنرل کی تقرری کا اعلان کیا جس پر سندہ حکومت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا سندھ میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے چار ارب روپے کا اسلحہ خریدا جاتا ہے سندھ حکومت ایسا انسپکٹر جنرل لگانا چاہتی ہے جو اس کے اشاروں پر چلے۔
یہی وجہ ہے کہ آصف زرداری کی جانب سے نوازشریف کو دوسرے صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے اور عمران خان کے مطالبے کی حمایت کرکے گڑھے مردے اکھارنے سے باز رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے اگر چہ فی الحال اس حوالے سے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی لیکن اصل صورت حال بعض شواہد کی شکل میں سامنے آ جائے گی۔
وقت اشاعت : 2014-07-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں