بند کریں
بدھ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

فیصل آباد

فیصل آباد۔۔زاہد نذیر ن لیگ کے ٹکٹ کیلئے پر تولنے لگے
فیصل آباد میں بلدیاتی انتخابات کے دوران بہت سارے برج الٹ گئے اوراراکین اسمبلی کے بیٹے ‘ بھائی ‘ بھتیجے ‘ بھانجے اور قریبی عزیز و اقارب کو بھی کارکنوں نے شکست سے دو چار کردیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر اور رکن قومی اسمبلی میاں فاروق
احمد کمال نظامی:
فیصل آباد میں بلدیاتی انتخابات کے دوران بہت سارے برج الٹ گئے اوراراکین اسمبلی کے بیٹے ‘ بھائی ‘ بھتیجے ‘ بھانجے اور قریبی عزیز و اقارب کو بھی کارکنوں نے شکست سے دو چار کردیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر اور رکن قومی اسمبلی میاں فاروق کے صاحبزادے میاں قاسم فاروق جو کہ چیئرمین ضلع کونسل کے امیدوار بھی تھے‘ وہ بھی اپنے چچا اور تحریک انصاف کے امیدوار کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوگئے۔
میاں فاروق ایم این اے کے داماد اور میاں عبدالمنان ایم این اے کے بھانجے میاں اسماعیل بھی کامیابی نہ سمیٹ سکے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے فقیر حسین ڈوگر کا بیٹا علی ڈوگر بھی شکست کھا گیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین ضلع کونسل کے امیدوار اور سابق سٹی ڈسٹرکٹ ناظم و سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رانا زاہد توصیف کو شکست کاسامنا کرنا پڑا۔مسلم لیگ (ن) کے دونوں متحارب گروپوں رانا ثناء اللہ اور چوہدری شیر علی کے میئر کیلئے متوقع دونوں امیدوار شکست سے دو چار ہو گئے۔
رانا ثناء اللہ گروپ کی طرف سے ملک نواز ایم پی اے کے حمایت یافتہ میئر کیلئے متوقع امیدوار ریاض ملک کو شکست ہوگئی جبکہ چوہدری شیر علی کے میئر گروپ کی طرف سے ان کے بیٹے سابق میئر عامر شیر علی کو راناثناء اللہ گروپ کے عاشق رحمانی نے شکست سے دو چار کردیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین ضلع کونسل کی طرح فیصل آباد میئر کے متوقع امیدوار اور سابق ایم پی اے‘ تحریک انصاف کے سٹی آرگنائزر ڈاکٹراسد معظم کا بھائی شہزاد معظم بھی کامیابی نہ سمیٹ سکا اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سے شکست کھا بیٹھا۔
گویا مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف دونوں جماعتوں کے متوقع میئر اور چیئرمین ضلع کونسل کے امیدوار شکست کھا گئے ہیں۔ فیصل آباد میں عبداللہ پور کی سٹی کونسل پر سابق ڈسٹرکٹ نائب ناظم کی صاحبزادی سارہ امجد شیر علی گروپ کی طرف سے رانا ثناء اللہ گروپ کے امیدوار اور حقیقی چچا سابق ناظم میاں ہارون یاسین کو ہرا کراس نشست پر کامیاب ہوگئی ہیں۔
تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق سٹی ناظم ممتازعلی چیمہ بھی غیر متوقع طورپر کامیاب ہوئے ہیں۔ سابق سپیکر پنجاب اسمبلی اور ایم پی اے چوہدری افضل ساہی کے صاحبزادے جنید افضل ساہی میونسپل کمیٹی چک جھمرہ سے کامیاب ہوگئے ہیں۔ چوہدری افضل ساہی انہیں حکمران جماعت کی طرف سے چیئرمین ضلع کونسل کاامیدوار دیکھنا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ایم این اے چوہدری عاصم نذیر کے بھائی اور سابق ضلعی ناظم زاہد نذیر چوہدری انتخابات سے پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔
زاہد نذیر بھی مسلم لیگ ن کی طرف سے چیئرمین ضلع کونسل کا ٹکٹ حاصل کرنے کی جستجو میں مگن ہیں۔ فیصل آباد شہر میں ثناء اللہ اور شیر علی کے مابین سیاسی محاذ آرائی کی طرح آئندہ چیئرمین ضلع کونسل کی ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے بھی مسلم لیگ ن میں سخت محاذ آرائی سا منے آسکتی ہے اور اس ضمن میں افضل ساہی ‘میاں فاروق ‘ طلال چوہدری ‘راناثناء اللہ اور عاصم نذیر خاندان اپنے اپنے طورپر راہ ہموار کرنے میں زور لگاتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔
فیصل آباد میں 157سٹی کونسلز میں تحریک انصاف ‘ جماعت اسلامی اور ان جماعتوں کی طرف سے جن امیدواروں کی حمایت کی گئی تھی ان کی تعداد 25کے لگ بھگ بنتی ہے۔ جبکہ اس کے حصے میں صرف 18نشستیں آئیں۔اس کے علاوہ تمام سیٹیوں پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہی شیر، بالٹی‘ ہیرا اور دیگر نشانوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ فیصل آباد کے 7مسلم لیگی ارکان پنجاب اسمبلی میں سے 6راناثناء اللہ گروپ کی حمایت کررہے ہیں جبکہ چار ارکان قومی اسمبلی میں سے تین شیر علی گروپ کی حمایت کررہے ہیں۔
دونوں گروپ یہ تو کہہ رہے ہیں کہ میئر کا امیدوار پارٹی قائدین نامزد کریں گے لیکن یہ دونوں اپنے اپنے گروپ کے امیدواروں کیلئے بھی راہ ہموار کررہے ہیں۔ میئر ا کے انتخاب کیلئے نامزدگی دونوں کے درمیان ایک مسئلہ بن چکی ہے۔ چوہدری شیر علی گروپ 84 کامیاب امیدواروں کی حمایت کا دعویٰ کررہاہے جبکہ راناثنا ء گروپ اپنے امیدواروں کی واضح اکثریت میں کامیابی کادعویٰ کررہاہے۔
آئندہ دونوں گروپوں کے مابین یہ لڑائی مزید شدت اختیار کرے گی بلکہ ابھی سے شدت اختیارکرچکی ہے۔چوہدری شیر علی کے صاحبزادے عامر شیر علی کی شکست پر عابدشیر علی الزام عائد کررہے ہیں کہ رانا ثناء اللہ نے اس حلقے کا رزلٹ رکوائے رکھا اور چار گھنٹے تاخیر کی گئی۔مسلم لیگ ن کے دونوں دھڑوں کے درمیان یہ لڑائی آئندہ کیا رخ اختیار کرتی ہے اس کا دارومدار وزیراعظم نواز شریف کے فیصلے پر ہوگا۔
تاہم فیصل آباد کا میئر اور چیئرمین ضلع کونسل مسلم لیگ (ن) کا ہی ہوگا۔مسلم لیگ ن کے مقامی لیڈروں کے درمیان اس لڑائی کے باعث جو بد دلی پیدا ہوئی ہے اس کے آئندہ پارٹی پر بھی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ انتخابات کے روز گاڑی کے گھیراؤ کے بعد اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پرعابدشیر علی کا موقف ہے کہ وہ اپنے بھائی کے الیکشن کا رزلٹ جو روکا گیاتھا اسے معلوم کرنے نکلے تھے کہ ان پر راناثناء اللہ کے حامیوں نے حملہ کردیا۔
الیکشن کے روز تحریک انصاف کے ایک کارکن ہلاک جبکہ پانچ دیگرافراد زخمی بھی ہوئے۔ فائرنگ راناثناء اللہ خاں کے ڈیرے کے قریب کی گئی جبکہ اگلے روز وزیرمملکت پانی و بجلی عابدشیرعلی ‘ایم پی اے طاہر جمیل سمیت 25افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیاگیا ، جن میں سے 3افراد کو پولیس نے گرفتار بھی کرلیاہے۔ اس واقعہ پر تحریک انصاف رات گئے تک ناولٹی پل کے قریب دھرنا دیئے بیٹھی رہی۔
چک جھمرہ میں بھی ووٹ ڈالنے کے تنازعے پر 160ر ب بانگے کا نمبردار قتل کردیاگیا جبکہ ان کا بھائی شدید زخمی ہوا۔مجموعی طورپر یہاں پولنگ کا عمل پرامن انداز میں جاری رہااور لڑائی مارکٹائی کے واقعات میں دو پولیس اہلکاروں سمیت18افراد زخمی ہوگئے۔ اسی طرح چنچل سنگھ والا میں فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے۔جس پر راناثناء اللہ خاں صوبائی وزیر قانون کو ہنگامی پریس کانفرنس کرکے اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑی ہے۔ انتخابی عمل کے دوران اگرچہ حالات ساز گار رہے لیکن دیر تک نتائج نہ ملنے کی وجہ سے کہیں شکست ‘ کہیں فتح کے گمان میں قانون شکنی اور فائرنگ کے واقعات سامنے آئے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-06

(0) ووٹ وصول ہوئے