تازہ ترین : 1
Yeh Hai Pakistani Jamhoriat

یہ ہے پاکستانی جمہوریت

امیروں کی حکومت امیروں کیلئے۔۔۔ہمارے ہاں قومی خزانے میں رقم جمع ہونے کو ہی ترقی سمجھ لیا گیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ قومی خزانہ بھرا ہوتو ملک تیزی سے ترقی کرتا ہے

مصنف : سید بدر سعید
پاکستان میں کہنے کو جمہوریت رائج ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ موجودہ نظام عام آدمی کو کچھ نہیں دے پارہا۔ ہر جگہ با اثر اور طاقتور خاندانوں کا راج ہے جبکہ عام آدمی کے مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ نت نئے ٹیکسوں سے قومی خزانہ تو بھررہا ہے لیکن غریب فاقوں سے تنگ آکر خودکشیوں پر مجبو رہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مووجودہ نظام کی کامیوں کو درست کیا جائے اور اسے عام شہری کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جائے جب تک جمہوریت کے نام پر خاندانی بادشاہت رائج رہے گی ،تب تک مزدور کے مسائل حل نہیں ہوں پائیں گے۔

پاکستان اس وقت تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ بظاہر سب کچھ ٹھیک ہے لیکن درحقیقت صورتحال اتنی اچھی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں اعدادو شمار اور گراف میں ترقی دکھائی جاتی ہے لیکن اعدادو شمار کے اس گورکھ دھندے سے باہر نکل کر زمینی حقائق پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔۔ مہنگائی کی شرح جس رفتار سے بڑھ رہی ہے ، بیروزگاری کی شرح میں بھی اسی رفتار سے اضافہ ہورہا ہے۔
روز مرہ استعمال کی اشیا بشمول غذائی اجناس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس نے غریب آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
ہمارے ہاں قومی خزانے میں رقم جمع ہونے کو ہی ترقی سمجھ لیا گیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ قومی خزانہ بھرا ہوتو ملک تیزی سے ترقی کرتا ہے کیونکہ خزانے میں موجود رقم سے عوام کی فلاح و بہبود کے منوبے شروع کئے جاتے ہیں اور قوم کو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
جب عوام کو سہولتیں ملتی ہیں اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں تو ملک ترقی کی منزلیں طے کرنے لگتا ہے۔ یہی ترقی یافتہ اقوام کا چلن ہے اور اسے ہی جمہوریت کا حسن کہا جاتاہے ۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ جمہوریت کے نام پر چند خاندانوں کی آمریت چلتی ہے۔ اس طرح کے جمہوری نظام میں نہ تو ترقی ممکن ہوتی ہے ، نہ ہی عوام آدمی کو ریلیف ملتا ہے۔ انتخابی عمل اس قدر مشکل بنادیا گیا ہے کہ غریب آدمی کا منتخب ہونا ممکن ہی نہیں رہتا۔
درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اگر منتخب ہوبھی جائے تو اسے اہم وزارت نہیں دی جاتی۔ وزارت اعلیٰ یا وزارت عظمیٰ تو اس کیلئے محض خواب سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔وطن عزیز کے تمام جمہوری اداروں کا جائزہ لے لیں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ جمہوریت کے نام پر بھی محض بااثر اور صاحب ثروت طبقہ ہی حکومت کرتا رہا ہے۔ اب تو صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ جمہوریت کے لبادے میں حکمرانی کا حق بھی کاندانی بادشاہت کی طرح نسل درنسل آگے منتقل ہورہا ہے۔
سیاسی جماعتوں کیلئے خون پسینہ بہانے والے بھی بخوبی جانتے ہیں کہ انکی عمر بھر کی قربانیاں اس وقت بے ثمر ہوجائیں گی جب مقابلے پر پارٹی سربراہ کا بیٹا یا بیٹی آجائے گی۔ سیاسی جماعتوں کی سربراہی ہی نہیں بلکہ اہم وزارت اور مستقبل میں پارٹی سربراہ کو ملنے والے سیاسی و حکومتی عہدے پر بھی اس کے بچوں کا حق سمجھاجاتا ہے۔
جائزہ لیں تو موجودہ نظام میں چند خاندانوں کی ہی حکمرانی چل رہی ہے۔
جمہوریت کا فائدہ یا نقصان انہی کو ہوتا ہے۔ انتخابات میں دھاندلی ہونے یا نہ ہونے کا اثر بھی انہی پر پڑتا ہے۔ ڈالر کی قیمت کم یا زیادہ ہونے سے بھی انہی کو نفع نقصان ہوتا ہے۔ جدید سہولیات سے یہی طبقہ استفادہ کرتا ہے۔ بادشاہت سے لے کر کاروباری اتار چڑھاؤ کا اثر بھی صرف انہی پر ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں دکھائے جانے والے ٹاک شوزمیں جن امور پر بحث ہوتی ہے وہ بھی عام آدمی کے مسائل نہیں۔
اس کا تعلق بھی اسی خاص طبقے سے ہوتا ہے البتہ اسے پیش کرنے کا اندازہ ایسا ہوتا ہے کہ جیسے یہ عوام آدمی کے مسائل ہیں۔ نظام حکومت، عالمی منڈی، اسٹاک ایکسچینج ، ڈالر کے اتار چڑھاؤ سمیت تعلیم اور صحت جیسے کئی معاملات میں ایک مخصوص طبقہ کی اجارہ داری نظر آتی ہے۔ عام آدمی کے حالات ایسے ہیں کہ گوشت قوت خرید سے باہر ہوچکا ہے۔ سبزیوں کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کررہی ہیں، دالیں خریدنا عیاشی کے زمرے میں آتا ہے، آٹے سے لے کر گھی اور چینی تک ہر چیز میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔
نت نئے ٹیکسوں میں اضافہ عروج پر ہے۔ یہاں تک کہ مساجد کی انتظامیہ بجلی کے بل میں شامل ٹی وی لائسنس کی فیس تک ادا کرتی ہیں۔ دوسری جانب حکومت کو ترقی ہوتی اس لیے نظر نہیں آرہی ہے کہ مختلف مدوں میں ٹکس بڑھادیے جاتے ہیں۔ جن سے یقیناََ قومی خزانے میں اضافہ ہوتا ہے لیکن عوام کا خون چوس کر حد سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے کا یہ عمل ایس رخ اختیار کر چکا ہے کہ غریب اپنا چولہا بند کرنے پر مجبور ہوچکا ہے۔
خودکشیوں اور طاقتوں کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ چند افرادکے ہاتھوں میں کھیلنے والی اس نام نہاد جمہوریت کو اس کا اصل حق دیا جائے اور حکومت مہنگائی کی شرح میں اضافہ کم کرتے ہوئے عا م شہری کو بھی جینے کا حق دے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک امیر تو امیر تر ہوتا چلا جائے اور غیر فاقوں پر مجبور ہوتے جائیں۔ ایسا نظام زیادہ دیر تک چلے تو انتقام اور بغاوت کو جنم دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس انتشار کو بڑھنے سے روکا جائے اور عام آدمی کے مسائل حل کرنے کی جانب توجہ دی جائے تاکہ معاشرے میں خوشحالی اور امن قائم ہوسکے۔
وقت اشاعت : 2014-05-31

(2) ووٹ وصول ہوئے

Syed Badar Saeed

مصنف کا نام : سید بدر سعید

سید بدر سعید کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں