تازہ ترین : 1
Wirasti Siasat Ka Khatma

وراثتی سیاست کا خاتمہ ناگزیر ہے

کچھ عرصہ قبل تک خواتین نے کم از کم سیاست میں منفی رویوں کو نہیں اپنایا تھا لیکن اب جو سیاست کا بازار گرم ہے اس نے حلقے اور پورے پاکستان کے لوگوں کو حد درجے پریشان کر دیا ہے۔ ذہنی سکون برباد ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت وقت کو اپوزیشن تنقید کا نشانہ ضرور بنائے مگر شائستگی کے دائرے میں رہ کر ہمارے سیاستدان یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں

کچھ عرصہ قبل تک خواتین نے کم از کم سیاست میں منفی رویوں کو نہیں اپنایا تھا لیکن اب جو سیاست کا بازار گرم ہے اس نے حلقے اور پورے پاکستان کے لوگوں کو حد درجے پریشان کر دیا ہے۔ ذہنی سکون برباد ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت وقت کو اپوزیشن تنقید کا نشانہ ضرور بنائے مگر شائستگی کے دائرے میں رہ کر ہمارے سیاستدان یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ ہم نے انہیں اپنا ووٹ دے کر غلطی کی ہے۔
اس سے بڑی اعتماد کی توہین کیا ہو گی انہوں نے اپنے اٹھائے ہوئے حلف کی نفی کر دی۔ آئے روز ٹی وی سوشل میڈیا اخبارات میں ایک دوسرے پر جس تضحیک آمیز انداز میں کیچڑ اچھال رہے ہیں آخر ان بیچارے ووٹر اور عوام کا کیا قصور ہے۔ جو ان تکلیف دہ حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جو سیاست کی الف ب کو نہیں جانتے پروٹوکول کا شوق وزیراعظم بننے کا ارمان اور ہر وقت غریب عوام سے توقع رکھنا کہ ان کے الٹے سیدھے مطالبوں پر سر دھنتے رہیں اور ہماری احمقانہ خواہش کو عملی جامہ پہنائیں آخر کیوں؟ اس لئے کہ آپ کے دھرنے ،ریلیاں، ہڑتالیں، احتجاج کی فضا کو گرم رکھیں اور بیچارے جو روزگار، نوکری ، سکولوں، کالجوں کو جانے والے راستے بند کر دیں اور ان کا یہ کہنا کہ ملک کے اندر کرپشن ہے تمام پیسہ غبن ہو رہا ہے۔
آپ ان غریب عوام سے تو پوچھیں ملک کی تمام سکیورٹی آپ کی حفاظت آپ کے دھرنوں پر لگا دی جاتی ہے تو پھر ان غریب لوگوں کا کون ذمہ دار ہے؟ کیا آپ کو اندازہ ہے؟ اگر تخمینہ لگایا جائے جب سے منفی سیاست شروع ہوئی ہے ۔ کروڑوں بلکہ اس سے بھی زیادہ رقم کا ضیاع ہوا ہے اگر اس سے کوئی فلاحی کام ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا اور ملک کی معیشت کمزور نہ ہوتی۔
کسی ایک بات پر بھی یقین نہ کرنا ہٹ دھرمی ملکی حالات خراب کر رہی ہے۔ اسمبلی کی تذلیل کرنا ملک کے مقدس قانون کی دھجیاں بکھیرنا کہاں کی سیاست ہے آپ عوام کو کیا سبق دے رہے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے پارٹی میں کچھ منجھے ہوئے لوگ بھی اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ یہ سب غلط ہو رہا ہے۔ مگر پھر بھی حالات کو نہیں سنبھالتے۔ دوسری طرف وہ لوگ بھی ہیں جو ماضی میں شکست سے دوچار ہوئے بلند و بانگ دعوے ان کی پالیسی کی نفی کر رہے ہیں۔
کاش اس ملک میں ایک سیاسی درسگاہ ہوتی جو بہترین سیاستدان تیار کرتی تاکہ ہمارے ملک کی یہ صورتحال نہ ہوتی جو اب ہے۔
کچھ ایسے بھی بعض سیاستدان سستی شہرت کیلئے ملتان کے گھنٹہ گھر میں پر پھولوں کے ہار پہن کر سستی شہرت اپناتے ہیں۔ دکھ والی بات تو یہ ہے کہ ایک ہی جماعت کے عہدیدار، کارکن ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اپنی قیادت کو بھی دھوکہ دیتے ہیں۔
درپردہ مخالفت کر کے اپنے امیدوار کو کامیاب کروانے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کا بھائی، بہن یا کوئی قریبی رشتہ دار ہوتا ہے یہ وراثتی سیاستدان ہوتے ہیں یہی ان کا کاروبار ہے جسے یہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ بیچارے کارکن جو ملک و قوم کیلئے مخلصانہ خدمت کر رہے ہوتے ہیں ان کا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور یوں یہ حق تلفی ان کے اندر مایوسی بھر دیتی ہے جو اچھا عمل نہیں۔
ہمارے ملک کے اندر بہت سی سیاسی پارٹیاں ہیں کوئی تو سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرے۔ کوئی تو اسلام کے نام کا درس دیتا ہے اور کرپشن کے الزامات لگاتا ہے۔ ہمارا مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کسی پر بغیر ثبوت کے الزام نہ دھرو۔ ہر کوئی اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہا ہے۔ کسی کو نہ عوام کی پروا ہے اور نہ ان کے ووٹ کے تقدس اور اعتماد کی پاسداری ہے ۔ تنقید کرنا اپوزیشن کا حق اور جمہوری حسن ہے ناکہ اس حسن کو گہن لگ جائے۔
اگر کسی غلط کام کی تنقید نہ کی جائے تو برسراقتدار طبقہ اپنے فرائض سے غافل ہو جاتا ہے اور نہ ہی یہ احسن طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔ سب سے بڑی بھیانک اور غلط سو چ وراثتی سیاست ہے جو مخلص کارکنوں کا حق مار کر یہ سیاستدان حاصل کر رہے ہیں۔ یہ وراثت کی سیاست ملک سے ختم ہونی چاہئے تاکہ ملک کے اندر انصاف، رواداری کا بول بالا ہو۔
وقت اشاعت : 2017-01-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں