تازہ ترین : 1
Wazir-e-azam Ka Jalsa PP Non League Main Fasly Bhar Gay

وزیراعظم کا جلسہ پی پی، ن لیگ میں فاصلے بڑھ گئے

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے دورہ سندھ کے بعد پیپلز پارٹی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے جلسہ عام پر بھی ناراض ہوگئی۔ وزیراعظم نے نوشہرو فیروز کے طاقتور جتوئی خاندان کے ساتھ مل کر سیاسی طاقت اوراتحاد کا مظاہرہ کیا۔

شہزاد چغتائی:
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے دورہ سندھ کے بعد پیپلز پارٹی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے جلسہ عام پر بھی ناراض ہوگئی۔ وزیراعظم نے نوشہرو فیروز کے طاقتور جتوئی خاندان کے ساتھ مل کر سیاسی طاقت اوراتحاد کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان نے نوشہرو فیروز میں ایسے وقت جلسہ عام سے خطاب کیا جب آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو سندھ میں تھے۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے جلسہ عام میں اویس لغاری سابق وزیر مملکت ظفر علی شاہ جتوئی برادران اوردوسرے سیاسی اتحادی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اس وقت بلاول بھٹو کے ساتھ ایک اجلاس میں شریک تھے اور ان کو محکمہ تعلیم کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دے رہے تھے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دھواںد ھارتقریر کرکے مخالفین کو سخت پیغام دیدیا۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کو میثاق جمہوریت یاد دلادیا جس پر پیپلز پارٹی جوکہ سندھ میں مسلم لیگ(ن) کی یلغار پر چراغ پا تھی ‘ اکھڑ گئی اور واضح کیا میثاق جمہوریت کا جنازہ مسلم لیگ(ن) پہلے ہی نکال چکی ہے۔ جب سابق وزیراعظم نواز شریف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ وزیراعظم کے دورہ سندھ پر دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے بڑھ گئے۔
جلسہ عام میں وزیراعظم نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ مسلم لیگ مزید طاقتور ہوگئی ہے انہوں نے آگاہ کیا کہ ترقی کا سارا کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کراچی کا امن سی پیک منصوبہ بجلی گھروں کا قیام ایل این جی کی درآمد نواز شریف کی کامیابیاں ہیں۔وزیراعظم کا سافٹ پیغام یہ تھا کہ 4سال میں پاکستان کی ترقی ایک شخص کی مرہون منت ہے اور یہ اہداف محمد نوازشریف کی قیادت میں تمام اداروں کے ساتھ مل کر حاصل کیے گئے۔
کراچی آپریشن بھی نواز شریف کے ذہن کی اختراع تھی۔ناصر شاہ نے مسلم لیگ پر تابڑ توڑ حملے کئے ان کے سخت لب ولہجہ کے باعث دونوں جماعتوں میں تلخی بڑھ گئی۔ ناصر شاہ کیپٹن صفدر پر بھی برسے انہوں نے کسی کو نہیں چھوڑا اورکہا کہ مسلم لیگ کو سیاسی شہید بنایاجارہا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات ناصر شاہ کی پریس کانفرنس کے بعد مسلم لیگ(ن) اورپیپلز پارٹی کے درمیان تلخی بلندیوں کو چھونے لگی۔
ناصر شاہ نے پریس کانفرنس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف بہت سخت زبان استعمال کی جس پر سیاسی حلقے حیران ہیں۔ مسلم لیگ(ن) نے اب تک پیپلز پارٹی کے وزراءکو جواب نہیں دیا۔سیاسی حلقوں میں یہ سوال کیاجارہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت آخر کس بات پر برہم ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں پیپلز پارٹی کی ناراضگی کی بنیادی وجہ تو وزیراعظم کا جلسہ عام بنا کیونکہ پیپلز پارٹی نہیں چاہتی کہ سندھ میں اس کے ناقابل تسخیر قلعہ میں کوئی معمولی سا بھی شگاف ڈالے۔
اس کے برعکس سابق صدر آصف علی زرداری نے لاہور اسلام آباد اورپشاور کو مستقر بنایا ہوا ہے جہاں وہ مستقبل بنیادوں پر مورچہ لگائے ہوئے ہیں۔ آصف علی زرداری کئی بار کہہ چکے ہیں کہ آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہوگی بلاول بھٹو نے کے پی کے کے عہدیداروں سے پیر کو مشاورت کے بعد کہا کہ 26اکتوبر کو پشاور کے حلقہ این اے 4کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار گلزار خان کامیاب ہوں گے اس کے ساتھ پشاور میں تحریک انصاف کا سورج غروب ہو جائے گا۔
بلاول بھٹو پنجاب اور کے پی کے میںجلسوں پر جلسے کررہے ہیں۔ سندھ میں کوئی سیاسی رہنما جلسہ کرتا ہے تو پورے زرداری خاندان کی پیشانی پر بل پڑ جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر فریال تالپور کا ایک کلپ چل رہا ہے جس میں وہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بڑے تحکمانہ انداز میں یہ الفاظ ادا کر رہی ہیں کہ سندھ کے لوگوں کان کھول کر سن لو پارٹی بھی ایک ہے اورانتخابی نشان بھی ایک ہے۔
وہ تیر کانشان ہے اس لئے ادھر ادھر نہ دیکھیںاس سے قبل وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے مسلم لیگ کی صدارت دوبارہ سنبھالنے کے بعد پیپلز پارٹی چراغ پا ہوگئی تھی اس نے ایک شخص کیلئے قانون میں تبدیلی مذاق قرار دیدی اورکہا کہ نواز شریف کے حق میں ترمیم سے پارلیمنٹ کو نقصان پہنچا ہے جبکہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے ترمیم کا خیرمقدم کیا اور نواز شریف کو مبارکباد دی تھی۔
اس دوران پیپلز پارٹی نے نواز شریف کی پارٹی صدارت کی راہ ہموار کرنے والے ترمیمی بل کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور تحریک انصاف اورایم کیو ایم پہلے یہ فیصلہ کرچکی ہیں۔اس دوران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان چیئرمین نیب کے نام پر اتفاق ہوگیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس دن سکھر میں تھے جب خورشید شاہ نے ان سے جسٹس (ر) جاوید اقبال کے نام پر مشورہ کیا جس کے بعد اتفاق رائے کی خبر آگئی مسلم لیگ(ن) نے خورشید شاہ کی تجویز سے اتفاق کرلیا۔
جسٹس جاوید اقبال کا نام ان ناموں میں شامل نہیں تھا جوکہ سیاسی جماعتوں نے پیش کئے تھے۔پیپلز پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ وہ پہلے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار سے ناراض تھی اب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ناخوش ہے ایک جانب پیپلز پارٹی فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے دوسری جانب اس کی قیادت وزیراعظم ان کے خاندان پر برس رہی ہے۔ سیاسی حلقوں کیلئے یہ ناقابل فہم صورتحال ہے۔
پیپلز پارٹی بدستور دوہری پالیسی پر عمل پیرا ہے بعض جید سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری مسلم لیگ(ن) کو دباو¿ میں رکھ کر مطالبات منواناچاہتے ہیں اس قسم کی سیاست پر عمل پیرا ہوکر انہوں نے ماضی میں بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان خاموش مفاہمت موجود ہے۔کئی لحاظ سے پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری ہے وہ اپنا چیئرمین نیب بھی لے آئی۔
مسلم لیگ کی پوزیشن کمزور ہے اس کو ساری توجہ ٹرم مکمل کرنے پر مرکوز ہے۔ شاہد خاقان عباسی کو محمد نواز شریف کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔ 28 جولائی کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) میںکوئی دراڑ نہیں پڑی۔ لیکن مسلم لیگ کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں جن میں پیپلز پارٹی پیش پیش ہے شاہد خاقان عباسی اچھے منتظم ہیں لیکن نواز شریف جیسے طاقتور وزیراعظم نہیں۔
اس لئے قیادت کا خلا موجود ہے۔ دوسری جماعتوں کی طرح مسلم لیگ کا المیہ یہ ہے کہ متبادل قیادت موجود نہیں۔ مریم نواز کی پیش رفت کو روک دیا گیا۔ محمد نواز شریف کئی سال سے مریم نواز کی تربیت کر رہے تھے۔ انہوں نے بہت کچھ سیکھ لیا تھا مائنس نواز شریف فارمولے پر تو کسی حد عمل مکمل ہوگیا مائنس مریم نواز فارمولا موجود ہے۔ اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے باغیوں کی تلاش جاری ہے۔
کچھ باغی موجود ہیں لیکن ان کے حوصلے پست ہیں۔ 28جولائی کے بعد چوہدری نثار اورشہباز شریف کے اختلافات کو اچھالا گیا اور ہوا دی گئی لیکن جب نواز شریف شہباز شریف چوہدری نثار اور خواجہ سعد رفیق ایک کار میں سوار ہوکر مشاورت کرتے رہے تو مخالفین کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔ مسلم لیگ (ن) نے ایک حکمت عملی کے تحت نواز شریف اورشہباز شریف کے درمیان اختلافات کے تاثر کو زائل کرنے کی کوشش نہیں کی جبکہ اندر سے شریف خاندان سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا رہا۔
مسلم لیگ نے یہ بھی طے کیا ہے کہ نواز شریف اپنی جنگ لندن میں بیٹھ کر لڑیں گے اور سمجھوتہ نہیں کریں گے اس کے ساتھ مسلم لیگ(ن) نے سفارتی چینلز استعمال کرنے کافیصلہ کیا ہے۔پیپلز پارٹی کی ترجیحات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی عقابی نگاہیں سینٹ کے الیکشن پر مرکوز ہےں اس حوالے سے ایک نئی کشمکش شروع ہوگئی ہے ۔مخالفین کی خواہش ہے کہ سینٹ کے الیکشن سے قبل حکومت کو رخصت کردیا جائے مارچ میں مسلم لیگ (ن) سینٹ کا چیئرمین بھی لے آئے گی۔
حمزہ شہباز لاہور کے حلقہ نمبر120 میں انتخابی مہم کے موقع پر موجود نہیں تھے جبکہ ان کی پوری ٹیم مریم نواز کے ساتھ تھی محمد نواز شریف کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے ایم کیو ایم کی طرح مسلم لیگ کو گروپوں میں بانٹنے باغی لیڈر لانے کے کھیل کو ناکام بنادیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کیلئے یہ سازشی صورتحال نئی نہیں ہے۔
ماضی میں ان کو سیاسی طورپر تنہا کرنے کیلئے میاں اظہر اور چوہدری شجاعت حسین کو استعمال کیا گیا۔ اس سے پہلے حامد ناصر چٹھہ اورمیاں زاہد سرفراز جیسی شخصیات بھی اپنا کردار اد ا کر چکی ہیں۔ شیخ رشید احمد بھی اس قافلے کے مسافر ہیں۔ نواز شریف کے روایتی اور غیر روایتی حریف مسلم لیگ(ن) کو نیا ڈینٹ لگانے کیلئے 4سال سے کوشاں ہیں۔مسلم لیگ(ن) اوراس کی قیادت کو بھی اپنے خلاف نعرے لگانے والے چہرے واضح طورپر دکھائی دینے لگے ہیں۔
لیگی قیادت بھی اس ممکنہ اورمتوقع صورتحال سے پوری طرح آگاہ بتائی جاتی ہے اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت نواز شریف کے قریبی وزراءاور رہنماو¿ں کو اس ضمن میں خصوصی ٹاسک سونپا جا چکا ہے اورمشکوک اراکین اسمبلی کی ملاقاتوں ‘ رابطوں اورسرگرمیوں پرنظر رکھی جارہی ہے۔رکن قومی اسمبلی کیپٹن صفدر گرفتارہوگئے۔ لیکن پیپلز پارٹی ان کی گرفتاری سے خوش نہیں بلکہ اس کارروائی کو ڈرامہ اور ظلم قرار دے رہی ہے اورالزام لگارہی ہے کہ مسلم لیگ کو سیاسی شہید بنایا جارہا ہے صوبائی وزیر اطلاعات ناصر شاہ کو ڈاکٹر عاصم اور شرجیل میمن کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں یاد آرہی ہیں۔
سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ڈاکٹر عاصم ٹرکوں میں 5-5ہزار کے کرنسی نوٹ لیکر گئے تھے جو ان کے خلاف نیب نے 452 ارب روپے کا کیس بنادیا۔ کیا نیب نے کرپشن کا خاتمہ کیا۔ بالکل نہیں کیااس لئے میری التجا ہے کہ چورکو چور کہہ کر مخاطب کریں لیکن کسی کو دھونے کی کوشش مت کریں۔مجرم کومجرم کہیں لیکن بے گناہ کو مجرم نہ بنائیں۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے قومی سلامتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ادھر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی معاملات کو بہت زیرک انداز میں چلا رہے ہیں۔ نوشہرو فیروز میں حالانکہ انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیاجارہا۔ لیکن وہ ٹکراو¿ کی پالیسی کے خلاف ہیں وہ ہلکے پھلکے انداز میں چل رہے ہیں۔ ایک دو جملے پھینک کر وہ مسلم لیگ کے انتہا پسندوں کو خوش کردیتے ہیں لیکن بہت دانائی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
جس کے باعث سیاسی اورعسکری قیادت ایک صفحے پر نظر آنے لگی ہے۔ مسلم لیگ کے حلقے اس بات پر ناخوش ہیں کہ پیپلز پارٹی سابق وزیراعظم ذوالقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا عدالتی فیصلہ تو تسلیم نہیں کرتی لیکن محمد نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے فیصلے کا صبح وشام ڈھول پیٹ رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ نے بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تسلیم کیا پھر تحفظات کااظہار کیا۔ سابق وزیراعظم چاہتے ہیں کہ عدالت ہی ان کی نااہلی پر نظرثانی کرے۔
وقت اشاعت : 2017-10-13

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں