بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ٹائروں کا دھواں
باغات کے شہر کی تازگی کو نگلتا رہا۔۔۔۔۔۔پرانے ٹائرز جو کہ چلنے کے قابل نہیں رہتے اگر ان کو سرعام چوراہوں یا شاہراوٴں پر جلایا جائے تو اس سے انسانی صحت اور ماحول پر خاصے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں
عنبرین فاطمہ:
2013ء کے عام انتخابات کے بعد الیکشن میں حصہ لینے والی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے انتخابی نتائج کو نہ صرف قبول کیابلکہ میاں محمد نواز شریف کو ملک کا اگلا وزیر اعظم بھی تسلیم کیا۔پاکستان تحریک انصاف نے میاں محمد نواز شریف اور ان کی جماعت کو بھاری اکثریت سے ووٹ لیکر کر فتح کی مبارکباد دی تو سہی لیکن ساتھ ہی ساتھ انتخابات میں دھاندلی کا بھی مدعا اٹھایا۔
پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے جو کہ انتخابات سے چند دن قبل جلسے کے دوران سٹیج سے گر کر زخمی ہوگئے تھے عوام سے ہسپتال کے بستر پر لیٹے ووٹ کی اپیل کی، اس اپیل نے عمران خان کی متوقع سیٹوں میں اضافہ ضرور کیا لیکن بھاری اکثریت سے کامیابی نہ دلا سکی۔یوں سال بھر انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کا ایشو مختلف پلیٹ فارمز پر اٹھایا لیکن جب کہیں بھی ان کی شنوائی نہیں ہوئی تو انہوں نے 14اگست 2014کو اسلام آباد میں دھرنے دینے کا آغاز کر دیا۔
آہستہ آہستہ دھرنے جلسوں کی شکل اختیار کرنے لگے۔اب عمران خان ملک کے مختلف شہروں میں جلسے کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی تقریروں میں جہاں حکومت اور انصاف کے نظام کو چیلنج دیتے ہیں وہیں اپنے کارکنوں اور پی ٹی آئی کے سپورٹروں کو گھروں سے باہر نکلنے اور کام کاج چھوڑ کر جلسوں اور دھرنوں میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔عمران خان اپنی ہر تقریر میں پر امن احتجاج کی بات کرتے ہیں لیکن کیا پر امن احتجاج ہاتھ میں ڈنڈے اٹھا کریا سڑکوں کو ٹائر جلا کر بلاک کرکے کیا جاتا ہے؟۔
عمران خان کی دھرنوں اور جلسوں کی کالز سے عوام کا جینا محال ہو گیا ہے آئے دن جلسوں کیلئے ہر دوسراشہربند کر دیا جاتاہے۔تعلیمی اداروں اور دفاتر میں جانے والے لوگ انتہائی مشکل سے دوچار ہیں۔ جن لوگوں کی روٹی کا دارومدار ہی روزانہ کی کمائی پر ہوتا ہے وہ لوگ عمران خان سے تنگ آنے لگے ہیں۔یہ بات اپنی جگہ ہے کہ عمران خان کی شخصیت میں خاص قسم کی کشش ہے جو انہیں دوسرے لوگوں سے ممتاز کرتی ہے لیکن انہیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سیاست اور طرح کا کھیل ہے اس میں صبر تحمل کا مظاہرہ کسی بھی سیاستدان کی سمجھ بوجھ کا امتحان ہوتا ہے۔
جلسے کریں، دھرنے دیں لیکن عوام کی زندگیوں کو مشکلات سے دوچار نہ کریں اگر عمران خان نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو وہ دن دور نہیں جب تحریک انصاف کو لوگ” تحریک بے انصاف“ کہنا شروع کر دیں گے اور ان کی دھرنوں اور جلسوں کی کالز کو مسترد کرنے لگیں گے۔پی ٹی آئی کے جلسے کے روز تمام دن شہر کو ٹائرز جلا کر بلاک کئے جانے کا عمل فضائی آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔
فضائی آلودگی کا سبب بہت ساری چیزیں ہیں لیکن ٹائر جلانا ایک اہم وجہ گردانی جاتی ہے۔پاکستان جیسا ملک جو کہ پہلے ہی آلودگی کا شکار ہے وہاں اس طرح کا عمل ماحول کو خراب کرنے کے علاوہ مختلف بیماریوں کو بھی جنم دینے کا باعث بنتا ہے۔ لیکن پاکستان تحریک انصاف کے کارکن بغیر سوچے سمجھے ایسی حرکات کر رہے ہیں۔ٹائرز بنیادی طور پر گاڑیوں کے استعمال کیلئے بنائے جاتے ہیں جب یہ استعمال کے قابل نہیں رہتے تواس وقت اس کے دیگر استعمال کے بارے میں سوچا جانا ایک الگ بات ہے۔
پرانے ٹائرز جو کہ چلنے کے قابل نہیں رہتے اگر ان کو سرعام چوراہوں یا شاہراوٴں پر جلایا جائے تو اس سے انسانی صحت اور ماحول پر خاصے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ٹائرجلانے سے جو دھواں پیدا ہوتا ہے وہ اگرسانس کے زریعے اندر چلا جائے تو انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے دمہ کی شکایت ،سانس پھولنے کا مسئلہ قابل ذکر ہے۔اگر دھواں آنکھوں میں جائے تو آنکھوں کی بیماری ہوجانے کا احتمال ہوتا ہے۔
ٹائر جلانے سے پیدا ہونے والے دھوئیں سے شاید نارمل انسان کی صحت اتنی متاثر نہیں ہوتی جتنے بیمار انسان ،بچے ،عورتیں اوربوڑھے ہوتے ہیں۔ایک ٹائر جو بنتا ہے اس میں سو سے ڈیڑھ سو کمپاوٴنڈ ہوتے ہیں اس میں ربٹر،دھاگہ،نائلن ،آئل جیسی دیگر چیزیں ہوتی ہیں اور ٹائرجلنے کی صورت میں ان چیزوں سے صحت کو خاصا نقصان پہنچتا ہے۔اس کے علاوہ یہ دھواں فضا کو نہ صرف برباد کرتا ہے بلکہ پینے کے پانی میں شامل ہوجائے تو اس سے بھی صحت کو خاصا نقصان پہنچتا ہے۔
احتجاج ،جلسے اور دھرنے جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں لیکن ان کے نام پر ملک میں سیاسی انتشار پھیلانا اور عوام کو پریشان کرنا کہاں کی سیاست ہے؟۔سیاسی جماعتوں کوچاہیے کہ وہ کوئی ایسا لائحہ عمل اختیار کریں جس کے مطابق احتجاج کے دوران ٹائر جلانے جیسی مضر صحت اشیاء سے یکسر پرہیز کیا جائے اور سیاسی جماعتوں کے مابین احتجاج کے دوران ٹائر نہ جلانے کے فارمولے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔عمران خان کو چاہیے کہ وہ اپنے کارکنوں کو عوام کی صحت سے کھیلنے اور انہیں اذیت پہنچانے سے سختی سے باز رکھیں تاکہ ان کا ایک متوازن ،بااصول اور محب وطن لیڈر ہونے کا تاثر عوام میں فروغ پا سکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-18

(0) ووٹ وصول ہوئے