تازہ ترین : 1
Thar K Koyle Ne Nawaz Sharif Asif Zardari Ko Phir Mila Diya

تھر کے کوئلے نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کو پھر ملا دیا

خود بلاول بھٹو زرداری نے سندھ فیسٹیول کے سلسلے میں تاریخی آثار قدیمہ موہن جوداڑو میں جو تقریب سجائی اور بڑا سٹیج تیار کرایا اس کے خلاف ایک درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دی گئی تھی

سالک مجید:
ویسے تو مشہور کہاوت ہے کہ ”کوئلے کے دلالی میں ہاتھ کالے ہو جاتے ہیں“ لیکن تھر کے کوئلے کی کشش نے جب وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری وک ایک بار پھر ملا دیاتو کسی کے ہاتھ کالے نہیں ہوئے بلکہ ملک کو توانائی کے سنگین بحران سے باہر نکالنے کیلئے دونون سیاسی قائدین نے پاکستان کی تاریخ میں ایک اور نئی روایت قائم کی اور سیاست میں اختلافی نظریے اور متضاد خیالات کے باوجود ملک کے وسیع تر مفاد میں ایک ہوگئے او رقومی مفاد کے منصوبے پر سیاست نہیں کی بلکہ اسے ایک عظیم الشان منصوبہ بنانے اور اس کے ثمرات پورے ملک کے عوام تک پہنچانے کیلئے مل جل کر اقدامات کرنے کا اعزم اور اعلان کیا۔
31جنوری کو تھرکول پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب میں نواز شریف، آصف زرداری، سندھ بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ سمیت سرکرہ سیاسی رہنماؤں اور حکومتی شخصیات نے شرکت کر کے اس تقریب کو عملی طور پر چار چاند لگادئیے۔ اس موقع پر وزیرا عظم نواز شریف نے یہاں تک کہہ دیا کہ ”تھرکول حکومت سندھ کا نہیں بلکہ حکومت پاکستان کا منصوبہ ہے“ اس منصوبے سے علاقے میں خوشحالی آئے گی۔
منصوبے میں سندھ حکومت کی معاونت کریں گے۔ ناانصافی کو ختم کریں گے اور دیگر صوبوں کو اپنا حصہ ملے گا۔
سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اب سنجیدہ ہوچکی ہے۔ بڑے منصوبے کوئی سیاسی جماعت اکیلے آگے نہیں بڑھاسکتی، سب کوکام کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کی مدد کرنا ہوگی ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی تھر سے کامیاب ہوئی ہے۔
تھر کے لوگ پیار کرنے والے ہیں ان کا شکریہ ادا کرنا ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف کامزید کہنا تھا کہ قومی مسائل پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ مل کر کوششیں کرتے رہے تو 20 سال کے کام 5سال میں ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ جھمپیر کے علاقے میں ونڈا پاور کا منصوبہ 2017میں پورا ہو جائے گا۔ قومی مسائل پر سب کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ ان پر سیاست نہیں ہونی چاہئے ہر جماعت کا مختلف معاملات پر نقطہ نظر مختلف ہوسکتا ہے۔
کتنی اچھی بات ہے کہ ہم سب ایک مصف میں بیٹھے ہیں ہوسکتا ہے کہ ہمارا مل کربیٹھنا کسی کو اچھا نہ لگے لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑی ہے ہمارا مل کر بیٹھنا ملک کے کونے کونے میں ایک مثبت پیغام ہے۔ مخالفت کرنے والے دیکھیں ہم 21ویں صدی میں کھڑے ہیں۔
یہ بھی حسن اتفاق تھا کہ جس وقت نواز شریف اورآصف زراری ایک بار پھر سندھ کی دھرتی پر اکٹھے بیٹھے تھے اور ملکی مفاد کے بہترین منصوبے کی افتتاحی تقریب ہورہی تھی عین اسی وقت اسلام آباد میں خصوصٰ عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ایک اور درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کو بیرون ملک سفر سے روک دیا اور ان کے قابل ضمانت وارنٹ بھی جاری کردئیے۔
پرویز مشرف کودسمبر میں آصف زرداری نے ”بلا“ قرار دیا تھا اور نواز حکومت پر زور دیا تھا کہ بلا آکر پھنس گیا ہے اسے جانے مت دینا۔ پرویز مشرف خصوصی عدالت کا سامنا کرنے سے بچتے بچتے فارم ہاؤس سے ہسپتال چلے گئے اور ایک مہینہ یونہی گزرگیا لیکن سپریم کورٹ نے بھی مشرف کے وکلاء کی جانب سے 31جولائی کے فیصلے کے خلاف اپیل زائد المیعاد قرار دے کر کارج کردی جس کے بعد قانونی ماہرین اور سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطاب مشرف اور ان کے وکلاء کے پاس یہ آپشن رہ گیا ہے کہ وہ مشرف کو خصوصٰ عدالت کے سامنے پیش کرنے کی تیاری کریں اور اپنی توجہ مشرف کیس میں دفاع کرنے پر مرکوز رکھیں۔
مشرف کے وکلاء نے خصوصی عدالت سے درخواست کی تھی کہ مشرف کو طبی بنیاد پر بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی جائے۔ مشرف کے قریب ذرائع کے مطابق مشرف اپنے علاج کیلئے امریکہ جانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن خصوصی عدالت نے مشرف کی ہسپتال رپورٹوں کا تفصیلی جائزہ لینے اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنادیا اور مشرف کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا اور ان کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کئے گئے۔

ایک طرف آصف زرداری اور نواز شریف سیاسی پلیٹ فارم پر ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملاتے نظر آئے تو دوسری طرف ان کی اگلی جنریشن نے بھی آپس میں رابطے بڑھائے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے یکم سے پندرہ فروی کیلئے ترتیب دئیے گئے سندھ کلچرل فسٹیول کے مختلف پروگراموں میں شرکت کیلئے مریم نواز شریف کو دعوت نامے بھیجے جس پر مریم نواز شریف نے دعوت نامے موصول ہونے پر بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کیا اور ان کی تقریباے کیلئے تیک اور خیر سگالی جذبات کا اظہار بھی کیا جن کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر انکی شرکت کیلئے اصرار کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مریم نواز شریف سندھ ضرور آئیں اور بلاول بھٹو زرداری کو اپنی میزبانی کا موقع فراہم کریں۔

خود بلاول بھٹو زرداری نے سندھ فیسٹیول کے سلسلے میں تاریخی آثار قدیمہ موہن جوداڑو میں جو تقریب سجائی اور بڑا سٹیج تیار کرایا اس کے خلاف ایک درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دی گئی تھی جس میں درخواست گزارنے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ سندھ فیسٹیول کے پروگرام سے یو این کے تاریخی اہمیت کے حامل آثار قدیمہ اور موہن جودارو کھنڈرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے لہٰذا اس پروگرام کو روک دیا جائے۔
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ اور دیگر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کردئیے اور حکومت سندھ کو ہدایت کی کہ وہ تاریخی آثارت قدیمہ کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں اور آثارت قدیمہ کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ عدالت کی اس ہدایت کی روشنی میں بلاول بھٹو زرداری نے شرمیلا فاروقی اور فخر عالم سمیت آر کیالوجی کے ماہرین کے ہمراہ آثار قدیمہ کے پاس بنائے جانے والے سٹیج کی تیاری کا خود جاؤہ لیا اور ایسے اقدامات یقینی بائے کہ آثار قدیمہ کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی بڑی صاحبزادی بختاور نے گزشتہ دنوں اپنی سالگرہ کی سادہ مگر پروقار تقریب بلاول ہاؤس کراچی میں منائی اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ نے ان کو خصوصی مبارکباد پیش کی۔ سالگرہ تقریب کی سب سے اہم بات خصوصی بچوں کے ادارے دار اسکول سے اانے والے خصوصی بچے تھے جنہوں نے بختاورکے ساتھ مل کر کیک کاٹا۔ بختاور نے ان کو تحائف پیش کیے اور ان بچوں کے ساتھ بطور خاص کافی وقت گزارا۔
وقت اشاعت : 2014-02-17

(2) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں