بند کریں
بدھ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
تحریک انصاف کی اکثر اضلاع میں کامیابی
صوبہ کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کا آخری راؤنڈ بھی مکمل ہو گیا۔ منتخب ضلعی ممبران اور تحصیل ممبران نے ناظمین کا انتخابات کر کے ضلعوں تحصیلوں کی کمانیں سنبھال لیں
راجہ منیر خان:
صوبہ کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کا آخری راؤنڈ بھی مکمل ہو گیا۔ منتخب ضلعی ممبران اور تحصیل ممبران نے ناظمین کا انتخابات کر کے ضلعوں تحصیلوں کی کمانیں سنبھال لیں بلدیاتی انتخابات کے شروع سے لیکر آخری مرحلہ تک صوبہ بھر میں اپنی پارٹی کے خلاف انتخابات لڑنے کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک بات اس پورے بلدیاتی انتخابات میں دیکھنے میں ملی کہ پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے علاوہ باقی کسی بھی جماعت میں پارٹی ڈسپلن نہیں تھا۔
اگر الیکشن 2013ء کے نتائج اور پھر بلدیاتی انتخابات کے نتائج کا موازنہ کیاجائے تو پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ جبکہ قومی الیکشن میں بری طرح الیکشن ہارنے والی جماعتوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اور اس بلدیاتی انتخاب میں انہیں خاطر خواہ کامیابی ملی ہے۔ ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے صوبہ کے پی کے میں پاکستان تحریک انصاف کا مستقبل صوبہ کے پی کے میں کمزور ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
قومی الیکشن میں مسلم لیگ کے گڑھ ہزارہ ڈویڑن میں مسلم لیگ ن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سردار مہتاب احمد خان، پیر صابر شاہ، عمر ایوب جیسی قدآور شخصیات الیکشن ہار گئیں تھیں۔ جس سے ہزارہ میں مسلم لیگ ن کا مستقبل مخدوش ہوتا ہوا نظر آرہا تھا۔ لیکن مسلم لیگی قیادت نے ہزارہ میں دوبارہ کم بیک کیا۔ ہری پور ضلع کے علاوہ باقی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔
ہری پور کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار کو بھاری اکثریت سے شکست دی اب جبکہ ضلع ناظمین کے انتخاب کا مرحلہ آیا۔ تو ضلع ہری پور میں تحریک انصاف نے کلین سویپ کرتے ہوئے ضلع اور تحصیل میں حکومتیں بنائیں۔ ضلع مانسہرہ میں مسلم لیگ ن نے ضلع جبکہ دو تحصیلوں میں حکومت بنائی ضلع ایبٹ آباد میں صوبہ کے پی کے کا بہت بڑا اپ سیٹ ہوا۔
تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے پارٹی ٹکٹ کی غلط تقسیم کے بعد تحریک انصاف جسے واضح اکثریت حاصل تھی۔ میں فاروڈ بلاک بن گیا۔ جس کا فائدہ مسلم لیگ ن نے اٹھایا۔ شاید کوئی ایسا ضلع ہوگا جس میں تحریک انصاف کا فارورڈ بلاک نہ بنا ہو۔ جس سے صوبہ کے تمام اضلاع میں ملے جلے نتائج آئے ہیں۔ اور تحریک انصاف کو واضح برتری حکومت ہونے کے باوجود نہیں مل سکی ہے۔
اگر حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف دیکھا جائے اور ان کے نتائج کو جمع کیا جائے۔ قومی الیکشن اور بلدیاتی الیکشن کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات بڑی واضح ہو کر سامنے آگئی ہے کہ تحریک انصاف کی صوبہ میں مقبولیت میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ اور آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف خاطر خواہ نتائج نہیں دے پائے گی۔ کیونکہ اسکی صوبائی حکومت عوام کو کچھ بھی تبدیلی نہیں دے سکی ہے۔
کرپشن لاقانونیت کا وہی دور دورہ ہے با اثر شخصیات عام آدمی کو روندتے پھر رہے ہیں تھانوں میں کوئی انصاف نہیں ہے۔ محکمہ مال میں کرپشن کے خاتمے کے دعوے صرف دعوے ہیں سابقہ ادوار سے بڑھ کر کرپشن ہے۔ محکمہ تعلیم محکمہ صحت میں کوئی اصلاحات نہیں جوں کے توں ہیں ایسے حالات میں وہ کس منہ سے آئندہ انتخابات میں عوامی عدالت میں جائیں گے اس لئے وہ اپنی ناکامی چھپانے کے لئے احتجاج کا راستہ اپنائے ہوئے ہیں تاکہ وہ عوامی عدالت میں اسی طرح جاسکیں کہ ہم نے ملک اور صوبے کی بہتری کے لئے احتجاج کا راستہ اپنائے رکھا۔
دراصل یہ احتجاج کا راستہ انہوں نے صرف اپنے آپ کو اور پارٹی کو بچانے کے لئے اپنا رکھا ہے تاکہ کارکن متحدر ہیں۔ کرپشن کے خاتمے کے دعویداروں نے عمارتیں گرا کر نئے سرے سے ان کی تعمیرات کے اعلان کر رہے ہیں صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق احمد غنی اپنی تختی لگانے کے لئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کو گرا کر 23 کروڑ روپے کی لاگت سے نئے سرے سے تعمیر کرنے کا اعلان دراصل لوٹنے کا راستہ بنانا ہے ڈی ایچ کیو انفراسٹرکچر کے اعتبار سے بہترین ہسپتال بنی ہوئی ہے جو حکومت کی نا اہلی کے باعث ویران پڑی ہوئی ہے ایک سے دو کروڑ روپے میں اسکی حالت اور نئی مشینری نصب ہونے کے بعد بہترین ہسپتال بن سکتی ہے جس سے بہترین علاج کی سہولت میسر آسکتی ہے لیکن اس میں کمیشن کم ملے گا۔
اور عوام کو فائدہ ہوگا جو انہیں پسند نہیں ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-09

(0) ووٹ وصول ہوئے