تازہ ترین : 1
Tehreek e Insaaf K Azizullah AliZai KaamUmar Tareen Zilla Nazim Muntakhib

تحریک انصاف کے عزیز اللہ علی زئی کم عمر ترین ضلع ناظم منتخب

عزیز اللہ خان علی زئی کے چچا زاد بھائی، سابق صوبائی وزیر، ڈیڈیک چیئر مین نوابزادہ سمیع اللہ خان علی زئی نے رنگ ماسٹر کے طور پر ایک بار پھر کامیاب سیاسی گیم کھیلی اور نہ صرف تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے عزیزاللہ خان علی زئی کو ٹکٹ دلوانے میں کامیاب ہوگئے

یاسین خان:
بلدیاتی انتخابات کے آخری مرحلہ کی تکمیل کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عزیزاللہ خان علی زئی ڈیرہ اسماعیل خان کے کم عمر ترین ضلعی ناظم اور سردار کیپٹن (ر) عمر امین خان گنڈہ پور بلا مقابلہ تحصیل ناظم کا اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیا ب ہوگئے، ضلعی نظامت کے حصول کے لیئے عزیز اللہ خان علی زئی کو سخت محنت کرنا پڑی، انہیں مختلف بھاری بھرکم رکاوٹوں کا بھی سامنا تھا اور اس بات کو شدت سے محسوس بھی کیا جا رہا تھا کہ چونکہ عزیز اللہ خان علی زئی کے مد مقابل انتہائی مضبوط اور بااثر لابی سے قربت کے حامل امیدوار میدان میں ہیں جس کی وجہ سے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت بھی دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے عزیز اللہ خان علی زئی کو ضلعی نظامت کاٹکٹ جاری نہیں کرے گی مگر عزیز اللہ خان علی زئی کے چچا زاد بھائی، سابق صوبائی وزیر، ڈیڈیک چیئر مین نوابزادہ سمیع اللہ خان علی زئی نے رنگ ماسٹر کے طور پر ایک بار پھر کامیاب سیاسی گیم کھیلی اور نہ صرف تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے عزیزاللہ خان علی زئی کو ٹکٹ دلوانے میں کامیاب ہوگئے بلکہ اپنے سیاسی حریف، جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی نظامت کے امیدوار شیخ یعقوب کو بھی ایک نووارد کے ہاتھوں شکست دلوائی ،ضلعی نظامت کے لیئے تحریک انصاف کی جانب سے عزیز اللہ خان علی زئی اور جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے شیخ یعقوب امیدوار تھے، شیخ یعقوب جمعیت علمائے اسلام کی قیادت کے ساتھی انتہائی قریبی تعلق رکھتے ہیں، سینٹ کے ماضی قریب میں ہونے والے انتخابات میں بھی انہیں جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے سینیٹ کا امیدوار نامزد کیا گیا تھا مگر موصوف کامیابی حاصل نہ کرسکے اور شکست کھا گئے جس کے بعد انہوں نے ایک بار پھر تخت ڈیرہ کا خواب دیکھتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ سے یونین کونسل چہکان سے کامیابی حاصل کی اور ضلعی نظامت کے امیدوار نامزد ہوگئے، شیخ یعقوب کو ان کی عوام اور علاقہ دوستی کی وجہ سے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر سیاسی عمل میں ان کی بدقسمتی یہ کہ وہ مخلص ساتھیوں سے محروم ہیں جس کی وجہ سے وہ کامیابی کے قریب پہنچتے ہی ناکامی کی جانب گامزن ہوجاتے ہیں، اور یہی وہ وجوہات ہیں کہ ان کے نادان مشیروں نے انہیں زمینی حقائق دیکھتے ہوئے بھی عزیز اللہ خان علی زئی کے مد مقابل لاکھڑا کیا اور سیاسی میدان میں نومولود سے شکست شیخ یعقوب کے سیاسی کیرئیر کا حصہ بنا دیا،کیونکہ نتائج کے مطابق عزیز اللہ خان علی زی نے اکاون ووٹ حاصل کئے اور شیخ یعقوب بائیس ووٹ حاصل کر سکے ، اگر جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار علاقائی صورت حال اور زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلہ کی تکمیل کے بعد بروقت اپنے پتے کھیلتے اور سیاسی میدان میں سرمایہ کاری کرتے تو وہ یقینا ضلعی نظامت حاصل کرکے پورے پاکستان میں جے یو آئی کو سبکی سے بچا سکتے تھے ، جبکہ ان کے مد مقابل عزیز اللہ خان علی زئی کے چچا زاد بھائی نوابزادہ سمیع اللہ خان علی زئی نے بروقت سیاسی سرمایہ کاری کی، متعدد آزاد امیدواروں سے رابطوں کے زریعے انہیں تحریک انصاف میں شامل کرایا اور عددی برتری حاصل کرلی، نومنتخب ضلعی ناظم عزیزاللہ خان علی زئی کے والد مرحوم میجر لطیف اللہ خان علی زئی بھی ضلع ناظم ڈیرہ رہے ہیں اور اس خطہ میں انہیں عوامی سیاست اور علی زئی خاندان کی سیاسی بقاء کا بانی قرار دیا جاتا ہے، مرحوم میجر لطیف اللہ خان علی زئی کی بدولت آج بھی علی زئی خاندان کو عوامی حمایت حاصل ہے اور یہی نیک نامی عزیز اللہ خان علی زئی کی کامیابی کی دیگر جوہات میں سے ایک وجہ بھی تھی، ڈیرہ اسما عیل خان میں تحصیل نظامت کے لیئے تحریک انصاف کی جانب سے صوبائی وزیر ما ل سردار علی امین خان گنڈہ پور کے بھائی سردار عمر امین خان گنڈہ پور امیدوار تھے جبکہ سہ فریقی اتحاد کی جانب سے طارق رحیم کنڈی میدوان میں تھے ، تاہم ووٹنگ کے عمل سے قبل تحصیل کونسل کے ممبران کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجہ میں طارق رحیم کنڈی نے علاقائی ترقی کی ضمانت اور سیاسی محاز آرائی کو کم کرنے کے لیئے تحریک انصاف کے امیدوار عمر امین گنڈہ پور کے حق میں دستبرداری کا اعلان کردیا اور یوں عمر امین خان گنڈہ پور تحصیل ناظم ڈیرہ بننے میں کامیاب ہوگئے، اگر چہ تحریک انصاف نے تحت ڈیرہ پر قبضہ کرلیا مگر مخالفین کی جانب سے موروثی سیاست کے خاتمہ کے حوالے سے عمران خان کے اعلانات کو عملا روندنے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، مخالفین کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے کارکنوں کے ایک گروپ کا یہ موقف ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں خیبر پختونخواہ میں عمران خان شکست کھا گئے ، نظریہ شکست کھا گیا اور وزیر اعلیٰ اور تمام موروثی سیاستدان جیت گئے ہیں۔
وقت اشاعت : 2015-09-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں