تازہ ترین : 1
Tehreek e Insaaf Bagawat Ki Kefiat

تحریک انصاف…دیرینہ کارکنوں کو نظرانداز کرنے پر بغاوت کی کیفیت

تحریک انصاف ملتان کے کارکنوں میں ایک مرتبہ پھر شدید اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ پہلی مرتبہ 2012 ء میں یہ کیفیت دیکھنے میں آئی تھی جب پارٹی الیکشن ہو رہے تھے۔ اب ایگزیکٹو کونسل کے اعلان کے بعد دیرینہ کارکن بغاوت پر اترتے نظر آتے ہیں

راوٴ شمیم اصغر:
پاکستان تحریک انصاف ملتان کے کارکنوں میں ایک مرتبہ پھر شدید اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ پہلی مرتبہ 2012 ء میں یہ کیفیت دیکھنے میں آئی تھی جب پارٹی الیکشن ہو رہے تھے۔ اب ایگزیکٹو کونسل کے اعلان کے بعد دیرینہ کارکن بغاوت پر اترتے نظر آتے ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین نے 2012 ء کے پارٹی الیکشن کے خلاف اپنی رپورٹ کے بعد سفارشات بھی پیش کی تھیں جس پر پارٹی قائدین کافی پریشان ہوئے لیکن اس رپورٹ کو تسلیم کرنا ہی پڑا کیونکہ ملکی سیاست میں عمران خان کے موٴقف کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین کا فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس کے فیصلہ کی جھلک نظر آتی ہے۔ انہوں نے جو جیسا ہے اسے من و عن بیان کر دیا ہے کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی اور تحریک انصاف کے لئے انصاف کے تقاضے پورے کئے۔ وہ ماضی میں بھی اپنے ایسے فیصلوں کے باعث مشہور رہے ہیں۔ جسٹس وجیہ الدین کی رپورٹ دراصل قصور ان کا ہے جنہوں نے انہیں اس کام کیلئے منتخب کیا تھا۔
یہ کام اگر کسی دوسرے پارٹی رہنما یا ایم این اے وغیرہ سے کرایا جاتا تو رپورٹ بالکل مختلف ہوتی اور رپورٹ میں کہا جاتا کہ پارٹی میں یہ یہ بے ضابطگی ہوئی ہے۔ آئندہ اس کا خیال رکھا جائے اور پھر معاملہ ختم کر دیا جائے۔ تحریک انصاف کیلئے یہ بھی لمحہ فکریہ بن چکا ہے کہ پارٹی الیکشن کروائے تو انہیں ناقابل قبول قرار دے دیا گیا ہے۔ خیبر پی کے میں حکومت نے الیکشن کرائے تو ان پر اتنی انگلیاں اٹھیں کہ تحریک انصاف کو دوبارہ الیکشن کرانے کا کہنا پڑا۔
ایسی صورتحال میں قومی انتخابات پر اعتراض ایک سوالیہ نشان ہے اور حالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ غلط کو غلط کہنے پر مجبور ہو کر ہی تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں کو فارغ کرنا پڑا لیکن عبوری ڈھانچے بنانے کے لئے جو طریقہ کار منتخب کیا گیا ہے اس میں سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ مقامی شخصیت سے عبوری کمیٹیاں بنوانا اسے متنازعہ بنانے کے مترادف ہے۔
عبوری کمیٹیوں سے اضطراب پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ تحریک انصاف اب ایک بڑی پارٹی ہے اور اسے کسی علاقے میں 19 افراد تک محدود کردینے کے نتیجے میں یہی ہونا تھا جو ہو رہا ہے۔
مخدوم شاہ محمود حسین قریشی اس خطے کے سپوت ہیں ان کا بڑا احترام ہے لیکن ان سے ملتان ‘ بہاولپور اور ڈیرہ غازیخان ڈویڑنوں میں عبوری کمیٹیاں بنوا کر ان پر انگلیاں اٹھانے کے مواقع پیدا کر دئے گئے ہیں۔
ان کمیٹیوں کے انتخاب کیلئے سات ارکان کا طریقہ طے کر دیا گیا کہ وہ کون لوگ ہونگے باقی بارہ ارکان آرگنائزر کی صوابدید پر چھوڑ دئے گئے۔ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے ملتان کی سٹی ایگزیکٹو کونسل کیلئے جن 19 ناموں کا اعلان کیا گیا ہے ان میں مخدوم شاہ محمود حسین قریشی بطور اصولی رکن کے علاوہ چودھری خالد جاوید وڑائچ ‘امجد عباس‘ میاں طفیل انصاری‘ ندیم قریشی‘ ملک عامر ڈوگر‘ ظہیرالدین علیزئی‘ معین ریاض قریشی‘ شاہد محمود خان ‘ رانا عبدالجبار‘ سعید احمد قریشی‘ وسیم خان بادوزئی‘ میاں سلیم کملانہ‘ ڈاکٹر خالد خان خاکوانی‘ میجر ریٹائرڈ مجیب احمد خان‘ خواجہ سلیمان صدیقی‘ بابر شاہ اور سبین گل خان شامل ہیں۔
کمیٹی کے فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ کارکنوں کو فعال کریں ‘ متحرک کارکنوں کو سامنے لائیں اور بلدیاتی انتخابات کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ سٹی آرگنائزر کا انتخاب ابھی باقی ہے۔ کمیٹیوں کی تشکیل کے وقت دوسری بڑی خرابی یہ سامنے آئی ہے کہ جس طرح اراکین اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو اصولی طور پر رکن تسلیم کیا گیا ہے اسی طرح دیرینہ کارکنوں کو بھی ان کا جائز مقام دیتے ہوئے ہر کمیٹی میں ان کی سیٹیں مختص کی جانی چاہئیں تھیں۔
پارٹی کے وہ رہنما جو پندرہ پندرہ سال سے پارٹی کے ساتھ کھڑے تھے انہیں نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ کسی زمانے میں سابق ایم این اے میاں ساجد پرویز تحریک انصاف کے کرتا دھرتا ہوا کرتے تھے۔ وہ پارٹی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اب پارٹی کی کسی بھی صف میں نظر نہیں آتے۔ یہی صورتحال پرانے مقامی رہنماوٴں کے ساتھ ہے۔ وہ لوگ جن کی پارٹی کے ساتھ سٹینڈنگ چار سال کے لگ بھگ ہے اور وہ جو پندرہ سولہ سال کے ساتھ پارٹی کے ساتھ ہیں وہ کمیٹیوں میں نظر نہیں آرہے یا پھر اکا دکا ان لوگوں کو کمیٹیوں میں شامل کیا گیا ہے جو کسی طرح سے اپنا قد کاٹھ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
اس صورتحال میں پرانے کارکنوں کو ایک جگہ جمع ہو جانا اور پھر خود کو نظریاتی کارکن قرار دینے والوں کا بغاوت پر اترنا ایک فطرتی عمل ہے۔ پارٹی کے مقامی رہنماوٴں سلیم بخاری‘ جواد امین ‘فرخ زبیر‘ اشرف ناصر‘ فاطمہ اعجاز‘ اسد خان‘ ڈاکٹر شاہینہ انصاری‘ فاروق لنگاہ‘ بابر کھوکھر‘ عارف لودھی‘ راوٴ آصف اور نادر نواز نے جو پریس کانفرنس کی اس سے احتجاج کم اور بغاوت زیادہ نظر آتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نظریاتی کارکنوں کو نظرانداز کر دیا گیا ہے اور مفاد پرستوں کو ان پر حاوی کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ سٹی اور ضلع کی آرگنائزنگ کمیٹیوں کو فوری طور پر تحلیل کیا جائے بصورت دیگر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے کئی سنگین الزامات بھی لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے عام انتخابات میں دوسری جماعتوں کی کھلے عام سپورٹ کی تھی ان کا الزام تھا کہ شاہد محمود خان واپس مسلم لیگ ن میں جانے کیلئے کوشاں ہیں۔
معین ریاض قریشی آج تک پارٹی میں متحرک نظر نہیں آئے۔ زین قریشی(مخدوم شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے) اور ندیم قریشی پارٹی ٹکٹ ہولڈر نہیں پھر بھی انہیں تنظیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے دھرنے میں جو لوگ مسلسل شریک رہے وہ کمیٹی میں موجود نہیں جو لوگ ایک دو روز کیلئے گئے وہ کمیٹی میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ان کی پریس کانفرنس کا سب سے خطرناک حصہ یہ تھا کہ وہ جنوبی پنجاب کے ہر ضلع میں نظریاتی کارکنوں سے رابطہ کرنے جا رہے ہیں تاکہ اپنی آواز کو موٴثر بنایا جائے۔
پارٹی کے دیرینہ کارکنوں اور رہنماوٴں کی یہ دھمکیاں اور بغاوت کیا رنگ دکھاتی ہیں اس کا فیصلہ وقت نے کرنا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ جو لوگ پندرہ سالہ سال سے پارٹی کے ساتھ چل رہے تھے وہ اب بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ منزل انہیں مل رہی ہے جو شریک سفر ہی نہ تھے۔
وقت اشاعت : 2015-07-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں