بند کریں
بدھ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
طالبان سے مذاکرات
مولانا سمیع الحق ”کارڈ‘ کار آمد ہوسکے گا؟ وفاقی حکومت یقینا مذاکرات کا عمل شروع کرنے میں سنجیدہ نظر آرہی ہے جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کرنے کیلئے جہاں مولانا سمیع الحق کے کارڈ کو استعمال کررہی ہے

جمال الدین:
تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود نشانہ بنے تو فریقین کے مابین جہاں مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوا وہاں عوم کے اندر بھی غیر یقینی کی کیفیت اور گہری ہوگئی اور ان خدشات کا اظہار کیا جانے لگا کہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے نشانے پر رہنے والے شورش زدہ علاقے ایک بار پھر شدت کے ساتھ دہشت دردوں کے نرغے پر آئیں گے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں طالبان کی جانب سے حکومت سے مذاکرات کے بارے میں بعض ایسے بیانات سامنے آئے جن کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک کے اکثر حلقے اس رائے کا ظہار کرنے لے کہ طالبان اور حکومت کے درمیان امریکی ڈرون حملے کے بعد جو دوری پید اہوئی ہے، اسے ختم کرنے میں حکومت کو مشکل درپیش ہے۔

ماضی میں طالبان کے مختلف گروپوں کو مذاکرات کی میز پار لانے کے سلسلے میں جمیعت علماء اسلام (ف) کو اہم جماعت سمجھا جاتا تھا جس کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے فاٹا میں قیام امن کے لئے مختلف اوقات میں قبائلی جرگوں کا انعقاد بھی کیا۔ اب کی بار بھی جمیعت علماء اسلام (ف) کی طرف سے امریکی ڈرون حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں قبائلی جرگے کا انعقاد ہوا تاہم اس بار حکومت نے طالبان کو مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے کے سلسلے میں جمیعت علماء اسلام (س) کے سربراہ سمیع الحق کو چنا جن سے گزشتہ دنوں وزیر اعظم میں نواز شریف نے اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات شروع کرنے کا ٹاسک دیاجو یقینا ایک اہم پیش رفت ہے جس کے بعد یہ توقع کی جارہی ہے کہ جلد طالبان حکومت کیساتھ مذاکرات کا عمل شروع کر کے امن و امان کا مسئلہ باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا اقدام اٹھا سکتے ہیں ۔
ایسا ہوا تو حکومت اور طالبان کے سرمیان حکیم اللہ محسود کے ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد جنم لینے والی دوری سمٹ جائے گی۔ وزیر اعظم نے مولانا سمیع الحق سے اپنی اس ملاقات میں قیام امن کیلئے مذاکرات کے حوالے سے حکومتی سنجیدگی سے آگاہ کیا جبکہ مولانا سمیع الحق نے ڈرون حملوں سمیت طالبان کے بعض تحفظات وزیر اعظم کے سامنے پیش کئے۔ وفاقی حکومت یقینا مذاکرات کا عمل شرو کرنے میں سنجیدہ نظر آرہی ہے جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کرنے کیلئے جہاں مولانا سمیع الحق کے کارڈ کو استعمال کررہی ہے وہاں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے مطابق حکومت نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے مذاکرات کیلئے جب مولانا سمیع الحق کا کارڈ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تو صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے بھی اس کی تائید کی۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ تحریک انصاف پہلے ہی سے قیام امن کیلئے مذاکرات کے حق میں ہے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم نے مولانا سمیع الحق کو جو اختیار دیا ہے ہم اس کا خیر مقدم اور حمایت کرتے ہیں ۔
وفاقی حکومت کی جانب سے جس سنجیدگی کا اظہار کیا گیا ہے وہ دہشت گردی سے متاثرہ عوام کیلئے امید کی ایک کرن ہے جس سے استفادہ کیا گیا تو دہشت گردی کی طویل لہر پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
گزشتہ دنوں سینٹر جیل پشاور میں پاک فوج کی جانب سے کئے گئے اچانگ سرچ آپریشن نے کئی سوال اٹھائے ہیں۔ اپنی نوعیت کے اس پلے آپریشن کے دوران فوج نے جیل کا مکمل کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لیا اور جیل میں تعینات عملے اور وہاں رکھے گئے قیدی اس پورے عمل کے دوران گومگو کی کیفیت میں رہے کہ اس آپریشن کا مقصد کیا ہے اور یہ کن اطلاعات اور کس کیخلاف کیاجارہا ہے ۔
بہر کیف اس ضمن میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کی جیلوں پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد سینٹر جیل پشاور میں ہونے والے اس آپریشن کابنیادی مقصد یہاں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینا اور وہاں قیدیوں کے ساتھ ممکنہ طور پر موجودہ غیر قانونی موبائل سمز کو تحویل میں لینا تھا۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-16

(0) ووٹ وصول ہوئے