تازہ ترین : 1
Sobai Wazir Maal Ali Amin Gandapur K Khilaf 3 Muqadmaat

صوبائی وزیر مال علی امین گنڈہ پور کیخلاف تین مقدمات

ڈیرہ اسما عیل خان میں صوبائی وزیر مال سردار علی امین خان گنڈہ پور کی جانب سے جس قسم کے اقدامات دیکھنے کو ملے وہ تحریک انصاف کے منشور، عمران خان کے وڑن اور تبدیلی کے دعوؤں کے برعکس نظر آئے

محمد یاسین
خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات میں جس طرح سے حکومت مداخلت دیکھنے میں آئی اس سے ملک بھر میں تحریک انصاف کے نظریاتی کارکنوں میں بے چینی کا پیدا ہونا لازمی امر ہے، صوبہ کے دیگر اضلاع کی طرح ڈیرہ اسما عیل خان میں پولیس اور صوبائی انتظامیہ کی مشترکہ حکمت عملی کے باعث بلدیاتی انتخابات کے شفاف ہونے کے دعوے سوالیہ نشان بن گئے، ڈیرہ اسما عیل خان میں صوبائی وزیر مال سردار علی امین خان گنڈہ پور کی جانب سے جس قسم کے اقدامات دیکھنے کو ملے وہ تحریک انصاف کے منشور، عمران خان کے وڑن اور تبدیلی کے دعووں کے برعکس نظر آئے اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ تادم تحریر صوبائی وزیر مال کے خلاف تین مقدمات کا اندراج کیا جا چکا ہے جس میں ایک مقدمہ صوبائی وزیر کی موجودگی میں ان کے حفاظتی دستہ کی جانب سے فائرنگ کرکے ایک خاتون کا زخمی کرنے کے الزام کے تحت ، دوسر ا مقدمہ یونین کونسل ہمت کے پولنگ سٹیشن پر بیلٹ باکس چھیننے پر انتخابی عملہ کی جانب سے جبکہ تیسرا مقدمہ ہمت پولنگ سٹیشن پر پولیس اہلکاروں کو گریبان سے پکڑنے، سرکاری گاڑی کو لاتیں مارنے کے الزام کے تحت درج کئے گئے ہیں، اس حوالے سے اصل واقعہ کچھ یوں ہے کہ اکتیس مئی کو صوبائی وزیر مال سردار علی امین خان گنڈہ پور علی الصبح یونین کونسل ہمت کے ہمت اڈہ پولنگ سٹیشن پرووٹوں کی گنتی کے دوران پہنچ گئے۔
اس دوران انکی تھانہ صدر کے ایس ایچ اوسیف الرحمن کیساتھ بھی منہ ماری ہوئی۔بعدمیں وزیرمال ہمت پولنگ سٹیشن کے اندرداخل ہوئے اوراندر جاکربیلٹ باکسوں کواٹھا لیا اوراپنی گاڑی میں رکھا۔ صوبائی وزیر بیلٹ باکس اپنی گاڑی میں رکھ کر پولنگ سٹیشن کی حدود سے نکل ہی رہے تھے کہ علاقہ کے لوگوں نے ان کے گاڑی کا راستہ روک لیا اور علاقے کی مساجد پر اعلان کردیا گیا کہ تمام لوگ فورا پولنگ سٹیشن کی جانب پہنچیں جس پر عوام کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی اور انہوں نے صوبائی وزیر علی امین گنڈہ پور کی بلیٹ پروف گاڑی پر پتھراؤ شروع کردیا، جس سے ان کی گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے، تاہم شیشوں کی دوسری حفاظتی تہہ کے باعث وہ خود محفوظ رہے، عوام نے صوبائی وزیر مال کی گاڑی کے ٹائروں کی ہوا نکال دی۔
اس موقع پر مظاہرین نے صوبائی حکومت، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور علی امین کے خلاف سخت نعری بازی کی۔ انہوں نے کہا کہ کہ صوبائی وزیر مال کس قانون کے تحت بیلٹ باکس اپنی گاڑی میں لے جا رہے ہیں، عمران خان کو یہ دھاندلی کیوں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان میں اخلاقی جرات ہے تو وہ تحریک انصاف کی قیادت سے مستعفی ہو جائیں یا علی امین گنڈہ پور کو وزارت سے فوری طور پر ہٹائیں۔
تاہم مظاہرہ کے دوران علی امین خان گنڈہ پور گاڑی میں بیٹھے وکٹری کا نشان بناتے رہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کے حفاظتی گارڈ نے فائرنگ شروع کر دی فائرنگ سے ایک خاتون زخمی ہو گئی جس پر مظاہرین مزید مشتعل ہو گئے اور انہوں نے علی امین کی گاڑی کو آگ لگانے کی کوشش کی، بعض مظاہرین علی امین کی گاڑی پر چڑھ گئے تاہم موقع پر موجود ان کے سیاسی حریف ملک قیوم خود علی امین کی گاڑی کی چھت پر کھڑے ہوگئے اور مظاہرین کو مزید مشتعل ہونے سے روکتے رہے، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر نثار احمد ، ڈی پی او صادق بلوچ اور اسسٹنٹ کمشنر سلمان لودھی پولیس کی بھاری نفر ی کے ہمرا ہ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کے عمائدین نے ملک سعید، ملک وزیر، ملک قیو م کی طرف سے کامیاب مذاکرات کے بعد مسئلہ حل کرا دیا اور چھینے گئے بیلٹ باکس صو بائی وزیر ما ل علی امین گنڈہ پور سے واپس لے کر ریٹرننگ آفیسر اور عملہ کے حوالے کر دیئے۔
تاہم بعض ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ بیلٹ باکس پولنگ عملہ کے بجائے انہوں نے انتظامیہ کے حوالے کئے۔ دریں اثنا ء قانون کی خلاف ور زی کر نے پر ایس ایچ اوکینٹ سیف الرحمن خان کی مدعیت میں تھانہ صدرمیں وزیرمال سردار علی امین خان گنڈہ پور اورانکے بھائی امیدوارتحصیل ناظم سردارعمرامین خان گنڈہ پوراورانکے سیکورٹی گارڈزکیخلاف مقدمہ نمبر ایک سو چھیاسی 353-506-148-149ppc کے تحت رپورٹ درج کرلی گئی ہے۔
رپورٹ میں ایس ایچ اوسیف الرحمن خان نے کہا کہ انہیں وزیر موصوف نے گالیاں دیں ان کے گریبان پر ہاتھ ڈالا اورسرکاری گاڑی کولاتیں ماری جبکہ انکے سیکورٹی گارڈزنے ہم پر اپنا اسلحہ تان کرہمیں دھمکیاں دیں۔ دوسرا مقدمہ نمبر ایک سو اکہتر بریزائڈینگ آفیسر کی جانب سے درج کرایا گیا جبکہ تیسرا مقدمہ زخمی ہونے والی خاتون کی جانب سے درج کرایا گیا۔
اس حوالے سے وزیرمال خیبرپختونخواہ سردارعلی امین خان گنڈہ پور نے میڈیا کو بتایا کہ ان کو شکایات مل رہی تھیں کہ گنتی کے دوران مخالف امیدوار کے حامی مذکورہ پولنگ سٹیشن میں کھلے عام ٹھپے لگارہے ہیں جبکہ پولیس اورپولنگ عملہ خاموش ہے۔ چونکہ میں پی ٹی آئی کانمائندہ ہوں اسلئے خود مذکورہ پولنگ سٹیشن پہنچا اورجوکام میں نے کرنا تھا وہ میں نے کر دیا ہے۔
دھاندلی ہمیشہ مسلم لیگ ن نے کی ہے۔ یہ ہارے ہوئے لوگ ہیں۔اپنی ہاردیکھ کر اس قسم کی حرکات ہمیشہ ان کا وطیرہ رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ہمیشہ صبروتحمل کا مظاہرہ کیا ہے اورکرتے رہیں گے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر فیصل کریم خان کنڈی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے لئے یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے کہ وہ دھاندلی میں ملوث اپنے صوبائی وزیر کے خلاف کارروائی کرتے ہیں یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی صوبائی وزیر قانون سردار اسرار گنڈہ پور شہید کے قاتل کی صوبائی کابینہ میں موجودگی کی شکایات پر بھی عمران خان نے مظلوم کا ساتھ دینے کے بجائے خاموشی اختیار کی اور اب بھی اس دھاندلی پر ان کی خاموشی عام انتخابات میں ان کے دھاندلی کے دعوؤں اور الزامات کو اپنی موت آپ مارنے کا باعث بنے گی۔ ڈیرہ اسما عیل خان کی یونین کونسل ڈیوالہ اور ڈیرہ دیہات ون کے امیدواروں کی جانب سے بھی پولیس اور صوبائی وزیر علی امین کے خلاف احتجاج کا عمل جاری ہے اور شہر کے مصروف ترین مقام جی پی او چوک پر دھرنے دیے جا رہے ہیں۔
احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان جس نظام کی بہتری کے لئے کوشاں ہیں اگر علی امین جیسے لوگ ان کے قافلہ میں شامل رہے تو پھر یہ نظام تو دور کی بات تحریک انصاف بھی اپنے انجام سے دوچار ہو جائے گی۔
وقت اشاعت : 2015-06-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں