تازہ ترین : 1
Sirf Sindh Main Martial Law Lagane Ka Mutaliba

صرف سندھ میں مارشل لاء لگانے کا مطالبہ

الطاف حسین پہلے تو ملک میں مارشل لاء لگا کر لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا مطالبہ کرتے تھے اب انہوں نے امن کے نام پر وزیراعظم نواز شریف سے صرف سندھ میں مارشل لاء لگانے کے مطالبے پر بھی اکتفا کر لیا ہے

شہزاد چغتائی:
وفاق کی طرح سندھ میں بھی ایکشن پلان تیار ہو گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ شہر قائد میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ بڑھ گئی ہے۔ شہر میں گزشتہ 16 ماہ سے آپریشن جاری ہے لیکن ٹارگٹ کلرز اور دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں۔ ایک ایک پولیس مقابلے میں چودہ چودہ دہشت گرد مارے جا رہے ہیں اور اسی رفتار سے پیدا بھی ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف جب کراچی آتے ہیں توخفیہ ہاتھ سرگرم ہو جاتا ہے۔
دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ آسمان کی وسعتوں کو چھونے لگتی ہے۔ اس بار وزیراعظم کو پیر کو کراچی آنا تھا جس کی اطلاع ملتے ہی ملک دشمنوں نے کراچی میں قیامت ڈھا دی اور ایک دن میں 11 افراد مار دئیے گئے۔جن میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ڈائریکٹر‘ کے ایم سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر‘ پولیس والے اور ایک ڈاکٹر بھی شامل تھا۔ اتنے لوگ مارنے کے بعد ان کو پتہ چلا کہ وزیراعظم کراچی نہیں آ رہے تو انہوں نے ہاتھ کھینچ لیا۔
دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور پولیو مہم کے دوران دہشت گردوں کے حملے میں پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد کراچی میں ایک بار پھر ڈبل سواری پر پابندی لگا دی گئی ہے لیکن احکامات تین روز کے لئے جاری کئے گئے ہیں۔ تین روز کے بعد کیا ہو گا؟ کیا دہشت گردی رک جائے گی۔ سیکرٹری داخلہ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے۔
نیا سال پولیس اور رینجرز کے لئے اچھا ثابت نہیں ہوا 18 دن میں قانون نافذ کرنے والے 18 افراد قتل کر دئیے گئے۔
اس مدت میں 4 ڈاکٹروں اور وکیلوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ آپریشن کے باوجود کراچی کا امن بدستور سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ شہر میں ٹارگٹ کلرز اور لیاری میں گینگ وار حکومت کو چیلنج کر رہے ہیں۔ لیاری میں پولیس والوں سمیت 22 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ لیاری بدستور میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ جمعہ کو بابا لاڈلا اور عذیر بلوچ گروپوں کے درمیان رات بھر بعض علاقوں بشمول ریکسر لائن کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ جاری رہی۔
اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے۔ دوسرے دن موسیٰ لین کی پولیس چوکی پر موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے کانسٹیبل سعید اور نیاز کو قتل کر دیا۔ نارتھ ناظم آباد اور اورنگی میں بھی یومیہ کی بنیادوں پر پولیس والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آئی جی سندھ نے پولیس کی حفاظت کے لئے جو گائیڈ لائن دی تھی اس پر عمل نہیں ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس کے بجائے آئی جی کی سیکورٹی بڑھا دی گئی۔
پیر کو جب آئی جی دورے پر نکلے تو ان کے ساتھ پروٹوکول کی 17 گاڑیوں کا لاؤ لشکر تھا۔ سندھ کے پولیس چیف اورنگی ٹاؤن بھی گئے جہاں دہشت گردوں نے پولیس اور پولیو ورکرز پر حملہ کر کے پولیو مہم رکوا دی تھی اور اے ایس آئی کو زخمی کر دیا تھا۔ لیاری کا تشدد ملیر میمن گوٹھ سے ساحلی علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ خصوصاً ملیر میمن گوٹھ‘ ساحلی علاقوں لنک روڈ‘ سپر ہائی وے پر گینگ وار کا مکمل کنٹرول ہے جہاں یومیہ کروڑوں روپے کا بھتہ وصول ہو رہا ہے۔
اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ لیاری کے تشدد میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے اور ساحلی علاقوں تک خفیہ ہاتھ کی حکمرانی ہے۔ گینگ وار اور علیحدگی پسندوں کے رابطے اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ لیاری میں رینجرز کے آپریشن کے بعد مطلوب افراد ساحلی علاقوں کی جانب نقل مکانی کر گئے ہیں جہاں سے علیحدگی پسندوں نے ان کو بلوچستان بھجوا دیا۔ بلوچستان میں پڑوسی ملک نے اپنی سرحدیں بلوچ نوجوانوں کے لئے پہلے ہی کھول رکھی ہیں اور ان کو مختلف ترغیبات دی جا رہی ہیں۔

سال کے پہلے 20 روز میں 100 بے گناہ افراد جان سے گئے۔ امن کے دعوے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پولیس خود اپنی حفاظت میں ناکام ہے تو وہ شہریوں کی حفاظت کیا کرے گی۔ کراچی کی یونیورسٹی روڈ قاتلوں کی جنت بن گئی ہے جہاں اب تک 50 افراد قتل کئے جا چکے ہیں جن میں اہم شخصیات‘ صحافی‘ ڈاکٹر‘ وکیل‘ پروفیسر‘ سرکاری افسر‘ پیش امام اور پولیس والے شامل ہیں۔
کے ایم سی اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹرز کو جس مقام پر نشانہ بنایا گیا وہاں جامعہ کراچی کے پروفیسر شکیل اوج اور دوسرے افراد کو بھی گھات لگا کر مارا گیا تھا۔ کے ایم سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ یوسف طلعت سینئر صحافی نذیر خان کے صاحبزادے تھے۔دریں اثناء کراچی کی نگرانی کے لئے فوجی چوکیاں قائم کرنے اور 20 لاکھ افغان باشندوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ادھر کراچی میں جاری آپریشن کو سندھ بھر میں توسیع دے کر اسے قومی ایکشن پلان کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے سندھ کی چوٹی کی کمیٹی اور ذیلی کمیٹیوں کے کئی اجلاس ہو چکے ہیں۔ سانحہ پشاور سندھ کی بیوروکریسی کے لئے رحمت ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم جب کراچی آپریشن کے بارے میں اجلاس کی صدارت کرنے کراچی آئے تھے تو حکومت سندھ نے اسلحہ اور جدید آلات خریدنے کیلئے 10 ارب روپے مانگ لئے تھے اب حکومت نے سندھ میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لئے 32 ارب روپے کے اخراجات کیلئے درخواست کی ہے۔
دوسری جانب آئی جی جیل خانہ جات نے بھی جیلوں کی حفاظت کے لئے اربوں کے فنڈز کا مطالبہ کیا ہے اگر وفاق سے مالی امداد ملنے پر بیوروکریسی کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ چنانچہ بیوروکریسی کی عقابی نگاہیں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بجائے فنڈز کے حصول پر مرکوز ہیں۔ سندھ امن و مان کی صورتحال پر 52 ارب روپے پہلے ہی خرچ کر رہا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے پولیس کے شہداء کی قربانیوں کے اعتراف میں ان کے لواحقین کیلئے معاوضہ ایک کروڑ روپے فی کس کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پولیس فاؤنڈیشن کی تقریب میں آصف علی زرداری نے شہداء کے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھا اور ان کو نوکریاں دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ایک یتیم بچی سے پوچھا کہ گھر کا خرچ کیسے چل رہا ہے۔ گزشتہ سال 150 پولیس والے شہید کر دئیے گئے تھے جن میں ایس ایس پی سے لے کر کانسٹیبل تک شامل تھے۔ زیادہ تر پولیس والے کراچی کے شمالی علاقوں میں مارے گئے جہاں طالبان‘ علیحدگی پسندوں اور گینگ وار کا کنٹرول ہے۔
ایس ایس پی سی آئی ڈی چودھری اسلم اور انسپکٹر شفیق تنولی کو شدت پسندوں نے نشانہ بنایا اور طالبان نے اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ پولیس کے شہداء کے لئے حکمراں بلاشبہ بڑے بڑے معاوضے اور نوکریاں دینے کا اعلان کرتے ہیں لیکن عملدرآمد کے لئے ان کے بچے دربدر پھرتے ہیں۔ سندھ میں ایک جانب دہشت گردی‘ ٹارگٹ کلنگ‘ اغواء برائے تاوان کے واقعات بڑھ رہے ہیں تو دوسری جانب حکومت سندھ کو سیاسی بحران کا سامنا ہے۔
سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہر یار مرزا کے اس علان کے بعد حکومت کے ایوانوں میں سراسیمگی پھیل گئی تھی کہ جلد یا بدیر وہ حکومت سندھ کو رخصت کر دیں گے۔ صوبائی حکومت کو گرانے کے لئے اگرچہ 8 ارکان اسمبلی کی ضرورت ہے مگر شہر یار مرزا کہتے ہیں آخری آپشن کے طور پر وہ اسمبلیوں سے مستعفی بھی ہو سکتے ہیں۔ استعفوں کی یہ دھمکی کیا رنگ لاتی ہے اس سے قبل یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ تحریک انصاف کے 4 ارکان اسمبلی کے استعفے سپیکر کی جانب سے منظور کرکے الیکشن کمیشن کو بھجوائے جا چکے ہیں۔
اب یہ بات بھی اہمیت سے خالی قرار نہیں دی جا سکتی ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پہلے تو ملک میں مارشل لاء لگا کر لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا مطالبہ کرتے تھے اب انہوں نے امن کے نام پر وزیراعظم محمد نوازشریف سے صرف سندھ میں مارشل لاء لگانے کے مطالبے پر بھی اکتفا کر لیا ہے۔ مستقبل میں ان مطالبات کے نتائج کیا نکلتے ہیں؟ مگر فی الحال ایم کیو ایم اپنے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ پر کراچی کے اہم مقامات پر دھرنے دینے پر بھی غور کر رہی ہے۔
وقت اشاعت : 2015-01-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں