بند کریں
جمعرات مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سنگھ پریوار کا ”بالک گھر واپسی“ پروگرام
13بھارتی ریاستوں میں مسلمانوں کے ارتدادکاناپاک منصوبہ ایجوکیشن ٹورکے نام پر مسلم طلبہ کی آرایس ایس کیمپوں میں برین واشنگ
رابعہ عظمت:
بھارت میں فرقہ پرست حکومت کے برسراقتدار آتے ہی مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا ہے انہیں اسلام سے پھیرنے کیلئے نت نئے حربے آزمائے جارہے ہیں۔مسلمانوں کوجبراََمذہب تبدیلی کے بعد اب متعدد بھارتی ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ کی برین واشنگ کی جارہی ہے اور اس مقصد کیلئے ایجوکیشن ٹورکے نام پرمسلم طلبہ کوآرایس ایس کے تربیتی مشق کے ساتھ ساتھ ہندومذہب کی تعلیمات سے روشناس کراتے ہوئے ہندوبن جانے کی ترغیب دی جارہی ہے۔
اس سازش میں آر ایس ایس اور بی جے پی سمیت حکومتی ممبران کاگٹھ جوڑسامنے آیاہے، جس کو آر ایس ایس نے ” بالک گھر واپسی“ کانام دیا ہے۔مصدقہ اطلاعات کے مطابق آرایس ایس کوجانب سے ایک منظم پروگرام کے تحت سینکڑوں مسلمان بچوں کوہندو شناخت کے ساتھ سنگھ پریوار کے یربیتی مراکز میں لیجایاجارہاہے وہاں ان کوبھگوان کی مورتیوں کی پرجابھی سکھائی جاتی ہے۔
کیمپوں می مسلمان بچوں کویہ باور کرایا جاتا ہے کہ کسی مسلمان کاہندوانہ نام سے کوئی مسئلہ درپیش ہوجائے توانہیں چاہئے کہ وہ شناختی کارڈکااستعمال کریں جس میں مسلم طلبہ کوہندونام دیئے گئے ہیں تاہم مسلمان طلبہ کے خلاف یہ سازش اس وقت نقاب ہوئی جب اترپردیش کے سدھارتھ نگر سے تعلق رکھنے والے ایک آٹھویں جماعت کے مسلمان طالب علم گلزاراحمد کے والد محبوب احمدنے مقامی پولیس اسٹیشن میں درخواست دی کہ ان کے بیٹے گلزاراحمد کوان کے ہیڈماسٹر نے ایجوکیشن ٹورکے نام پر ہندو نام کی شناخت دیکر آر ایس ایس ٹریننگ کیمپ بھیج دیا، وہاں سات دن تک بچے کومختلف ورزشیں کروائی گئیں اور ہندوبن جانے کیلئے برین واشنگ کی گئی۔
کیمپ کے اختتام تک گلزاراحمد کے معصوم ذہن میں اٹھنے والے سوالات جڑپکڑگئے اور اس نے اپنے والد سے ہندو مذہب اور آرایس ایس کی ٹریننگ کے حوالے سے کچھ سوالات کئے جس سے محبوب احم کوتشویش لاحق ہوئی اور انہوں نے آرایس ایس کے مسلم مخالف پروگرام کے خلاف مقامی تھانے میں رپورٹ درج کرادی۔محبوب احمد کاکہناہے کہ مقامی پولیس اس ضمن میں آرایس ایس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی تودرکنار، ایک سرکاری کالج کے اندکیمپ کے انعقاد کی تفتیش کرنے کوتیار نہیں۔
معتبرذرائع سے یہ بھی معلوم ہواہے کہ گلزار کو ہندو بچہ ظاہر کرکے تربیتی مرکزمیں بھیجا گیا تھا۔
ہندی روزمامہ رینک بھاسکر کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بچے جب ٹریننگ کیمپ سے واپس آئے تو سنگھ پریوار کی یونیفارم یعنی ہاف شرٹ، سیاہ ٹوپی، ہاتھ میں ڈنڈا اور مخصوص شناختی کارڈ کے ساتھ تھے جس کودیکھ کرگلزار کے والد حیران رہ گئے۔گلزار کے والد کے مطابق ان کو جونیئر ہائی سکول کے ہیڈماسٹر نے طلب کرکرے کہا تھا کہ ان کے بیٹے کوایک ایجوکیشنل ٹریننگ کیمپ میں بھیجا جارہاہے ، اس لئے آپ اس کی آمدرفت اور قیام وطعام کے سلسلے میں ساڑھے چار سوروپے ادا کریں۔
گلزار کے والد کویہ معلوم نہیں تھا کہ ان کے بیٹے کوہندوبناجارہاہے۔اس کانام آر ایس ایس رضا کاروں کے لئے مختص شناختی کارڈپر”وجے کمار“ نام لکھا گیا اور تصویر گلزار کی لگائی گئی تھی جس میں اس نے سنگھ پریوار کی مخصوص ٹوپی پہن رکھی ہے اور ہاتھ میں فرقہ تنظیم کاروایتی ڈنڈا پکڑرکھاہے۔
مسلم طالب علم گلزار نے بتایا کہ ہیڈماسٹر نے یہی کہاتھا کہ تمہیں کیمپ میں ہندونام کے ساتھ بھیجا جارہاہے تاکہ ہندوطالب علم تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں، گلزار نے مزید بتایا کہ کیمپ میں موجود طلبہ کوہندومذہب سے محبت اور اس کی بقاء کیلئے اپنا تن من دھن وقف کرنے کاوعدہ لیا گیااور لاٹھی چلانا بھی سکھایا گیا۔
سات روزہ اس کیمپ میں بچوں کوہندومذہبکی افادیت بتائی گئی اور انہیں کیمپ کے اختتام پر تاکیدکی گئی کہ وہ اپنے اسلامی ناموں کی نسبت ہندوانہ نام پرفخر کریں اور اسی نام سے پکارے جانے پر اصرار کریں، اگرچہ آرایس ایس کی اس سازش کے خلاف پولیس اسٹیشن میں درخواست دی جاچکی ہے لیکن پولیس کارروائی میں دسنجیدہ نہیں ۔یہ صورتحال ان بھارتی ریاستوں میں زیادہ تشویش ناک ہے جو فرقہ پرست تنظیموں کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں اور وہاں پر سنگھ پریوار سمیت بجرنگ دل، اے بی پی، مزدور سنگھ ،وشواہندو پریشد جیسی سوسے زائد تنظیموں کی شاخیں قائم ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق بھارت کی تیرہ دریاستوں میں مسلمانوں کے ارتداد کاناپاک منصونہ بنایا گیا ہے صرف یہی نہیں بلکہ مسلم طلبہ کے لئے علیحدہ سے ششو مندربھی بنائے گئے ہیں اور ان کامذہبی برین واشنگ کا پروگرام تسلسل سے جاری ہے۔آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم کے ایک کیمپ میں ” طلاق مکت اسلام“ پروگرام بھی منعقد کئے گئے اسی طرح گائے اور اسلام، قرآن اور گاؤماتا، جیسی کتابوں کی اشاعت بھی کی گئی جن میں مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہوئے قرآن وحدیث کے حوالے سے گائے ونش جانوروں کے گوشت کے ممنوع قرار دیتے ہوئے گائے کومقدس قراردیاگیا۔
بھوپال یونیورسٹی کیمپس میں کھلے عام مسلمانوں کوپرسنل لاء میں تبدیلی کیلئے آواز اٹھانے کیلئے کیاگیا۔راجستھان مدھیہ پردیش، کرناٹک اور آندھرا پردیش میں بھی مسلم طالب علموں کی برین واشنگ کیلئے پروگراموں کاانعقاد کیاجارہاہے۔مسلم طلبہ کے ذہنوں میں اسلام سے نفرت کی آبیاری کیلئے ششومندرکے نصاب کوسرکاری تعلیمی اداروں میں بھی لازمی کرنے پرزور دیاجارہاہے۔
راجستھان، مدھیہ پردیش، کرنا ٹک، ماہراشٹر کے تعلیمی نصاب میں بھی بڑے پیمانے پر ہندو تواپرمبنی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔آرایس ایس کے ترجمان من موہن ویدا کے مطابق بھارتی سنتوں مذہبی اصلاحات اور ویدک تعلیمات بھارت کے اصل مذہب پر مبنی کتابیں بھی مختلف بھارتی ریاستوں میں شائع کردی گئی ہیں۔510کرناٹک میں639راجستھان میں800مدھیہ پردیش میں، اس کے علاوہ سرکاری سطح پر گیتا ویدک تعلیمات پر مبنی2لاکھ کتابیں بھی شائع کی گئی ہیں۔
سنسکرت پڑھنے پر بھی غیر ہندوطالب علموں کومجبور کاجارہاہے۔اسی طرح اب انہیں گیتا، رامائن، مہابھارت اور منوسمرتی پڑھنے پر بھی مجبور کیاجائے گا۔اس وقت جو تنظیمیں ہندوتوکے نفاذ کیلئے سرگرم میں ان میں اکھل بھارتیہ ودیار تھی پریشد، ودیا بھارتی، اکھل بھارتیہ اتہاس، سنکلن یوجنا، اکھل بھارتیہ راشٹریہ ، شکھشک مہاسنگھ، وگیان بھارتی، سمسکرتابھارتی ہیں۔
یہ تمام آر ایس ایس کے ماتحت کام کرتی ہیں اور مختلف سطح پر مسلمان علموں کی برین واشنگ اور تعلیمی نظام میں تبدیلی کیلئے کوشاں ہیں۔
بی پی جے کی زیر اقتدارریاستوں میں تعلیمی اصلاحی کمیٹیاں بنادی گئی ہیں اور ان کے سربراہوں کاتعلق سنگھ پریوار سے ہے۔ فیصلہ کیاگیا ہے کہ گیتا کی تعلیم ہرمذہب کے لوگوں پر لازمی ہوگی۔جب اعتراض اٹھایا گیا تو یہ کہاگیا کہ گیتا میں کوئی غیر اخلاقی باتیں نہیں ہیں۔
یعنی پورے ہندستان میں مرحلہ وار ہندوانہ نصاب تعلیم رائج کرنے کی طرف پیش رفت جاری ہے۔ نصاب کی تیاری ہرسطح پرہو رہی ہے۔سرکاری کالجوں اور سکولوں کے نصاب اور تاریخ کی کتابوں پر نظر ثانی کاکام ہسٹریکل ریسرچ کی تشکیل نواب مکمل طور پر آر ایس ایس کے برچارکوں کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے۔ آر ایس ایس کے ہندی ترجمان روزنامہ بیج جانبہ کے سابق ایڈیٹر کونیشنل بک ٹرسٹ کاچیئرمین بنایاگیاہے۔
نریندرمودی کی حکومت قائم ہوتے ہی آرایس ایس کامرکزنا گپور میں ہے۔مودی کووہاں سے ہدایات ملتی ہیں کوئی بھی فیصلہ آر ایس ایس کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتا۔ حساس شعبوں میں فرقہ پرستوں کواعلیٰ عہدوں پرتعینات کردیا گیاہے۔گزشتہ دنوں دسہرہ کے موقع پر آرایس ایس ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی تقریب کوبراہ راست دور درشن پر دکھایا گیاتھا۔بالخصوص آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا خطاب بھی براہ راست نشر کیاگیا تھا۔
اس کے فوراََ بعد ہی آر ایس ایس کی منظوری سے ایک شخص کودوردرشن کاسی ای او بنا دیا گیا۔ بھارت میں سرکاری تعلیمی اداروں میں مسلمان بچوں کے ذہن میں فرقہ واریت کازہر بھرنے کی سازش کوئی نئی نہیں ہے۔ہندی کی نصابی کتاب پر کاش بھارتی کے ساتویں حصے کے تیسرے یعنی باپ کی کمائی میں ایک عالم دین کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کیاگیا ہے کہ سچائی اور ایمانداری کے راستے پر چلنے والے ایک عالم نے کس طرح گوبر اور حرام جانور کا گوشت کھایا۔
یہ دراصل مسلمانوں کو علمائے کرام سے بدظن کرنے کی ایک سازش ہے اور یہ نصابی کتاب نئی دہلی کے ذریعہ متعین قومی پالیسی کے جدید ترین نصاب کے مطابق ہے۔تاہم اب یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ سنگھ پریوار نے بھارت کوہندوراشٹر بنانے کے منصوبے پرعملدر آمد شروع کردیاہے۔ہندوراشٹر بنانے کے اس منصوبے پر آہستہ آہستہ قدامات کئے جارہے ہیں۔آر ایس ایس کے سربراہ نے اپنے خطابات میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جوزہر اگلاہے وہ بھارت میں جاری تبدیلی مذہب مہم کے خدوخال کو واضح کرتا ہے۔
موہن بھاگوت نے کہاتھا کہ ہندوستان کوہندو راشٹر بنانے کا خواب ضرور پورا ہوگا اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک تمام لوگوں کی ” گھر واپسی“ کا عمل پورا نہیں ہو جاتا۔ آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم جاگرن منچ کے سربراہ نے کہا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کوہندوستان میں رہنے کاکوئی حق حاصل نہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیاکہ31دسمبر2021ء تک ہندوستان ایک ہندوریاست بن جائے گا اور غیر ہندو یاتو ہندومذہب قبول کرلیں گے یاپھر انہیں باہر نکال دیا جائے گا۔
جاگرن منچ کے سربراہ کے دعویٰ کے مطابق فرقہ پرست تنظیم اب تک تین لاکھ مسلمانوں اور عیسائیوں کوہندوبناچکی ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھارت میں پسماندہ ذاتوں کے ہندو محض اس لئے اپنا مذہب تبدیل کرکے عیسائیت قبول کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ تفریق برتی جاتی ہے اور انہیں کم درجے کا انسان تصورکیا جاتا ہے۔ہندوؤں کی اعلیٰ ڈاتیں اپنی پسماندہ اور غریب ذاتوں کے ساتھ جوسلوک روا رکھتی ہیں وہ انتہائی شرمناک ہیں۔جس طرح دلتوں اور پسماندہ برادریوں کوکچل کررکھ دیاگیا ہے اس کی بھارت کے علاوہ دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی ۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-17

(0) ووٹ وصول ہوئے