بند کریں
جمعرات مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیاسی قوتوں نے عمران، قادری کے رویوں کو لچکدار بنایا
سب جانتےہیں کہ وزیراعظم نوازشریف نے عمران خان کےدونوں مطالبات کو قوم کےنام اپنےخطاب میں تسلیم کر لیا تھا۔آنےوالےانتخابات کوشفاف بنانے کیلئےنئےالیکشن کمیشن کےقیام کیلئےآئین میں ترمیم کرنےپر آمادگی ظاہر کر دی تھی
فرخ سعید خواجہ:
پاکستان کی سیاست ڈرامائی صورتحال اختیار کر گئی ہے اور عوام و خواص میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ اسلام آباد میں آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے شرکاء کے مطالبے کہ ”وزیراعظم نوازشریف مستعفی ہوں“ کا کیا بنے گا۔ اس سے پہلے کہ ہم اس سوال کی طرف آئیں‘ اس بات کا جائزہ لینا بے جا نہ ہوگا کہ حکومت کی جانب سے کنٹینروں سمیت دیگر رکاوٹوں کا خاتمہ کیسے ہوا؟ اور انقلاب مارچ و آزادی مارچ کو اسلام آباد جانے کا پروانہ کس طرح حاصل ہوا؟ سب جانتے ہیں کہ وزیراعظم نوازشریف نے عمران خان کے دونوں مطالبات کو قوم کے نام اپنے خطاب میں تسلیم کر لیا تھا۔
آنے والے انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے نئے الیکشن کمیشن کے قیام کیلئے آئین میں ترمیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی اور 2013ء کے الیکشن کی چھان بین کیلئے سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل کمیشن قائم کرنے کی چیف جسٹس سپریم کورٹ کو درخواست بھی کی۔ گویا ”کمیشن“ کو 2013ء کا اختیار ملنے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا کہ دھاندلی ہوئی کہ نہیں۔
خان صاحب نے وزیراعظم کی پیشکش کو مسترد کر دیا اور مطالبہ کیا کہ پہلے وزیراعظم حکومت چھوڑیں اس کے بعد وہ سپریم کورٹ کے کمیشن کے تحت ہونے والی تحقیقات کو تسلیم کر لیں گے وگرنہ نہیں۔ اْدھر ڈاکٹر طاہرالقادری بھی نوازشریف کی حکومت ختم کرنے کے ارادے سے باز آنے کو تیار نہیں تھے۔ اس صورتحال میں حکومت اور عمران‘ ڈاکٹر طاہرالقادری کی جماعتوں میں تصادم یقینی تھا۔
اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف‘ سابق صدر آصف علی زرداری‘ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ‘ میاں رضا ربانی‘ سراج الحق‘ محمود خان اچکزئی‘ آفتاب خان شیرپاوٴ نے آپس میں سر جوڑ لیا۔ ان تمام رہنماوٴں کی متفقہ رائے تھی کہ تصادم کے نتیجے میں تیسری قوت کو فائدہ پہنچے گا۔ سو انہوں نے طے کیا کہ ہر صورت میں ملک کو مارشل لاء سے بچانے کیلئے مفاہمانہ اقدامات کئے جائیں۔
وزیراعظم نوازشریف نے اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کو بھی آن بورڈ لے لیا۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے ذریعے ”متحدہ“ کے قائد الطاف حسین کا پیغام ملا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کیلئے نرم رویہ اختیار کیا جائے۔ حکمرانوں کا دل بڑا ہونا چاہئے۔ نوازشریف نے ڈاکٹر عشرت العباد کے ذریعے الطاف حسین کو پیشکش کی کہ آپ ڈاکٹر طاہرالقادری اور حکومت کے درمیان جو معاملات طے کروا دیں‘ ہمیں منظور ہوگا۔
حکومت صرف یہ چاہتی ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری تشدد پر نہ اتریں اور کارکنوں کو قانون کی حدود میں رکھیں۔ دوسرے یہ کہ ان کی اور لوگوں کی سکیورٹی کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسلام آباد جانے کا اپنا روٹ بتا دیں اور اسلام آباد میں جہاں دھرنا دینا چاہتے ہیں‘ وہ جگہ بھی بتا دیں تاکہ حکومت سکیورٹی کے مناسب اقدامات کر سکے اور دیگر سہولیات بھی فراہم کر سکے۔
الطاف حسین نے اس پر ”’متحدہ“ کا ایک وفد ڈاکٹر طاہرالقادری کے پاس بھجوایا‘ ادھر سراج الحق‘ خورشید شاہ‘ رضا ربانی‘ مسلسل عمران خان کے ساتھ رابطے میں رہے اور جو کچھ حکومت نے الطاف بھائی کے ذریعے ڈاکٹر طاہرالقادری کو پیغام بھیجا تھا‘ اس کیلئے عمران خان کے ساتھ اعتدال کی راہ نکالنے پر بات چیت کرتے رہے۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں کے متذکرہ بالا رہنماوٴں سمیت آصف زرداری کی عمران خان سے بات چیت نے بھی درمیانی راہ نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
آصف زرداری نے اس سلسلے میں رحمن ملک کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی اور رحمن ملک نے بذات خود عمران خان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس دوران آصف زرداری سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا۔ سو عمران خان نے لاہور سے اسلام آباد روانگی کا روٹ اور اسلام آباد میں ڈی چوک کے بجائے آبپارہ میں دھرنا دینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ ادھر ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور بھی رابطے میں رہے‘ تاہم ڈاکٹر طاہرالقادری اور حکومت کے درمیان روٹ طے کروانے‘ زیرو پوائنٹ اسلام آباد تک خود کو محدود رکھنے کا معاملہ قائد متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین نے طے کروایا۔
الطاف حسین دونوں فریقین کیلئے گارنٹر بنے۔ نوازشریف حکومت جو وعدے ہوں گے ان پر عمل کرے گی اور گارنٹر الطاف حسین ہونگے جبکہ طاہرالقادری کے طے شدہ باتوں پر عمل کرنے کے معاملے میں ان کے گارنٹر الطاف حسین بنے۔
14 اگست کو ڈرامائی انداز میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے انقلاب مارچ کی ماڈل ٹاوٴن سے روانگی ہوئی۔ ان سے ایک گھنٹہ قبل عمران خان کی قیادت میں آزادی مارچ زمان پارک سے شروع ہو چکا تھا۔
عمران خان کے قافلے میں تین سو کے قریب گاڑیاں‘ کوسٹر اور بسیں شامل تھیں جن میں لگ بھگ تین ساڑھے تین ہزار لوگ تھے۔ اْدھر ڈاکٹر طاہرالقادری کے انقلاب مارچ کے آغاز ہی میں لگ بھگ پچیس ہزار لوگ تھے۔ ان میں زیادہ تر پیدل چل رہے تھے۔ اس نے اسی گیٹ اپ کے ساتھ سر پر ہیملٹ ہاتھ میں ڈنڈا اور پتھراوٴ سے بچنے کیلئے شیٹ۔ بیشتر لوگوں نے گلے میں ٹارچ بھی لٹکا رکھی تھیں۔
انقلاب مارچ کے شرکاء کی اتنی بڑی تعداد نے عوام اور خواص کو ششدر کر دیا۔ دوپہر ایک اور دو بجے لاہور سے شروع ہونے والے دونوں مارچ رات گئے تک لاہور ہی میں رہے‘ تاہم ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔ مختلف ذرائع کے مطابق جب عمران خان کا مارچ شاہدرہ میں داخل ہوا تو اس میں دس ہزار سے زائد لوگ تھے۔ انقلاب مارچ کے شرکاء کی تعداد پچاس ہزار کے لگ بھگ تھی۔
سو لاہور کے شہریوں نے دونوں مارچوں کے لاہور سے پُرامن طورپر نکل جانے پر سْکھ کا سانس لیا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اسلام آباد میں انقلاب مارچ اور آزادی مارچ کے رہنماوٴں کے پیش کردہ مطالبات کے تسلیم ہونے کی کیا صورت ہوگی تو جناب یہ بات یقینی ہے کہ جن سیاسی قوتوں نے حکومت اور عمران خان‘ ڈاکٹر طاہرالقادری کے سخت رویوں کو لچکدار بنانے میں کردار ادا کیا تھا‘ ان کا اور سپہ سالار پاکستان کا کوئی وزن ہوا تو جو معاہدہ طے پائے گا‘ اس میں سپریم کورٹ کے کمیشن کو ملک کے تمام حلقوں کی ازسرنو گنتی کرنے کا اختیار دیا جائے گا اور یہ طے ہوگا کہ کمیشن ”گنتی“ کے نتیجے میں جو سفارشات دے گا‘ ان پر مکمل طورپر عملدرآمد ہوگا۔
کسی کو اس سے فرار کی اجازت نہیں ہوگی۔ کمیشن کی رائے میں الیکشن 2013ء میں دھاندلی ثابت ہونے کی صورت میں وزیراعظم اسمبلیاں تحلیل کرنے اور نئے عام انتخابات کی ایڈوائس دیں گے۔ بصورت دیگر تمام جماعتیں اپنی توجہ الیکشن 2018ء پر مبذول کر دیں گی۔ دوسرے یہ کہ ”کمشن“ کے کام کیساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے ذریعے آئین میں توسیع کرکے نیا الیکشن کمیشن قائم کیا جائے گا جو انتظامی اور مالی طورپرخودمختار ہوگا‘ لیکن وہ لوگ جنہیں ”اکتوبر گروپ“ کہا جاتا ہے وہ بالادست رہے تو پھر دونوں مارچ پارلیمنٹ کی عمارت پر چڑھائی کریں گے۔ الیکشن کمیشن کے دفاتر ان کا نشانہ ہونگے اور جو افراتفری پیدا ہوگی اس کے نتیجے میں جو کچھ ہونا ہے‘ اسے جاننے کیلئے علم نجوم کی ضرورت نہیں ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-18

(1) ووٹ وصول ہوئے