تازہ ترین : 1
Siasi Jamatooon K Manshoor

سیاسی جماعتوں کے منشور

ہرسیاسی جماعت محض اس لئے سیاست میں حصہ لیتی ہے کہ وہ ملک و قوم کی خدمت کرے گی۔تمام سیاسی جماعتوں کے منشور بھی بظاہر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کی پہچان بھی یہی منشور ہی ہوتا ہے۔لوگوں کو صحت تعلیم کے ساتھ انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور ملک کے مفادات کو مقدم رکھنے کے وعدے بھی کئے جاتے ہیں۔

ہرسیاسی جماعت محض اس لئے سیاست میں حصہ لیتی ہے کہ وہ ملک و قوم کی خدمت کرے گی۔تمام سیاسی جماعتوں کے منشور بھی بظاہر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کی پہچان بھی یہی منشور ہی ہوتا ہے۔لوگوں کو صحت تعلیم کے ساتھ انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور ملک کے مفادات کو مقدم رکھنے کے وعدے بھی کئے جاتے ہیں۔منشور میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں کے ساتھ لیکر چلنے کے دعوے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
منشور اتنی اہم چیز ہے کہ اس کے بغیر الیکشن کمیشن میں کوئی بھی سیاسی جماعت رجسٹر نہیں ہوسکتی ہے۔منشور کے بغیر اگر کوئی جماعت قانونی شکل اختیار نہیں کرسکتی تو اس کا مطلب یہ ہوا یہ کوئی اہم ترین چیز ہے۔یہ ایسی چیز ہے جس کی بنیاد پر کوئی سیاسی جماعت لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہے اور اس منشور کو دیکھ کر ہی لوگ انہیں ووٹ دیکر منتخب کرتے ہیں۔
عوام کو سیاسی لوگوں کو اس لئے ووٹ دیتے ہیں کہ وہ ان کا ہر طرح سے خیال رکھیں گے اور ملک کو مضبوط سے مضبوط کرنے میں اپنی توانیاں خرچ کریں گے جس سے ان کی زندگی گلزار ہو گی۔یہ ایسے تخلیات ہیں جو انہیں مجبور کرتے ہیں کہ کئی کئی سال تک وہ ایک ہی جماعت ووٹ دیتے رہتے ہیں کہ شاید ان کے حالات بدلیں گے۔حالات تو نہیں بدلتے لوگ سیاسی جماعتیں بدل لیتے ہیں مگر سیاسی جماعتیں ان کی پروا نہیں کرتیں اور اپنے منشورکوقائم رکھتے ہیں وہ اسے تبدیل اس لئے بھی نہیں کرتے ہیں کیونکہ اس پر عمل تو کرنا ہی نہیں ہوتا یہ بظاہر شو پیس کے طور پر رکھا جاتاہے۔
سیاست کو خدمت کانام تو سب دیتے ہیں مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ خدمت عوام کی بجائے اپنے بچوں اور چنددوستوں کی خدمت شروع کر دی جاتی ہے۔ا س کی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں ۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کی مثال سب کے سامنے ہے میاں صاحب وفاق میں کسی کو کوئی وزارت دینے کیلئے تیار نہیں ہیں اور پنجاب میں شہباز شریف بھی ایسا ہی کر رہے ہیں دونوں بھائیوں کی پالیسیاں یکساں ہیں۔
وزارت خارجہ صحت تعلیم جیسی اہم وزارتوں کے مکمل کوئی وزیر نہیں ہیں وزیراعظم نے یہ وزارتیں اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں۔بظاہر فیتہ کاٹنے کیلئے وزیر مملکت قومی صحت سائرہ افضل تارڑ اور وزیر مملکت برائے تعلیم و تربیت بلیغ الرحمان کو رکھاہوا ہے ۔اس کے علاوہ باقی وزارتوں پر مکمل کنٹرول وزیراعظم کا ہے۔عوامی نمائندوں پر عدم اعتماد کھل کر سامنے آ چکا ہے بڑے بڑے قابل لوگ ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتے ہیں۔
اس طرح اداروں کو کمزور بھی کیا گیا ہے اسی فیصد اداروں کے سربراہ اس لئے نہیں لگائے جاتے ہیں تا کہ ان سے مرضی کاکام لیا جاسکے اور ان سربراہوں پر خوف کی تلوار لٹکتی رہے کہ ہمیں کہیں نکال باہر نہ دیا جائے ۔اس وقت ن لیگ کا منشور اٹھالیں اور مطالعہ کریں تو کھلا تضاد نظر آئے گا۔پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب کا مکمل کنٹرول اپنے پاس ہے پولیس جیسا محکمہ بھی انہوں نے اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے حکومت کی مدت ختم ہونے میں ڈیڑھ سال کا عرصہ رہ گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے جنوبی پنجاب سے چند لوگوں کو نوازنے کی کوشش کی ہے اور ان کو وزیر بنا دیا ہے۔ اب وہ کتنے بااختیار ہیں آہستہ آہستہ سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔
خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت ہے ان کے منشور کو دیکھیں تو کافی حد تک وہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔وہاں کم از کم انصاف دینے والے ادارے پولیس کو تو غیر سیاسی کر دیا ہے یہ ان کا دعویٰ ہے جس کی تصدیق بڑی تعداد میں لوگ کرتے ہیں صحت اور تعلیم کی سہولیات باہم پہچانے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر اسے کسی صورت یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پی ٹی آئی نے منشور پر مکمل عمل کر دیا ہے پی ٹی ا ٓئی نے بڑے وعدے کر رکھے ہیں ان پر عمل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔
تعلیم عام نہیں ہو سکی صحت کی سہولیات دگرگوں ہیں۔پرانے طور طریقے اسی طرح چل رہے ہیں کسی قسم کا کوئی فرق محسوس نہیں کیا جارہا ہے۔وزیراعلٰی پرویز خٹک پر اعتراض کرنے والوں آج بھی نہیں سنا جا رہا ہے عمران خان نے اپنی ہی جماعت میں آمریت قائم کر رکھی ہے جس طرح میاں نواز شریف اور زرداری صاحب نے کر رکھی ہے۔نواز شریف سے ان کے ایم این ایز کئی کئی سالوں سے نہیں ملے ہیں وزراء انتظار کرتے رہتے ہیں۔
عوامی خدمت کیلئے پہلے عوامی نمائندوں اہمیت دی جائے ۔ سندھ میں پیپلز پارٹی جب سے بنی ہے اس وقت سے حکومت میں ہے ایم کیو ایم نے اپنی جگہ بنائی اور اب پی پی کی گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے ایم کیو ایم نے سندھ میں صرف شہری علاقوں میں جگہ بنائی دہشت سے بنائی یا جس طرح بھی بنائی اس کا طوطی بولتا رہا ہے اس پر یاروں کاخیال ہے کہ مقتدر قوتوں نے اسے سنبھالے رکھا اب چھوڑ دیا ہے ایم کیو ایم اس وقت اپنے سابق لیڈر کی وجہ سے پار ہ پارہ ہو چکی ہے اس کے اتنے ٹکڑے ہو چکے ہیں کہ اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ چکا ہے ایم کیو ایم منشور بھی دیگر جماعتوں کی طر ح برائے نام ہی تھا کراچی میں اتنا ادھم مچایا کہ خود اس ادھم میں غائب ہو گئی ہے۔
مقتدر قوتوں نے اب ان کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ پاکستان سر زمین اور ایم کیو ایم پاکستان ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم آفاق گروپ وغیر ہ وغیرہ سامنے آ چکے ہیں۔یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ابھی تک اس کا فائدہ اٹھانے میں ناکام ہے۔ پاکستان تحریک انصاف بھی کے پی کے پر اکتفاء کرکے بیٹھی ہے۔پی ٹی آئی کو ابھی تک وہ پذیرائی نہیں ملی ہے جس کی وہ کوششیں کر رہی ہے کراچی اور حیدرآباد کے شہری علاقوں سے پی پی تاحال غائب ہے۔
ن لیگ کی سندھ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
منشور پر کسی جماعت نے عمل نہ کرکے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ان کے مقاصد اصل میں کچھ اور ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر جماعت اپنی اپنی مرضی کے مطابق کام کر رہی ہے ان کے نزدیک قانونی اور غیر قانونی کوئی چیز نہیں ہے۔ملک میں ان سیاسی جماعتوں کی وجہ سے تعلیم کا حصول عام لوگوں کیلئے ناممکن او ر مشکل ترین ہوگیا ہے علاج کرنا غریب آدمی کی پہنچ ے باہرہوگیا ہے۔
تعلیم اور صحت ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر یہ اسے کمرشل کر دیا گیا ہے سرکاری اداروں پر لوگ اعتماد نہیں کرتے ہیں اور پرائیویٹ ادارے لوٹ بھی رہے ہیں اور ان پر کوئی چیک بھی نہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اپنی چند خاندانوں کی جماعتیں بنتی جارہی ہیں عوام کو ان سے دور کر دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ عوام مرے یا جئے کسی کو اس کی پرواہ نہیں۔
وقت اشاعت : 2017-01-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں