تازہ ترین : 1
Siasi Jamatoon Ka Imtehan

سیاسی جماعتوں کا امتحان

کئی ماہ قبل پاناما لیکس کے نام سے سامنے آنے والے انکشافات آج بھی دنیا بھر میں عوامی دلچسپی کا ایک اہم موضوع ہیں جس کے نتیجے میں بعض ملکوں میں تو حکمران ابتک اخلاقی بنیادوں پر مستعفٰی بھی ہو چکے ہیں جبکہ بر طانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کوایوان میں آکر اپنی بے گناہی کے دستاویزی ثبوت پیش کر ناپڑے

کئی ماہ قبل پاناما لیکس کے نام سے سامنے آنے والے انکشافات آج بھی دنیا بھر میں عوامی دلچسپی کا ایک اہم موضوع ہیں جس کے نتیجے میں بعض ملکوں میں تو حکمران ابتک اخلاقی بنیادوں پر مستعفٰی بھی ہو چکے ہیں جبکہ بر طانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کوایوان میں آکر اپنی بے گناہی کے دستاویزی ثبوت پیش کر ناپڑے۔ روس اور چین میں بر سر اقتدار حکمران بھی اس صف میں شامل ہیں جو اپنے اثاثہ جات کے حوالے سے قوم کو صفایاں پیش کر رہے ہیں۔
اس سلسلے میں بھارت میں بھی ایک بااختیار جوڈیشل کمیشن بنا یا جا چکا ہے جس نے پاناما لیکس کے مطابق آف شور کمپنیوں میں ملوث ہو نے والے بھارتیوں کے متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تا ہم اپنی قومی تاریخ اور نفسیات کے عین مطابق پاکستان میں حالات باقی دنیا کے مقابلے میں خاصے مختلف ہیں یہاں اپوزیشن کے مطالبے پر حکومت نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سر براہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کر نے سے تو اتفاق کر لیا تھا تا ہم ٹی او آرز یا ضابط کار کی آڑ لیکر معاملے کو طوالت دی جا تی رہی ۔
جس پر اپوزیشن نے خاصا شور مچایا لیکن حکومت کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی توپی ٹی آئی کے قائد عمران خان نے 9 نومبر 2016میں لانگ مارچ کی کال دے دی جس پرہزاروں کارکنان بنی گالہ پہنچے ۔جبکہ کے پی کے سے بھی پی ٹی آئی کا ایک بہت بڑا جلوس وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں بنی گالہ کے لیے روانہ ہوا تا ہم حکومت نے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے اسے روکنے کی کوشش کی آنسو گیس کا استعمال اور تشدد تک کا سہارا لیا گیا لیکن حالات بے قابو ہونے لگے۔
جس پر ملکی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیکر سماعت شروع کر دی ۔جس پر عمران خان نے دھرنے کی کال واپس لیکر یوم تشکر منایا تھا حالانکہ پانامہ لیکس پر اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ ٹرمز آف ریفرنس پیش کر کے وزیر اعظم کے خاندان کے خلاف منصفانہ اور شفاف تحقیقات کی گیند حکومت کی کورٹ میں پھینک دی تھی ۔تا ہم حکومت نے انہیں متعصبانہ قرار دیکر یکسرمسترد کردیا اپوزیشن میں شامل پاکستان تحریک انصاف آج بھی اخلاقی بنیادوں پر وزیر اعظم سے استعفٰی کے مطالبے پر قائم ہے۔
تا ہم دیگر سیاسی جماعتیں وزیر اعظم کے استعفٰی کو عدالت کی طرف سے اخذ کیے جانے والے نتائج سے منسلک کر نے کے موقف کی حامی رہی ہیں تاکہ کسی نئے بحران کی بجائے حکومتی معاملات ہموار طریقے سے چلتے رہیں جو ایک متوازن سوچ ہے جس سے حکومت کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔
پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے بیٹے حسن نواز اور حسین نوا ز سمیت کم وبیش 220ایسے پاکستانیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے آف شور کمپنیوں کے ذریعے اپنی دولت کوپوشیدہ رکھا ہوا ہے اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ معلومات ایک عام پاکستانی کے لیے انکشاف کے زمرے میں ہر گز نہیں آتیں۔
کیونکہ وہ ایک عرصے سے جانتا ہے کہ ہوس کے شکار ہمارے حکمران طبقات نے ملک سے لوٹی گئی دولت غیر ممالک میں چھپا رکھی ہے جس کا مسلسل تذکرہ گزشتہ دو تین عشروں سے پاکستانی میڈیا میں بھی ہو تا رہا ہے تا ہم بد قسمتی سے اس محاذ پر حکومت اور اپوزیشن ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے ہم حکمرانوں کے گلے میں پھندا ڈال کر انہیں سڑکوں پر گھسیٹنے کا پر زور سیاسی نعرہ لگاتے ہیں جبکہ خود حکومت میں آکر سا بقہ کر پٹ حکمرانوں کو لوٹ کھسوٹ کے عمل کے لیے اپنا استاد بنا لیتے ہیں۔
جس کا نتیجہ آج پورے پاکستان میں جگہ جگہ پھیلی معاشی عدم مساوات اور نا انصافی کی شکل میں ہمارے سامنے آرہا ہے جو پاکستان کے زوال کا حقیقی راز ہے لیکن بد قسمتی سے ہماری اشرافیہ اس پر توجہ دینے کی بجائے اگلے انتخابات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
پاناما لیکس کے بعد جنرل راحیل شریف کی قیادت میں افواج پاکستان نے کرپشن کے خاتمے اور بے لاگ احتساب کے لیے نا صرف اپنا موقف قوم کے سامنے کھول کر پیش کیا بلکہ عملی طور پر اپنے گھر سے احتساب کا عمل شروع کرتے ہوئے۔
دوجر نیلوں سمیت در جن بھردیگر فوجی افسران کو سزائیں بھی سنائی تھیں جسے بقول اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عاصم سلیم باجوہ ،فوج کے ادارے میں بھی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا اور سراہا گیا۔سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے متعدد مر تبہ کر پشن اور جرم کے گٹھ جوڑ کو پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا چیلنج اور ایک سنگین خطرہ قرار دیا تھاجسے توڑنے کے لیے کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میںآ ج بھی موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں آپریشنز اور اقدامات جاری ہیں جن کا مقصد سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

پاکستان میں اس وقت کر پشن کے خلاف بخاراور زیرو ٹالرینس کا ایک ماحول بنا ہوا ہے لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے دو کروڑ رو پے کی کر پشن پر اپنے تین عدالتی ملازمین کی بر طرفی ،462ارب کی کر پشن پر ڈاکٹر عاصم کے خلاف فر د جر م عائد کیے جانے ،سیکرٹری خزانہ بلوچستان کے گھر سے کرپشن کے 70کروڑ رو پے اور سونے کی برآمدگی پر ان کی گرفتاری اور اسی صوبے کے مشیر خزانہ کا استعفٰی اسی عوامی دباوٴ کا نتیجہ تھا ۔
تا ہم بد قسمتی سے اس محاذ پر سیاسی حکومت اور جماعتیںآ ج بھی اپنے فرائض سے غفلت برتنے پر بضد ہیں پاکستانی قوم آج سیاسی شعور اور بالغ نظری کی بلندترین سطح پر پہنچ چکی ہے جسے نہ تو دھوکہ دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی تعصب کے نام پر گمراہ کیا جا سکتا ۔ہے قوم دیکھ رہی ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے پیش کیے گئے ٹی او آرز میں سب کے احتساب کی بات کی گئی تھی تا ہم اس کے لیے آغاز حکومت سے ہی کر نے کی شرط رکھی گئی تھی جبکہ حکومت 1956ء کے ایکٹ کے تحت اپنی پسندکا ایک لولا لنگڑا کمیشن تشکیل دینا چاہتی تھی تا کہ تحقیقات کو کئی عشروں پر محیط کر دیا جائے جس کا مقصد صرف اور صرف وقت گزاری ہے تا ہم پوری قوم ،چوکس میڈیا اور فعال اپوزیشن اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔

موجودہ بحران حل کر نے کی خاطر سپریم کورٹ کی جانب سے لیے گئے از خود نوٹس کے بعد پوری قوم کی نگاہیں عدالت کی جانب لگی ہوئی ہیں اس سلسلے میں سابق چیف جسٹس نے اپنی ریٹائرمنٹ کے پیش نظر پانامالیکس کے متعلق تحقیقات کا کام آنے والے چیف جسٹس کی صوابدید پر چھوڑ دیا تھا۔ جنہوں نے ذمہ داریاں سنبھالتے ہی ایک نیا بنچ تشکیل دے دیا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع کر چکا ہے اس سلسلے میں پی ٹی آئی کی جانب سے ان کے وکیل نعیم بخاری اپنے دلائل دینے کے ساتھ ریکارڈ بھی پیش کر رہے ہیں جبکہ حکومت بھی جواب دینے کا اپنا حق استعمال کرتی ہوئی اپنا موقف پیش کر رہی ہے۔
زیر سماعت مقدمہ سنجیدگی کا متقاضی ہے اس لیے موقع کی مناسبت سے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو سنجیدہ طرز عمل کی ضرورت ہے انہیں چاہیے کہ وہ اپنے اپنے موقف کی حمایت میں عدالت کے روبرو ٹھوس شواہد پیش ضرور کریں تاہم نتیجہ عدالت کی صوابدید پر چھوڑ دیں تا کہ قو م کا قیمتی وقت سیاسی جھگڑوں کینذزہونے کی بجائے ملک کو متعدد محاذوں پر در پیش سنگین خطرات کے ازالے کے لیے بروئے کار لایا جاسکے۔
بصور ت دیگر اب عام آدمی بھی جمہوریت اور سیاسی جماعتوں سے بد ظن ہوتا ہوا نظر آرہا ہے جس کا حتمی نتیجہ ملک میں عدم استحکام کی صورت میں نکل سکتا ہے جس کے لیے اب سیاسی جماعتیں ماضی کی طرح اسٹیبلیشمنٹ کو ذمہ دار ٹھہرا کر خود بچ نکلنے میں شاید کامیاب نہ ہوسکیں کیونکہ پاکستانی عوام کھلی آنکھوں سے سیاستدانوں کی طرف سے لگائے جانے والے تماشے کو دیکھ رہی ہیں۔
وقت اشاعت : 2017-01-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں