بند کریں
منگل مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
شاہراہ دستور میدان کارزار بن گیا
بالآخر وہی ہوا جس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے انقلاب و آزادی مارچ جس کا 14 اگست 2014 کو لاہور سے آغاز ہوا تھا شاہراہ دستور پر دھرنے کی شکل اختیار کر لی تھی
نواز رضا :
بالآخر وہی ہوا جس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے انقلاب و آزادی مارچ جس کا 14 اگست 2014 کو لاہور سے آغاز ہوا تھا شاہراہ دستور پر دھرنے کی شکل اختیار کر لی تھی کا 17 روز بعد اس وقت ڈراپ سین ہوا جب ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے ہفتہ کی شب سوا نو بجے یک بعد دیگرے وہ دھرنے کو وزیراعظم ہاؤس کے سامنے منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔
حیران کن حد تک دونوں رہنماؤں کے اعلانات میں مماثلت پائی جاتی ہے اگرچہ دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد کی جانب الگ الگ مارچ کئے لیکن درپردہ وہ ایک ہی ”سکرپٹ“ کے مطابق آگے بڑھ رہے تھے۔ آبپارہ سے شاہراہ دستور تک بڑھنے کا اعلان بھی دونوں نے اکٹھے کیا اسی طرح شاہراہ دستور پر اپنے الگ کنٹینرز سے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے رہے لیکن دونوں جماعتوں کے دھرنوں کا رنگ ڈھنگ ہی مختلف ہونے کے باوجود منزل مقصود ایک ہی تھی۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے پہلی بار عمران خان سے اپنی قربت کا اعتراف کیا ہے کہ وہ میرے بھائی ہیں اور تحریک انصاف وعوامی تحریک کے کارکن ایک دوسرے کے فرنٹ کزن ہیں۔ ہفتہ کی شب حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان 6 میں سے 5 مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں۔ مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے سے قبل ہی عمران خان نے ”وزیراعظم ہاؤس“ کی طرف بڑھنے کا اعلان کر دیا۔
قبل ازیں تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے متفقہ طور پر وزیراعظم ہاؤس کی طرف نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم ہاؤس کی طرف نہ جانے کے حق میں رائے دی جب عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھنے کا اعلان کیا تو مخدوم جاوید ہاشمی نے ان کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے ”پارلیمنٹ پر چڑھائی“ سے انکار کر دیا اور دھرنے سے باہر آ گئے۔
شنید ہے ”عمران خان نے عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد اور کچھ دیگر افراد کی مشاورت کے بعد دھرنے کو وزیراعظم ہاؤس منتقل کرنے کا اعلان کیا یہ بات قابل ذکر ہے عمران خان، ڈاکٹر طاہرالقادری، عمران سے دھرنا وزیراعظم ہاؤس منتقل کرنے کے لئے پہلے اعلان کا تقاضہ کرتے رہے۔ عمران اور طاہر القاری کے درمیان انڈر سٹینڈنگ کے مطابق ڈاکٹر طاہر القادری اپنے ڈنڈے بردار کارکنوں کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھے جب کہ عمران خان کا جلوس ان کے پیچھے تھا یہ بات قابل ذکر ہے جب ایوان صدر کے قریب عوامی تحریک کا ڈنڈا بردار جلوس پہنچا تو اسے پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کرکے آگے بڑھنے سے روک دیا پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ربڑ کی گولیاں ماریں جس سے دو ہلاکتیں ہوئی ہیں جب کہ ایک شخص میٹروبس پراجیکٹ کے لئے کھودے گئے گڑھے میں گر کر ہلاک ہو گیا۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس کی کارروائی سے 500 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں چند خواتین بھی شامل ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار، خطہ پوٹھوہار کے بہادر سپوت ہیں وہ پولیس کی کارروائی کی ذاتی طور پر نگرانی کے لئے ریڈ زون پہنچ گئے انہوں نے پولیس سے ”فائر پاور“ لے لی جس کی وجہ سے بہت کم اموات ہوئی ہیں۔ تاہم پولیس نے جہاں مظاہرین پر تشدد کیا وہاں سے انہوں نے میڈیا کے کارکنوں پر بلاجواز تشدد کیا جس سے پورے میڈیا میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار، عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے جلوسوں کو لاہور میں ہی روکنا چاہتے تھے لیکن مختلف قوتوں کی مداخلت سے انہیں اس یقین دہانی پر اسلام آباد آنے کی اجازت دے دی لیکن دونوں رہنما تحریری یقین دہانی کے باوجود ریڈ زون میں داخل ہو گئے اور 12 روز سے شاہراہ دستور پر دھرنا دیئے رکھا۔ وفاقی حکومت کو مفلوج کرنے کی کوشش کی۔
پارلیمنٹ ہاؤس، وزیراعظم آفس اور سپریم کورٹ جانے کے راستے الیکشن کمشن اور ایف بی آر جانے کے تمام راستے بند کر دیئے۔ سپریم کورٹ وزیراعظم آفس، وزیراعظم ہاؤس اور کیبنٹ ڈویڑن و پاک سیکرٹریٹ کی حفاظت کے لئے فوج کے جوان تعینات کر دیے گئے لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھنے کا اعلان کیا۔ دراصل دونوں جماعتوں کی قیادت وزیراعظم ہاؤس پر ”قبضہ“ کر کے وزیراعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنا چاہتی تھی۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری جب خود کنٹینر میں پناہ گزیں ہو گئے تھے۔ عمران خان یہ کہتے رہے کہ وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھنا ہماری مجبوری ہے۔ سب سے آگے گولی کھانے کا دعویٰ کرنے والے قائدین نے اپنے آپ کو کنٹینرز اور بلٹ پروف گاڑیوں میں محفوظ کر لیا لیکن ان کے کارکن پولیس تشدد کا نشانہ بنتے رہے۔ وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھنے والے کارکنوں میں عوامی تحریک کے کارکن زیادہ تھے جبکہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی تعداد قدرے کم تھی۔
عمران خان نے اپنی خواتین کارکنوں کو مارچ سے باہر جانے کی اجازت دے دی۔ وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار کا پولیس کارروائی کے دوران مسلسل رابطہ رہا اور چودھری نثار کو لمحہ بہ لمحہ کی کارروائی سے آگاہ کرتے رہے۔ وفاقی حکومت نے دھرنے کے شرکاء کو تھکا دینے کی پالیسی کے تحت 17 روز برداشت کیا۔ بالآخر ریاستی قوت استعمال کرنا پڑی۔
جب پولیس نے دھرنے کے شرکاء کو آنسو گیس اور لاٹھی چارج کر کے پیچھے دھکیل دیا تو وہ پارلیمنٹ ہاؤس کا جنگلا توڑ کر پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر داخل ہو گئے۔ فوج اور رینجرز کی تعیناتی کی وجہ سے عوامی تحریک کے کارکن پارلیمنٹ ہاؤس کے لان میں بیٹھ گئے ہیں جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد ہے۔ دھرنے کے شرکاء کی تعداد نمایاں حد تک کم ہو گئی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے لان میں دو اڑھائی ہزار کارکنوں نے ڈیرے ڈال لئے ہیں۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے شاہراہ دستور پر وزیراعظم نواز شریف سے استعفے کے لئے واپس جانے کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔ مظاہرین تصادم میں کم و بیش 100 ملازمین بھی زخمی ہوئے ہیں۔ سردست کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آئندہ 24گھنٹے میں کیا ہو گا؟ موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لئے مذاکراتی عمل بحال ہوتا ہے کہ نہیں۔
اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی تاہم ایک بات واضح ہے کہ وزیراعظم نواز شریف موجودہ سیاسی صورت حال میں پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے جہاں کسی قیمت پر استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ کر رکھا ہے وزیراعظم پنجاب میاں شہباز شریف بھی یہ کسی صورت ”ٹیک ڈاؤن“ کریں گے۔ وزیراعظم نواز شریف جو گذشتہ روز لاہور تھے اتوار کو اسلام آباد واپس آ گئے۔
انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں مسلم لیگی قیادت کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا جس میں شاہراہ دستور پر دھرنے کے شرکاء سے پولیس تصادم سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا اور دھرنے کے شرکاء کو منتشر کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ پارلیمنٹ کے محاصرے میں قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔
دو روز کے وقفے کے بعد حکومت ہر قیمت پر قومی اسمبلی کے اجلاس کو منعقد کرنے کی کوشش کرے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی قیادت کے حقیقت پسندانہ طرزعمل اختیار کرتی ہے اور سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے سیاسی تنازعات حل کرتی ہے یا پھر غیرجمہوری رویے سے تیسری قوت کو مداخلت کا موقع دیتی ہے۔ اس سوال کا جواب آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران مل جائے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-02

(0) ووٹ وصول ہوئے