بند کریں
جمعرات مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سینٹ میں واحد اکثریتی جماعت کے بغیر کارکردگی ایک چیلنج!
مجموعی طور پر 26نشستیں حاصل کرنے والی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی دونوں میں سے کوئی جماعت 104ارکان کے ایوان میں واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت حاصل نہیں کرسکی
نواز رضا:
بالآخر میاں رضا ربانی ساتویں چیئرمین او مولانا عبدالغفو حیدری گیارھویں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 8نشستیں حاصل کر کے مجموعی طور پر 27 نشستوں کی تعداد سے اس کی چیئر مین شپ بر قرار رکھنے میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ لیکن مجموعی طور پر 26نشستیں حاصل کرنے والی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی دونوں میں سے کوئی جماعت 104ارکان کے ایوان میں واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت حاصل نہیں سکی۔
اس طرح سینیٹ کے انتخابات میں مسلم لیگ کو18نشستیں حاصل ہونے کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے درمیان ایک ہی نشست کا فرق رہ جانے پر سابق صدر آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم ، عوامی نیشنل پارٹی ،پاکستان مسلم لیگ(ق)اور بی این پی (عوامی)کو اپنے گرد اکٹھا کر کے میاں رضا ربانی کو چیئرمین بنوا لیا۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کا منصب حاصل کرنے کیلئے تنہا اس پوزیشن میں نہیں تھیں لیکن آصف علی زرداری نے بہتر انداز میں ”سیاسی شطرنج“ کھیل کر پاکستان مسلم لیگ (ن) کو مات دے دی اور مسلم لیگ (ن) اپنے چیئرمین کے بارے میں اعلان ہی نہ کر پائی۔
آصف علی زرداری نے کمال ہوشیاری سے ایم کیو ایم ،پاکستان مسلم لیگ(ق)، عوامی نیشنل پارٹی اور بی این پی(عوامی)کو اپنے ساتھ ملا کر جہاں میاں رضا ربانی کو کامیاب بنانے کے لئے مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل کر لی وہاں انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی سے میاں رضا ربانی کانا م تجویز کروا کر پیپلز پارٹی کے اندر چیئرمین شپ کے تین امیدواروں رحمن ملک ،فاروق ایچ نائیک اور چوہدری اعتزاز احسن کا راستہ بھی روک دیا۔
جمعیت علما سلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن جہاندیدہ سیاست دان ہیں انہوں نے اپنا وزن آصف علی زرداری کے پلڑے میں تو نہیں ڈالا لیکن آصف علی زرداری نے میاں رضا ربانی کو چیئرمین شپ کا متفقہ امیدوار بنوانے میں کردار ادا کرنے پر مولانا فضل الرحمن کو تحفہ میں ڈپٹی چیئرمین شپ پیش کر دی۔ آصف علی زرداری نے ابتدائی طور پر ڈپٹی چئیرمین کے لئے بلوچ ہونے کی شرط رکھی تھی لیکن بلو چستان کی جماعتیں کسی امیدوار پر اتفاق رائے قائم نہ کر سکیں تو آصف علی زرداری نے ڈپٹی چیئرمین شپ جمعیت علما ء اسلام کو دے دی۔
جس پر اس فیصلے کی وزیر اعظم محمد نواز شریف سے تو ثیق کی ذمہ داری قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کو سونپ دی گئی۔ چنانچہ وزیر اعظم کی جانب سے گرین سگنل ملنے پر مولانا عبدالغفور حیدری کے ڈپٹی چیئرمین بننے کی راہ بھی ہموار ہو گئی۔ مولانا عبد الغفور حیدری کے ڈپٹی چیئرمین بننے پر اے این پی ، مسلم لیگ(ق) کو کچھ ملا اور نہ ہی نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ہاتھ کچھ آیا ہے۔
وزیر اعظم محمد نواز شریف نے چیئرمین سینیٹ کا منصب حاصل کرنے میں ناکامی پر میاں رضا ربانی کیلئے با امر مجبوری اتفاق تو کر لیا لیکن اب حکومت کو ایک ایسے ”سخت گیر چیئرمین “ سے واسطہ پڑے گا جو آئین و قانون “ کے اندر رہ کر کام کرنے کو اولیت دیتا ہے۔ اس نے آصف علی زرداری کی ناراضی کی پروا کئے بغیر جنرل پرویز مشرف سے وزارت کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا اسی طرح اس نے پاکستان مسلم لیگ(ق) کے وزراء کے ساتھ بیٹھنے سے معذرت کرلی تھی۔
اب جن حالات میں پاکستان مسلم لیگ(ق) کی قیادت کو ”نواز شریف مخالفت“ میں میاں رضا ربانی کو قبول کرنا پڑا اور ایم کیو ایم ،عوامی نیشنل پارٹی اور بی این پی (عوامی) نے جس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر میاں نواز شریف پر سیاسی لحاظ سے برتری پائی ہے ۔اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی ٹیم میں چوہدری نثار علی خان کی کمی کا بھر پور فائدہ اٹھایا ہے۔
جب سے موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی ہے تو اسے ایوان بالا میں ”غیر دوستانہ “ ماحول کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ اس وقت سید نیر حسین بخاری جیسے” جیالے کے پاس ایوان بالا کی سربراہی تھی لیکن راجہ محمد ظفر الحق پوٹھوہار کا راجپوت ہونے کے ناطے دوسرے پوٹھو ہاری سید نیر حسین بخاری جس کا ننہال راجپوت ہے، سے ذاتی تعلق سے ایوان کی کارروائی چلانے کی کوشش کرتے رہے لیکن دو جیالوں چوہدری اعتزاز احسن اور میاں رضا ربانی نے حکومت کا ناطقہ بند کئے رکھا۔
دونوں نے ایوان بالا میں ایسا ” غیر دوستانہ“ ماحول پیدا کر دیا کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کے لئے ایوان میں آنا مشکل بنا دیا۔ پچھلے ایک سال سے زائد عرصہ سے چوہدری نثار علی خان نے ایوان بالا کا رخ ہی نہیں کیا سینیٹ کے انتخابات کے بعد 26 نشستیں ہو جانے سے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کسی حد تک اپوزیشن کے دباؤ سے نکل آئی ہے۔ اگر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تمام ارکان ایوان میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں تو کورم کا مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔
لیکن قانون سازی میں قدم قدم پر حکومت کو پاکستان پیپلز پارٹی کے تعاون کی ضرورت پیش آئے گی۔ حکومت کو اپنی مرضی کا چیئرمین منتخب کرانے میں ناکامی کی سزا آئندہ تین سال تک بھگتنا پڑے گی۔ اگر حکومت نے آئین وقانون کے دائرے میں رہ کر ایوان بالا کی کارروائی چلائی اور وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت ایوان بالا کے لئے نکا لا تو سینیٹ میں حکومت کے لئے مشکلات کم ہو جائیں گی۔
جہاں تک چوہدری نثار علی خان کا تعلق ہے ان کو اپوزیشن کی جانب سے تختہ مشق بنانے کی وجوہات کچھ اور ہیں انہوں نے پیپلز پارٹی کی بعض شخصیات کی حفاظت پر مامور رینجرز کو واپس بلا لیا ہے اور سابق دور حکومت میں بعض افراد کو غلط طور پر جاری کردہ ” بلیوپاسپورٹ“ منسوخ کر وائے ہیں اسی طرح ممنوعہ اسلحہ کی جانچ پڑتال کی زد میں کئی شخصیات آرہی ہیں۔
ایف آئی اے پیپلز پارٹی کی اہم شخصیات کے خلاف ”میگا کرپشن کیسز“ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت وزیر اعظم محمد نواز شریف سے دھرنے کو ناکام بنانے میں تعاون کرنے کی بھاری قیمت وصول کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لئے وفاقی وزیر داخلہ کے ہاتھ پاؤں باندھنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن چوہدری نثار علی خان اپنے اصولوں سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں۔
عام تاثر ہے کہ پیپلز پارٹی ”فرینڈلی اپوزیشن “ کا کردار ادا کر رہی ہے لیکن وہ اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے اپنا سارا ”غصہ “ چوہدری نثار علی خان پر نکالتی رہتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ایک طرف چوہدری نثار علی خان سے تعلقات بحال کرنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف ان کے اشارے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری نثار علی خان کو ”ٹارگٹ“ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت وزیر اعظم محمد نواز شریف کے بارے میں اپنے دل میں جس قدر ” نرم گوشہ“ رکھتی ہے اسی قدر چوہدری نثار علی خان کے بارے میں ”سخت“ طرز عمل اختیار کر رکھا ہے۔ چوہدری نثار علی خان مصلحت کا شکار نہیں ہوئے لیکن وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی ساری ذمہ داری بھی اپنے سر نہیں لینا چاہتے ،اس لئے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ، کیونکہ وہ کسی صورت ادھار اتارنے میں دیر نہیں کرتے۔
اگر سینیٹ کے انتخابات میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن کی ” کامیا ب سیاست “ پر تعریف نہ کی جائے تو ان کے ساتھ زیادتی ہو گی انہوں نے جس طرح اپنے 5سینیٹر زسے ڈپٹی چیئرمین شپ حاصل کر لی اس پر ان کے سیاسی مخالفین بھی دنگ رہ گئے۔ مولانا فضل الرحمن کو ان کی ”سیاست گردی “ پر داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ کسی کے وہم گماں میں بھی نہیں تھا کہ وہ جس طرح آصف علی زرداری سے جمعیت علما ء اسلام (ف) کے سیکریٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین کا امیدوار نامزد کروا لیں گے۔
یہ بات قابل ذکر بات ہے مولانا فضل الرحمن کا” حکومتی اتحاد“ کا حصہ رہتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین کا منصب حاصل کرنا ان کی” کامیاب سیاست کاری “ کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ انہوں نے حکومتی کیمپ سے اپوزیشن کیمپ میں چھلانگ لگانے سے انکار تو کر دیا لیکن آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمٰن کو ڈپٹی چیئرمین کا تحفہ دے کر رام کرلینے کی کوشش کامیاب کر دکھائی۔ اب دیکھنا یہ ہے میاں رضا ربانی اور مولانا عبد الغفور ایوان بالا کو کس طرح چلاتے ہیں ۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان