تازہ ترین : 1
Saisi Tarz e Amaal Or Mehfuz Raste Se Mashroot Muzakrat Ka Imtehan

سیاسی طرز عمل اور محفوظ راستے سے مشروط مذاکرات کا امتحان

شاہراہ اسلام آباد اور خیابان سہروردی پر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکن 5روز تک بے یارو مدد گار پڑے رہے اور ان کی قیادت خود ایئرکنڈیشنڈ کنٹینروں اور اپنی اپنی رہائش گاہوں میں آرام کرتی رہی

نواز رضا:
پاکستان تحریک انصاف کا ”آزادی مارچ“ اور پاکستان عوامی تحریک کا ”انقلاب مارچ “ اپنی ”منزل مقصود“ پر پہنچ گیا ہے۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب دونوں جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں نے بالآخر شاہراہ دستور پر پہنچنے کیلئے حکومت سے رعایت حاصل کر ہی لی۔ شاہراہ اسلام آباد اور خیابان سہروردی پر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکن 5روز تک بے یارو مدد گار پڑے رہے اور ان کی قیادت خود ایئرکنڈیشنڈ کنٹینروں اور اپنی اپنی رہائش گاہوں میں آرام کرتی رہی۔
پاکستان عوامی تحریک کے کارکن اگرچہ قدرے حوصلہ مند دکھائی دیتے رہے لیکن قیادت نے اپنے کارکنوں کو اگست کی” مو سلا دھار بارش اور چلچلاتی دھوپ“ کے تھپیڑوں کے سامنے اس طرح بے حال چھوڑ دیا ہے کہ دونوں جماعتوں کے دھرنوں کے شرکاء کے اعصاب جواب دے رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی منزل تو ایک ہی تھی لیکن مقاصد اور جلوس الگ الگ رہے اور حکومت کو گرانے کے لئے اسلام آباد آنے والے دونوں” انا پرست لیڈر“ ایک دوسرے کے دھرنے میں گئے اور نہ ہی اپنے کارکنوں کو ایک دوسرے کے جلسہ کی رونق بڑھانے دی۔
دونوں جماعتوں میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی مسلسل کوشش ہوتی رہی ہے۔ اسلام آباد میں دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے الگ الگ جلوس پہنچنے کے بعد 5روز تک دونوں نے الگ الگ آمنے سامنے شاہراہوں پر قیام کیا۔ تاہم دونوں کے ایک ہی وقت جلوس لے کر ریڈ زون کی طرف روانگی اور ان کے یکجا ہونے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دونوں ایک ہی سکرپٹ کے مطابق اسلام آباد آئے اور اس کے مطابق ہی انہوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔
تحریک انصاف کا عجب دھرنا ہے اس کے شرکاء ہر روز عمران خان کا ”‘بھاشن “ سننے کے بعد منتشر ہو جاتے ہیں جب کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے کارکن منظم طریقے سے دھرنے میں شریک ہیں بلا شبہ دھرنے کے شرکاء کی تعداد کے حوالے سے ڈاکٹر طاہر القادری کا پلڑہ بھاری رہا ہے۔ حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان ثابت کرتا ہے کہ عمران خان تیسرے روز ہی دھرنے سے عاجز آگئے اور انہوں نے اپنی تقریر میں بار بار اپنے” دوست “ چوہدری نثار علی خان کا ذکر کرکے سیاسی لحاظ سے ان کی اہمیت بڑھا دی ہے۔
اس سیاسی بحران میں وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جس طرح یکسوئی کے ساتھ عہدہ براء ہو رہے ہیں، ریڈ زون کی طرف آخری وقت اجازت دینے سے حکومت نے بظاہر ”پسپائی “ اختیار کرلی لیکن تصادم کو ہر ممکن حد تک ٹال دیا ہے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے بعد مارچ کے شرکاء کے خلاف طاقت نہ استعمال کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔
مسلم لیگ(ن) میں ”عقاب صفت“ رہنما بھی موجود ہیں لیکن اس کے باوجود منگل کو حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی کمیٹیوں نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے رابطہ کرنے کی حتی الامکان کوشش کی لیکن دونوں رہنماؤں نے طے شدہ حکمت عملی کے تحت ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے منگل کی شب ہی ریڈ زون جانے کا فیصلہ کر رکھا تھا ،بظاہر عمران خان وزیر داخلہ کو جھوٹی یقین دہانی بھی کرواتے رہے۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے استعفے کے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ عمران خان نے اب دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نواز شریف نے استعفاٰ نہ دیا تو وہ وزیر اعظم ہاؤس میں گھس جائیں گے اور ان کو وزیر اعظم ہاؤس سے نکال باہر کریں گے دوسری طرف وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 245کے تحت ریڈ زون میں تمام اہم عمارات کی حفاظت کے لئے فوج تعینات کردی ہے فوج وزیر اعظم آفس، وزیر اعظم ہاؤس ،پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ سمیت تمام اہم عمارات کی حفاظت کر رہی ہے فوج کے ترجمان نے منگل کی شب اس وقت ایک بیان جاری کیا جب عوامی اور تحریک انصاف کے کارکن فاتح کی طرح شاہراہ دستور میں داخل ہورہے تھے بیان میں فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تمام معاملات بامقصد بات چیت سے حل کرنے کا مشورہ دیا ہے تاہم وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ وہ استعفاٰ دیں گے اور نہ ہی اسمبلیاں تحلیل کریں گے کسی کو شک وشبہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ وزیر اعظم محمد نوازشریف سے کوئی بزور طاقت استعفاٰ لے سکتا ان سے 12اکتوبر1999ء کو بھی بندوق کی نوک استعفا نہیں لیا جا سکا اب وہ چند ہزار کے جلوس کے سامنے بلیک میل نہیں ہو سکتے البتہ ان کی جانب سے بار بار عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو جلوس نکالنے کے لئے رعائیتں دینے سے حکومت کی رٹ کمزور ہوئی بار بار کمپرو مائز کرنے حکومت ”بیک فٹ “ پر چلی گئی ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے دونوں جماعتوں کے دھرنے ختم کرانے کے لئے الگ الگ ”سیاسی جرگے“ تشکیل دئیے جو انہیں ”محفوظ راستہ“ دینا چاہتے تھے لیکن دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے شاہراہ دستور پر پہنچنے میں کامیاب ہونے سے ان کی ”بارگینگ پاور“ بڑھ گئی ہے عمران خان نے تحریک انصاف کے ارکان کی قومی ، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کر کے سیاسی حلقوں ہلچل تو مچا دی لیکن انہوں نے خیبر پختونخوا سے استعفوں کافیصلہ موخرکردیا دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر کے انہیں خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے سے روک دیا سر دست ان کے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے بارے میں سنجیدگی کا اندازہ اس وقت ہی لگایا جاسکتا ہے جب وہ متعلقہ اسمبلیوں کے سپیکرز کو اپنے استعفے دیں گے بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف کا سرے سے کوئی رکن نہیں ذرائع کے مطابق مخدوم جاوید ہاشمی سمیت کئی ارکان نے فوری استعفے دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے استعفوں سے مڈ ٹرم انتخابات نہیں ہوں گے ،تحریک انصاف خیبر پختونخوا کی حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہی کرے گی تحریک انصاف کی قیادت نے دعویٰ کیا ہے تمام ارکان اسمبلی کے استعفے موصول ہو چکے ہیں صرف دو اراکان کے استعفے آنا باقی ہیں جن کے موصول ہونے کے بعد سپیکرز کے حوالے کر دئیے جائیں گے۔
واضع رہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 34 ارکان ہیں جن میں 27 جنرل 6 مخصوص اور ایک اقلیتی نشست ہے۔ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے پاس 30 نشستیں ہیں اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں 46 نشستیں ہیں اب پارلیمنٹ ہاہوس کے سامنے پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف نے اپنا دھرنا شروع کر دیا ہے یہ دھرنا طولات بھی پکڑ سکتا ہے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے پارلیمنٹ ہاؤس تک پہنچ کر کامیابی حاصل کر لی ہے لیکن اب انہیں حکومت سے آئین کے اندر رہتے ہوئے اپنے مطالبات منوانے کے لئے” سیاسی ڈائیلاگ “ پر تیار ہو جانا چاہیے ایسے مطالبات منوانے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے جو وزیر اعظم محمد نواز شریف کسی صورت منظور کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے آئین اور پارلیمنٹ کی بالا دستی اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے پوری پارلیمنٹ متحد ہے اگر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القا دری نے پارلیمنٹ کا گھیراؤ جاری رکھا تو کوئی حادثہ جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
وقت اشاعت : 2014-08-22

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں