بند کریں
جمعہ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
”قربانی“ کے مقدس جذبے کوسیاست کا لبادہ اوڑھانے والے ناکام
دھرنے کی انجام پذیر سیاست کے بعد دونوں جماعتیں پسپائی میں جلسوں پر مجبور۔۔۔۔ نئے منی الائنس کی تشکیل کے امکانات ، بلاول ،علامہ ان کے ساتھیوں کو متحرک کرنے کی کوشش
نواز رضا:
عیدالاضحی بفضل تعالیٰ خیر وعافیت کے ساتھ گزر گئی، اس موقع پر اہل وطن نے آزاد جموں و کشمیر سمیت ملک بھر میں مذہبی جوش وخروش اور یگانگت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنت ابراہیمی کے مطابق اپنے عزیک واقارب اور دوست احباب کے ساتھ عید منائی۔ جب کہ پارلیمنٹ ہاوٴس کے سامنے شاہراہ دستور پر پاکستانی عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور پاکستان تحریک انصاف ے چیئر مین عمران خان نے اس مذہبی فریضے کو بھی سیاسی لبادہ اوڑانے سے دریغ نہ کیا اور عید کے موقع پر بھی اپنے کارکنوں کو گھروں کی بجائے دھرنے کے مقام پر عید منانے کیلئے روکے رکھا۔
اگرچہ دنوں رہنما کم وبیش دو ماہ اسے اپنے کارکنوں کو نواز شریف کے استعفے کی نوید سنانے کے لئے بٹھا رکھا ہے لیکن عید بھی گذر گئی لیکن نواز شریف کا استعفٰا آیا اورنہ ہی دونوں رہنما کوئی ”سیاسی ہدف“ حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی راولپنڈی سے یک رکنی جماعت کے ایک لیڈر جو سیاسی پیشگوئیاں کرنے کے دعوے کرتے تھکتے نہیں ان کا عید قربان سے قبل”قربانی“ کا سیاسی دعویٰ بری طرح پٹ گیا ہے۔
اگرچہ اس ”سیاسی پنڈت“ کی کوئی پیش گئی درست ثابت نہیں ہوئی لیکن پھر بھی ان کا ”سیاسی گرو“ اور وہ اب 2015 ء میں عام انتخابات کا نیا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ول تو آج تک تو یہ لوگ پیشگوئیاں کرنے سے باز نہیں آئے دوسری طرف عمران خان جنہوں نے شروع کے ایام میں ہی دھرنے کو رات کے جلسے میں تبدیل کر دیا تھا نے شاہراہ دستور پر عید منانے کا اعلان کر کے ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی شاہراہ دستور پر عید منانے پر مجبور کر دیا جب کہ وہ اپنے دو ماہ سے ”خیمہ بستی“ میں رہائش پذیر کارکنوں کو عیدالاضحی اپنے گھروں میں منانے کی نوید سنا رہے تھے انہوں نے ”خیمہ بستی“ میں ”مقید“ کارکنوں کو واپس آنے کا وعدہ لے کر بظاہر اپنے گھروں کو جانے کی اجازت تو دے دی ہے اس کے باوجود ان کے 20 فیصد کارکن ابھی تک شاہراہ دستور پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔
عمران خان عملاََ اپنے دھرنے کو انتخابی مہم میں تبدیل کر چکے ہیں اور شہر شہر ”جلسہ جلسہ“ کھیل کر اپنی قوت کا مظاہرہ کر رہے ہیں ان کی دیکھا دیکھی ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی پورے ملک میں اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے سردست انہوں نے فیصل آباد اور لاہور میں جلسے کرنے کا اعلان کیا ہے وہ لاہور میں مینا ر پاکستان کے سائے میں اسی مقام پر بڑا جلسہ کر کے عمران خان کے بڑے جلسے کے تاثر کو زائل کرنا چاہتے ہیں ڈاکٹر طاہر القادری جو ”انقلاب“ کانعرہ لگا کر اقتدار کے ایوانوں سے ”شریف خاندان“کو نکال باہر کرنے آئے تھے اب اسی نظام کا حصہ بننے کے لئے بے تاب دکھائی دیتے ہیں انہوں نے ایک بار پھر عوامی تحریک کو سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا ہے اور اپنے کارکنوں کو آئندہ انتخابات کی تیاری شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہیں اگرچہ شاہراہ دستور پر دھرنے میں”عمران خان اور طاہر القادری“ایک دوسرے کے بھائی اور ان کے کارکن ”فرسٹ کزن“ ہیں۔
دونوں کے سیاسی عزائم اور مقاصد میں یکسانیت پائی جانے کے باوجود ”منزل کے حصول میں ایک دوسرے کے حریف ہیں دونوں الگ الگ ”سیاسی سوچ اور تہذیب “ کی نمائندگی کرتے ہیں ”لندن پلان “ کے سکرپٹ رائٹر نے دونوں کو شاہراہ دستور پر اکٹھا تو کر دیا ہے لیکن عمران خان 10 لاکھ تو کیا 10 ہزار کارکن بھی اسلام آباد نہیں لا سکے اور نہ ہی ڈاکٹر طاہر القادری اس قدر لوگ شاہراہ دستور پر لا سکے جتنے 2013 میں ڈی چوک کے سامنے بلیوایریا میں لائے تھے لہٰذا مطلوبہ افرادی قوت نہ ہونے کے باعث وہ اقتدار کے ایوانوں پر قبضہ کر سکے اور نہ ہی شریف برادران کو استعفے دینے پر مجبور کر سکے ان کی ناکام یلغار کے سامنے پوری پارلیمنٹ آہنی دیوار کی طرح کھڑی ہوگئی جس کے باعث دھرنے کی ناکام اور انجام پذیر سیاست کے بعد دونوں جماعتیں اپنی پسپائی کو جلسوں میں تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔
عمران خان جو شاہراہ دستور پر ہونے والے اپنے جلسوں میں کبھی 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے کبھی ”تھرڈامپائر“ کی انگلی اٹھنے کا انتظار کرتے تھے اب انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے بے شک نواز شریف مزید دوماہ استعفٰا نہ دیں وہ اس دوران عوام کو بیدار کریں گے اس کے ساتھ ہی وہ پھر یہ نعرہ لگا کر ” استعفٰا لئے بغیر واپس نہیں جاوٴں گا“ اپنے کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کا اس پورے دھرنے کا ایک ہی حاصل ہے وہ ہے ” گو نواز گو“ کا نعرہ جو اب سکرپٹ کے تحت پورے ملک میں ہر اس جگہ لگوانے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں وزیراعظم محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف جلسوں سے خطاب کرنے کے لئے جاتے ہیں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے شریف برادران کو زچ کرنے کا کئی موقع ہاتھ سے جانے دیا جب کہ شریف برادران نے فی الحال جوابی جلسے کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے اور نہ ہی ” گو عمران گو“ کے نعرے لگوائے ہیں اس کے باوجود مشتعل مسلم لیگی کارکن اپنی قیادت کی ہدایات کی پروا کئے بغیر عمران خان کے خلاف نعرے بازی کرنے سے باز نہیں آتے مسلم لیگ (ن) بھی مقابلے میں بڑے جلسے منعقد کر سکتی ہے لیکن مسلم لیگی قیادت سیاسی ٹمپریچر بڑھانے سے گریز کر رہی ہے ۔
جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے شیخ رشید احمد ان کے ساتھ ”شامل باجہ“ کے طور پر رہیں گے، جب کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی سربراہی میں ایک نیا” سیاسی اتحاد“ جسے ”گرینڈ الائنس“ تو نہیں کہا جا سکتا ”منی الائنس“ قائم ہونے والا ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ (ق) ، پاکستان سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت مسلمین شامل ہو جائیں گی جب کہ سیاسی افق پر بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی کو متحرک کیاجائے گا آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی کے ”تن مردہ“ میں جان ڈالنے کی کوشش کی جائے گی وزیراعظم محمد نواز شریف جنہوں نے شاہراہ دستور پر دھرنے والوں کو ”لاشوں “ کے گرنے کا جواز نہ دے کر اور مخدوم جاوید ہاشمی نے عمران خان کے عزائم کو بے نقاب کر کے سیاست کا رخ ہی تبدیل کر دیا ہے۔
دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کے تحفظ کے لئے متحد ہوگئی ہیں جس کے باعث وزیراعظم محمد نواز شریف دھرنے کے دباوٴ سے نکل آئے ہیں۔ جب سے حکومت اور تحریک انصاف وعوامی تحریک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے ہیں فریقین کے سخت طرز عمل کی وجہ سے مذاکرات بحال نہیں ہو سکے اب تو حکومت بھی کچھ دیئے بغیر ہی دھرنے والوں کو شاہراہ دستور سے اٹھوانا چاہتی ہے جب کہ حکومت نے ابھی تک اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی جرگہ کی 11 تجاویز کا باضابطہ جواب بھی نہیں دیا ہے سیاسی جرگہ کے ارکان وزیراعظم کی امریکہ سے واپسی کے بعد ملاقات کے منتظر رہے لیکن وزیراعظم ہاوٴس سے ملاقات کا بلاواہی نہیں آیا ۔
اب سیاسی جرگہ عید الاضحی کے بعد وزیراعظم سے ملاقات کی کوشش کرے گا دوسری طرف عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری جو وزیراعظم کا استعفا لئے بغیر واپس نہ جانے کا اعلان کرتے تھکتے نہیں ” بیک ڈور چینل “ سے ”جیت جیت‘ کی صورت حال میں واپس جانے کا عندیہ دیا ہے جس کا وہ وعوامی سطح پر اظہار کرنے کے لئے تیار نظر نہیں آتے تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیز ترین کا حکومت کے ساتھ رابطہ ہے اور وہ جوڈیشل کمشن کے قیام پر بات چیت کر رہے ہیں ڈاکٹر طاہر القادری تو اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف ان کے پاس آئیں تو وہ اٹھ کر چلے جائیں دونوں اطراف کی قیادت نے سیاست کو اپنی ”انا “ کی بھینٹ چڑھا دیا ہے معلوم نہیں اسلام آباد کے شہریوں کا سکون کب تک ” دھرنے کی سیاست“ میں تباہ وبرباد ہوتا رہے گا؟ وزیراعظم دھرنے کے شرکاء کو طاقت کے استعمال سے اپنے گھروں کو واپس نہیں بھجوانا چاہتے جب کہ دھرنے کی قیادت پچھلے دو ماہ سے حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال کی منتظر ہے لیکن وزیراعظم کے مفاہمانہ رویہ کی وجہ سے اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سردست دھرنے کے شرکاء کی واپسی کے بارے میں کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی اس اعصاب شکن جنگ میں ڈاکٹر طاہر القادری کے بیشتر کارکن بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں تحریک انصاف کا مجمع تو شروع ہی سرشام ہوتا ہے اور پھر رات کا آخری حصہ اس کے کارکن اپنی ”اپناہ گاہوں“ میں سکون سے گذارنے چلے جاتے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دھرنے کی حاضری کی متاثرکن بنانے کے لئے ”کرائے کے سپاہیوں“ کی بھی خدمات حاصل کی گئی ہیں ، مگر حکومت کی ”برداشت “ کو ھی داد دینے کو جی چاہتا ہے جو روز کی گالی گلوچ سے بھی ”بد مزہ“ نہیں ہوئی اور ابھی تک اپنی ’رٹ پر کمپرومائز کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-10

(0) ووٹ وصول ہوئے