بند کریں
اتوار مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قومی سیاست میں لفظی جنگ
پالیسی ساز کرپشن اور کالعدم تنظیموں کو کچلنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔۔۔۔ آرمی چیف کے بعد چیف جسٹس کی جانب سے گڈگورننس پر جاری ہونے والے بیان کو بعض حلقے معمولی بات نہیں قرار دے رہے
مصنف : سید بدر سعید
گزشتہ دنوں قومی سیاست کا درجہ حرارت بڑھتا چلا گیا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے پاک فوج کی جانب سے گڈگورننس کا بیان جاری ہوا جسے پارلیمنٹ نے غیر ضروری ہوا دیدی۔ اس بیان کی من پسند تشریحات نے سیاسی درجہ حرارت میں کافی اضافہ کیا۔ ابھی ان بیانات کی حدت کم نہ ہوئی تھی کہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے بھی مسائل کی نشاند ہی کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملک قرضوں پر چلایا جا رہا ہے اور خراب حکمرانی سے خود کو لاتعلق رکھ کر عوام کوآپ کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔
عدلیہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ بڑی مچھلیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا ۔ جس وقت عدلیہ یہ ریمارکس دے رہی تھی انہی دنوں ڈاکٹر عاصم کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا ۔ ڈاکٹر عاصم کو بچانے کے لیے سیایسی طاقتیں بھی متحرک نظر آرہی تھی۔ آرمی چیف کے بعد چیف جسٹس کی جانب سے گڈگورننس پر جاری ہونے والے بیان کو بعض حلقے معمولی بات نہیں قرار دے رہے۔
اسی دوران صدر پاکستان کی طرف سے علماء کرام کو ہاوٴس بلڈنگ قرضے پر سود کی گنجائش نکالنے کا کہا گیا تو یہ معاملہ بھی کافی اُچھلا۔ وطن عزیز میں چند ہفتے قبل ہی سود پر پابندی کے کیس میں فاضل جج کے اضافی ریمارکس نے صورتحال کشیدہ کر دی تھی۔ یہ معاملہ تھما ہی تھا کہ صدر متحرم نے اسے پھر ایک اور انداز سے اخبارات کی سرخی بنادیا۔
ایک طرف تو فوج، عدلیہ اور پارلیمنٹ میں بیان باز ی کا سلسلہ جاری رہا ۔
دوسری طرف دہشت گردی کے حوالے سے بھی صورتحال کشیدہ ہوتی چلی گئی۔ میڈیا ہاوٴس پر دستی بم کے حملے کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر کے میڈیا پر حملوں کے اعلان نے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ کراچی میں انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر دہشت گردی کے خدشے کے تحت مزارقائد شہریوں کیلئے بند کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ مزار اقبال پہلے ہی شہریوں کے لیے بند کیا جا چکا ہے۔
اسی دوران بنوں میں وفاقی وزیر اکرم درانی کے قافلے پر بھی حملہ ہوا جنہیں ریمورٹ کنٹرول بم سے اُڑانے کی کوشش کی گئی۔ اس حملے میں 3 افراد جاں بحق ہوئے۔ا ن حالات میں اپیکس کمیٹی پنجاب کا یک فیصلہ تازہ ہوا کہ جھونکا معلوم ہو۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی پنجاب کے اجلاس میں کور کمانڈر لاہور لیفٹنینٹ جنرل صادق علی بھی شریک تھے۔
اس اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں پوری قوت سے کچلی جائیں گی۔ اسی طرح دہشت گردوں اور سہولت کاروں کے خلاف آپریشن کا دائرہ بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ موجودہ صورتحال میں یہ ایک اچھا فیصلہ ہے جس پر فوری عمل درآمد ضروری ہے۔ دوسری جانب یہ سوال بھی اُٹھ رہے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب اور نیشنل پلان کی متفقہ منظوری کے باوجود اب سیاسی جماعتیں کرپشن اور شدت پسندی کے خلاف ہونیوالے آپریشن میں رکاوٹیں کیوں ڈال رہی ہیں۔
فی الوقت سیاسی منظر نامے کا گرد موسم محض چند بیانات سے بہتر ہوسکتا ہے۔ حکومت اور دیگر ادروں کے درمیان جاری لفظی جنگ کہا ں جا کر تھمے کی ؟ اس پر ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن یہ بات طے ہے کہ پالیسی ساز اس بار کرپشن اور شدت پسندی کے خلاف اس آپریشن کو منطقی انجام تک لے جانے کا فیصلہ کر چکے ہیں اس لیے جیسے ہی سیایسی اور خصوصاََ حکومتی عہد یدار متنازعہ بیان جاری کرتے ہیں اس کے فوراََ بعد انہیں دباوٴ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
وزیراعظم کے دورے کے فوراََ بعد آرمی چیف کے دورہ امریکہ فوج کی جانب سے گڈ گورننس کے بیان پر اعتراض کے فوراََ بعد عدلیہ کی جانب سے بھی گڈ گورننس پر سوال بظاہر اتفاق یا معمول کی بات ہو سکتی ہے لیکن کئی اہم حلقے اسے معمول یا اتفاق سمجھنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب سیایسی جماعتوں کو بھی حالات کا رُخ سمجھنا ہوگا اور سیاسی دُنیا سے جرائم پیشہ عناصر کو باہر نکالنا ہو گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان