بند کریں
جمعہ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قادری تخت یا تختہ اور عمران کا خالی ہاتھ لوٹنے سے انکار
پاکستان تحریک انصاف کا ”آزادی مارچ“ اور پاکستان عوامی تحریک کا ”انقلاب مارچ“ جو 14اگست 2014ء سے لاہور سے شروع ہوا تھا نے پچھلے14 روز سے شاہراہ دستور پر دھرنا کی شکل اختیار کررکھی ہے
نواز رضا:
پاکستان تحریک انصاف کا ”آزادی مارچ“ اور پاکستان عوامی تحریک کا ”انقلاب مارچ“ جو 14اگست 2014ء سے لاہور سے شروع ہوا تھا نے پچھلے14 روز سے شاہراہ دستور پر دھرنا کی شکل اختیار کررکھی ہے اس صورت حال میں عملاً پارلیمنٹ، وزیراعظم آفس، سپریم کوٹ اور ایوان صدر ”محاصرے “ کی حالت میں ہیں۔ سپریم کورٹ نے ممکنہ غیر آئینی اقدامات کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک کی قیادت کو شاہراہ دستور خالی کر دینے کا بھی حکم دیا لیکن دونوں جماعتوں کی قیادت نے شاہراہ دستور خالی کرنے انکار کر دیا ہے اور دھرنے کے لئے متبادل جگہ کی فراہمی کی پیشکش بھی مسترد کر دی ہے۔
اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کروا دیا ہے شاہراہ دستور پر دئیے گئے دھرنے میں لمحہ بہ لمحہ صورت حال تبدیل ہوتی رہتی ہے کبھی عمران خان وزیر اعظم محمد نواز شریف کے استعفا نہ دینے پر حکومت پر چڑھ دوڑنے کی دھمکی دیتے ہیں تو کبھی ڈاکٹر طاہر القادری ”کفن“ منگوا کر نواز شریف کو حکومت چھوڑنے کے لئے 48گھنٹے کاالٹی میٹم دے کر خوف ہراس کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن حکومت ان کی دھمکیوں سے مرعوب ہے اور نہ ہی وزیر اعظم ”سٹیپ ڈاؤن“ کرنے کے لئے تیا ر ہیں۔ البتہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پچھلے کئی دنوں سے افواہوں کی زد میں ہے کبھی وزیر اعظم کے رخصت پر چلے جانے اور چوہدری نثار علی خان کو وزیر اعظم بنانے کی افواہ گردش کرتی ہے تو کبھی افواہ سا ز فیکٹریاں وزیر اعلیٰ پنجاب کو مستعفی کر دیتی ہیں اور ان کی جگہ اشفاق سرور کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیتی ہیں۔
جب کہ حقائق اس کے برعکس ہیں یہ افواہیں در اصل ان قوتوں کی پھیلائی ہوئی ہیں جو وزیر اعظم محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو ملکی سیاست سے ”آؤٹ“ کرنے کی خواہشمند ہیں اس دوران سیاسی بحران جو شاہراہ دستور پر طلاطم خیز ہے، اس کے خاتمے کے لئے کچھ ”سیاسی و نادیدہ قوتیں“ ’ سرگرم عمل ہیں جب کہ کچھ سیاسی عناصر صورت حال کو مزید گھمبیر بنانے میں بھی مصروف عمل ہیں۔
عمران خان شاہراہ دستور سے خالی ہاتھ واپس نہیں جانا چاہتے جب کہ ڈاکٹر طاہر القادری سب کچھ ملیا میٹ کرکے ہی واپسی کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ، اس صورت حال میں وزیر اعظم محمد نواز شریف، عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف شیخ رشید عمران خان کو ڈرا رہے ہیں کہ اگر وہ کچھ حاصل کئے بغیر اسلام آباد سے واپس لوٹے تو ان کی سیاست ڈی چوک کے گڑھے میں دفن ہو جائے گی جب کہ دوسری طرف چوہدری برادران ڈاکٹر طاہر القادری کو اپنے مطالبات پر ثابت قدم رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق کی کوششیں ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کو رام کرنے کے لئے گورنر سندھ عشرت العباد اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اپنی استعداد کے مطابق اسلام آباد میں بڑھنے والے سیاسی ٹمپریچر کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران سیاسی افق پر اچانک سابق صدر آصف زرداری بھی نمودار ہوئے ہیں جنہوں نے جاتی امراء (رائے ونڈ) میں وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کے بعد جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق اور سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور سینئر رہنما چوہدری پرویز الہیٰ سے الگ الگ ملاقات کر کے معملے کو سلجھانے کی کوشش کی ہے مگر شاید وہ اس ضمن میں نواز شریف کی کوئی زیادہ مدد نہیں کرسکے۔
وزیر اعظم کو انہوں نے حکومت کی پانچ سال کی مدت پوری کرنے اور استعفیٰ نہ دینے کا قیمتی مشورہ ضرور دیا ہے تاہم انہوں نے کراچی سے پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے الگ الگ ٹیلی فون پر بات چیت کر کے انہیں دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے جو کامیاب نہیں ہوئی۔ دونوں نے انہیں ٹکے سا جواب دے دیا ہے۔
دھرنے کے دوران فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی وزیر اعظم محمد نواز شریف سے دوسری اہم ملاقات ہوئی ہے اس ملاقات کو سیاسی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے جس میں سیاسی بحران جلد حل کرنے پر اتفاق رائے ہوا ہے۔ عمران خان اشاروں کنایوں میں ”تھرڈ امپائر“ کے انگلی کھڑا کرنے کے بڑے دعوے کر رہے تھے لیکن” تھرڈ امپائر“ نے ابھی تک انگلی کھڑی کی ہے اور نہ ہی تیسری قوت نے مداخلت کی ہے۔
البتہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بار بار فریقین کو مل بیٹھ کر معاملات طے کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ عمران اور ڈاکٹر طاہرا لقادری کی اسلام آباد سے واپسی میں ”نادیدہ قوتیں “ ہی کلیدی کردار کر سکتی ہیں اور دونوں کو اپنے رویہ میں لچک پیدا کرنے پر آمادہ کر سکتی ہیں۔ عمران خان جو وزیر اعظم محمد نواز شریف کے استعفے سے کم کی بات نہیں کرتے وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کے لئے تیار نہیں جب کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہی تھا کہ چوہدری برادران ان کے کنٹینر میں پہنچ گئے چوہدری شجاعت حسین وزیراعظم محمد نواز شریف کو نیچا دکھانے کا جو کھیل کھیل رہے ہیں اس میں بڑی حد تک انہیں کامیابی ہوئی ہے۔
ملی یک جہتی کونسل نے بھی ڈاکٹر طاہر القادری کے 10نکاتی مطالبات کی حمایت کرکے اپنا وزن ان کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ اس سے جہاں ان کی سیاسی و اخلاقی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے وہاں وہ ان سے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے استعفے کے مطالبے سے دستبردار ہونے پر زور بھی دے رہی ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف اپنے رویہ میں لچک پیدا کرنے والے لیڈر کی شہرت رکھتے ہیں لیکن وہ سیاست میں عزت و وقار کا بھی لحاظ رکھتے ہیں۔
اسی جذبے کے تحت وزیر اعظم م نواز شریف نے تمام سٹیک ہولڈرز پر واضح کر دیاہے کہ ان کی”لاش“ پر ہی استعفاٰ لیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے پھر ان کے ایک ماہ کے لئے رخصت پر چلے جانے کا فارمولہ پیش کیا گیا ہے۔ سردست وزیر اعظم محمد نواز شریف اپنے اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں جس دھرنے کو ان پر دباؤ ڈالنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، اس کی حالت یہ ہے کہ صبح کو دھرنا اجڑ جاتا ہے اور تحریک انصاف کے گنتی کے کارکن رہ جاتے ہیں جب کہ رات کو نہا دھو کر شاہراہ دستور پر خواتین کی خاطر خواہ تعداد پھر جمع ہو جاتی ہے ،جب یہ دھرنا ”میوزک کنسرٹ“ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کے بارے میں ”سوشل میڈیا“ پر بہت کچھ آچکا ہے اس بارے میں ان سطور میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کی صورت حال قدرے مختلف ہے جہاں دھرنے کے بیشتر شرکا کو شاید ہی ”انقلاب“ کا مطلب معلوم ہو لیکن وہ انقلاب کی تلاش میں شاہراہ دستور تک آن پہنچے ہیں تاہم ان میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں۔

اندریں حالات پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما چودھری جعفر اقبال نے وزیر اعظم نواز شریف کے نام ایک اپنے خط میں عمران خان کو با اختیار ڈپٹی پرائم منسٹر بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ دراصل اس تجویز کو وزیر اعظم کی تائید بھی حاصل ہے لیکن اسے پارٹی کی جانب سے باضابطہ ایک تجویز کی شکل دے کر عمران کو اس عہدے کی پیش کی گئی ہے۔ حکومت کو پیش کی گئی اس تجویز کے مطابق محدود مدت کے لئے ڈپٹی پرائم منسٹر شپ کی پیشکش کا مقصد عمران خان کی موجودگی میں انتخابی شکایات کی تحقیقات کروانا ہے۔ جس کی صحت و صداقت اور منصفانہ کارروائی پر ان کی جماعت کوبھرپور اعتماد ہو۔ عمران خان کا سردست اس تجویز پر ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-29

(0) ووٹ وصول ہوئے