بند کریں
جمعہ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پنجاب ۔۔ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری کی ہدایت
مسلم لیگ (ن) بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پوری طرح تیار نظر آتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر وزیراعظم محمد نواز شریف نے پنجاب اور سندھ کے صوبائی صدور کو ہدایت کی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے بھرپور تیاریاں کریں
فرخ سعید خواجہ
بلدیاتی انتخابات کے لیے صوبہ پنجاب میں حلقہ بندیاں ہو چکیں، آج کل ان پر اعتراضات جمع کروائے جا رہے ہیں۔ اگلے ماہ کے پہلے ہفتے میں حلقہ بندیاں حتمی شکل میں سامنے آ جائیں گی۔ مسلم لیگ (ن) بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پوری طرح تیار نظر آتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر وزیراعظم محمد نواز شریف نے پنجاب اور سندھ کے صوبائی صدور کو ہدایت کی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے بھرپور تیاریاں کریں۔
پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی مخالف تمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ (ن) کے امیدواروں کے مقابلے میں مشترکہ امیدوار لائیں۔ اِدھر مسلم لیگ (ن) بھی لاہور کا انتخابی معرکہ سر کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی مشاورت سے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے لاہور میں بلدیاتی انتخابات کا معرکہ سر کرنے کے لیے رکن قومی اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) کے نوجوان رہنما میاں حمزہ شہباز کی سربراہی میں دس رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
اس کمیٹی میں شامل خواجہ سعد رفیق تنظیمی امور کے ماہر اور فاتح کنٹونمنٹس بورڈز ہیں اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کے جنرل سیکرٹری سمیت یوتھ ونگ کے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ لاہور ہی میں پیدا ہوئے، پڑھے اور سیاسی تعلیم حاصل کی۔ پرویز ملک ایم این اے مسلم لیگ (ن) لاہور کے صدر ہیں۔ خواجہ عمران نذیر جنرل سیکرٹری ہیں۔ خواجہ احمد حسان مسلم لیگ لاہور کے سابق صدر میں میاں مرغوب احمد ایم پی اے لاہور کے سابق صدر ہیں۔
سید توصیف شاہ مسلم لیگ (ن) لاہور کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ہیں۔ رانا مبشر اقبال مسلم لیگ لاہور کے نائب صدر ہیں۔ چودھری شہباز احمد ایم پی اے سابق طالب علم لیڈر ہیں اور مسلم لیگ ن کے متعدد عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ ملک سیف الملوک کھوکھر ایم پی اے صوبائی دارالحکومت کے دیہی علاقے کے بڑے سیاسی خاندان کے فرد ہیں۔ اس متذکرہ بالا کمیٹی کو امیدواروں کے چناوٴ سے لے کر ان کی انتخابی مہم کی مانیٹرنگ تک کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

ادھر مسلم لیگ (ن) کی یہاں لاہور میں سب سے بڑی سیاسی حریف جماعت تحریک انصاف انتشار کا شکار ہے۔ پارٹی چیئرمین عمران خان اور پارٹی کے الیکشن ٹربیونل کے سربراہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد کے درمیان انٹرا پارٹی الیکشن کے بارے میں رپورٹ پر اتفاق کے باوجود تنازع پیدا ہو چکا ہے۔ عمران خان کی جانب سے مقرر کردہ صوبائی آرگنائزر چودھری محمد سرور نے ایسے ہی لاہور کے معاملات چلانے کے لیے اٹھارہ رکنی آرگنائزنگ کمیٹی مقرر کی ہے لیکن اس کمیٹی کا کسی کو آرگنائزر اور ڈپٹی آرگنائزر مقرر نہیں کیا گیا بلکہ لاہور سے جیتنے والے اپنے واحد رکن قومی اسمبلی شفقت محمود کو آرگنائزنگ کمیٹی کا انچارج لگایا گیا ہے جبکہ دیگر اضلاع میں آرگنائزر مقرر کئے گئے ہیں جبکہ کمیٹی میں پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید، میاں اسلم اقبال ایم پی اے، ڈاکٹر مراد داس ایم پی اے، شعیب صدیقی، جمشید اقبال چیمہ، مہر واجد علی، میاں حامد معراج، ڈاکٹر زرقا تیمور، حامد زمان، ملک ظہیر عباس کھوکھر، میاں حماد اطہر، یاسر گیلانی، منشا سندھو، نواز نت، علی امتیاز وڑائچ، شیخ امتیاز شامل ہیں۔
ڈاکٹر عاطف الدین کو سیکرٹری انفارمیشن و کوآرڈی نیشن مقرر کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کی اٹھارہ رکنی کمیٹی کے ذمے لاہور میں تنظیمی امور اور بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں ہیں۔
مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی متذکرہ بالا دونوں کمیٹیوں کا جائزہ لیا جائے تو مسلم لیگ (ن) کی کمیٹی میں تمام ممبران سیاسی و انتخابی تجربے کے حامل ہیں جبکہ تحریک انصاف کی کمیٹی اس کے مقابلے میں کمزور دکھائی دیتی ہے۔
بہرحال دونوں کے ذمے ایک ہی ٹاسک ہے کہ لاہور میں بلدیاتی انتخاب کا میدان مارنا ہے۔ کون جیتے گا، کون ہارے گا اس کا فیصلہ انتخابی معرکوں میں ہو گا۔
جہاں تک تحریک کے اندرونی جھگڑے کا تعلق ہے اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک عمران خان کا اپنے لوگوں کو دیا گیا شعور ہے کہ اپنا حق مت چھوڑو، نہ ملے تو چھیننے سے گریز نہ کرو۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جن کو استعمال کر لیا اب انہیں گھر جانے دو اور نئے انویسٹر آگے لاوٴ۔
جہاں تک پہلے پہلو کا تعلق ہے جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو عمران خان کے سیاسی فلسفے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے میدان سیاست میں آئے۔ چیئرمین عمران خان نے 2013ء کے انٹرا پارٹی الیکشن میں دھاندلی کی شکایات پر خود ان کی سربراہی میں کمشن قائم کیا۔ جج صاحب نے تحقیقات کر کے جو رپورٹ فائل کی اس میں ایسے پانچ لوگ دھاندلی کے ذمہ دار پائے گئے جو عمران خان کے بہت قریب ہیں اور ان پر اور پارٹی پر ”مال“ خرچ کرتے ہیں۔
جج صاحب کے فیصلے کی تفصیلات پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں اور یہ بھی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ چیئرمین عمران خان نیم دروں نیم بروں جج صاحب کے فیصلے پر عمل کرتے رہے ہیں جس کے باعث تنازع بڑھا۔ یوں تو جج صاحب کو پس پردہ شاہ محمود قریشی اور اعجاز چودھری کی بھی حمایت حاصل ہے۔ جو کہ بالترتیب پارٹی کے وائس چیئرمین اور صوبائی صدر کے عہدوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد ایک ایماندار شخص ہیں بطور جج ان کا کیریئر شاندار رہا اور اصولوں پر انہوں نے ”ججی“ کو قربان کر دیا۔ اب ایک مرتبہ پھر ان پر وقت آیا ہے کہ اصولوں کی قربانی مانگی جا رہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ چیئرمین عمران خان نے زیادہ ضد کی تو جج صاحب عمران خان اور تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے۔
تاہم اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ اس صورت میں انہوں نے تحریک انصاف کے الیکشن کا ”ڈیٹا“ الیکشن کمشن آف پاکستان کو دے دیا تو بہت ممکن ہے کہ تحریک انصاف قانون کے شکنجے میں آ جائے۔ چیئرمین عمران خان نے پارٹی تنظیمیں جج صاحب کی جانب سے یہ دھمکی سن کر ہی توڑی تھیں لیکن جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد کے دیئے گئے فیصلے کی روح کے مطابق اس پر عمل نہیں کر سکے۔
اب ایک طرف جج صاحب عمران خان کو راہ راست پر لانے کیلئے کوشاں ہیں دوسری طرف عمران خان ان کے فیصلے پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں۔
چیئرمین عمران خان ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ ان کا ماضی کا ٹریک ریکارڈ دیکھا جائے تو وہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو اس وقت تک استعمال کرتے ہیں جب تک ان کا متبادل نہ مل جائے۔ معراج محمد خان کو تحریک انصاف کے لوگ ابھی نہیں بھولے ہوں گے۔
ایڈمرل (ر) جاوید اقبال، ڈاکٹر عثمان کو جس طرح کھڈے لائن لگایا وہ کس سے پوشیدہ ہے۔ اب جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان وغیرہ کی بجائے امریکہ اور برطانیہ کے لوگ عمران خان اور پارٹی پر انویسٹمنٹ کرنے پر آمادہ ہیں۔ عمران خان کے لیے جہاز اور بلٹ پروف گاڑیوں کی خرید کی خبریں منظرعام پر آتی رہی ہیں۔ ان کو بیرون ملک مقیم پاکستانی ہی خرید کر خان صاحب کی نذر کرنا چاہتے ہیں سو کوئی بعید نہیں کہ عمران خان اس انتظار میں ہوں کہ پارٹی کے اندر سے ان سے فرمائش کی جائے کہ جن کے اوپر دھبے ہیں ان سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے سو خان صاحب جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان، نادر مگسی، اعظم سواتی جیسے اپنے دوستوں سے معذرت کر لیں اور امریکہ برطانیہ سے آنے والا تازہ پاکستانی خون تحریک انصاف کو مضبوط کرنے کے لیے سامنے آ جائے۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-19

(0) ووٹ وصول ہوئے