بند کریں
جمعہ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پی ٹی آئی کا پلان سی۔۔۔پرامن احتجاج کا دعوی
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حکومت کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے پلان سی کے مطابق بڑے شہروں میں نظام زندگی معطل کرنے کے لیے راستے و سڑکیں بند کرنے اور دوکانیں بند کرانے سمیت تمام ہتھکنڈے استعمال کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے
احسان شوکت:
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حکومت کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے پلان سی کے مطابق بڑے شہروں میں نظام زندگی معطل کرنے کے لیے راستے و سڑکیں بند کرنے اور دوکانیں بند کرانے سمیت تمام ہتھکنڈے استعمال کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ فیصل آباد میں انتہائی افسوسناک واقعات کے باوجود گزشتہ روز زندہ دلان کے شہر لاہور میں پی ٹی آئی کے احتجاج کی وجہ سے شہریوں کو جو پریشانی و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ایمبولینسز کو راستہ نہ ملنے پر قیمتی انسانی جانوں کے ضیائع کے واقعات رونما ہوئے۔
اس نے ہر محب وطن شہری کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہمارے سیاستدان کس ڈگر پر چل نکلے ہیں اور عوام کے حقوق و تبدیلی کا دم بھرنے والوں کا اصل ایجنڈا کیا صرف اپنے مذموم مقاصد کا حصول ہے چاہے اس کی قیمت معصوم انسانی جانوں کا ضیائع اوقیمتی املاک کی تباہی ہی کیوں نہ ہو۔ تحریک انصاف کی قیادت نے ضلعی انتظامیہ لاہور سے مذاکرات میں 18نکاتی قواعد و ضوابط پر متفق ہونے کے بعد گزشتہ روز احتجاج کی اجازت حاصل کی تھی جس کے مطابق 18مقامات پر دھرنوں کے علاوہ ٹریفک بلاک نہ کرنے، زبردستی دوکانیں بند نہ کرانے، شہریوں پر تشدد نہ کرنے، کسی املاک کو نقصان نہ پہنچانے اور ٹائر جلا کر روڈ بلاک نہ کرنے سمیت دیگر طے شدہ قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کرنے کی تحریک انصاف کی قیادت نے یقین دہانی کرائی تھی مگر اس کے بعد کیا ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
تحریک انصاف کے کارکنوں نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہی شہر میں دھاوا بول دیا تھا اور مختلف سڑکوں کو بند کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ صبح تحریک انصاف نے طے شدہ 18مقامات کی بجائے شہر بھر میں راستے بند کر دیئے تھے۔ بعض سڑکوں پر چند نوجوان و کارکن ہی رکاوٹیں و گاڑیاں کھڑی کرکے راستے بند کرکے اپنی ”ڈیوٹی“ سرانجام دیتے نظر آئے جس سے شہریوں خصوصاً سکول کے بچوں کو چھوڑنے جانے والے والدین اور خواتین کو شدید پریشانی و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ شہر میں اس صورتحال سے خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی۔
چوراہوں میں ٹائر جلا کر انہیں بند کرنا شروع کر دیا گیا بہت سے لوگوں نے اس صورتحال اور خدشات کے پیش نظر بچوں کو سکول بھیجا ہی نہیں جبکہ متعدد والدین یہ صورتحال دیکھ کر بچوں کو سکول چھوڑنے جانے کی بجائے گھروں کو واپس لوٹ گئے۔ بہت سے بچے پیپر دینے سے بھی محروم رہ گئے۔حکومت نے خود تو پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز معطل کر دیا مگر سرکاری ملازمین کو گزشتہ روز صبح سات بجے ہی دفاتر طلب کر لیا۔
جس سے حکومت کی بھی جگ ہنسائی ہوئی۔ گزشتہ صبح سے ہی شہر میں پی ٹی آئی کے احتجاج میں شدت دیکھنے میں آئی۔ کارکنوں نے چونگی امرسدھو میں میٹروبس کا ٹریک ٹائر جلا کر بلاک کر دیا جبکہ ایک بس پر پتھراوٴ کیا جس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے اور حکومت کو اس واقعہ کے بعد میٹرو بس سروس بھی بند کرنا پڑی۔ جس سے شہریوں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کڑنا پڑا۔
اس کے علاوہ بھاٹی چوک میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان کو ڈنڈوں سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ نوجوان نے ایک دوکان میں چھپ کر اپنی جان بچائی۔ کارکنوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں دوکانیں زبردستی بند کرائیں۔ ہوٹلوں اور ریڑھیوں سے ناشتہ لوٹ کر ہڑپ کرنے کے واقعات بھی رونما ہوئے۔ شہر میں تصادم کا خطرہ پیدا ہوتا تو پولیس حرکت میں آتی اس کے علاوہ پولیس راستے کھلوانے یا پھر پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنوں کو قانون کے دائر میں رکھنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آئی۔
ٹریفک وارڈنر بھی متبادل راستوں میں ٹریفک چلانے میں بالکل ناکام و بے بس نظر آئے۔ شہری گلیوں کوچوں میں اپنی مدد آپ کے تحت راستے ڈھونڈتے نظر آئے۔ پولیس نے چونگی امرسدھو میں میٹرو بس کو نقصان پہنچانے والوں سمیت دیگر مقامات سے چند کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے جس پر مقدمات درج کیے جا رہے ہیں مگر پولیس حکام کے بلند و بانگ دعووٴں کے برعکس کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں ہو گی۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں نے قانون ہاتھ میں لینا تو دور کی بات انہیں پوچھنے والا ہی کوئی نہیں تھا جس کا جو دل کرتا وہ کر رہا تھا کسی عام شہری کو بھی راستے استعمال کرنے کا حق نہیں دیا جا رہا تھا بلکہ انہیں دھمکیاں دے کر ڈرا دھمکا کر بھگا دیا جاتا۔خواتین سے بھی بدتمیزی کے واقعات رونما ہوئے جبکہ فیصل چوک میں خواتین کارکنوں سے چھیڑ خانی پر خواتین نے ڈنڈے پکڑ کر اپنا بچاوٴ کیا۔
صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
مشتعل کارکنوں پر قانون کی لگا م کسنے والا کوئی بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ شہریوں کے حقوق کی پامالی پر پولیس بے بس تماشائی کا کردار ادا کر رہی تھی۔ انتہائی افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ایبولینسز کو بھی راستہ تک نہیں دیا جا رہا تھا جس پر 17دن کی بچی اور 15سالہ لڑکے سمیت 4افراد کو بروقت طبی امداد نہ ملنے پر ان کی ہلاکتوں کے واقعات بھی رونما ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں راستے بند ہونے پر چلڈرن ہسپتال نہ پہنچ سکنے پر 17دن کی بچی سدرہ ریاض، شاہدرہ میں راوی پل کے قریب ایبولینس پھنس جانے سے 15سالہ لڑکا اور جوڑے پل پر رکشہ میں ہسپتال لے جایا جا رہا دل کا مریض امانت بھی شامل ہیں۔
ایمبولینس میں 15سالہ لڑکے کی ہلاک کے حوالے سے ایمبولینس ڈرائیور کا کہنا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو خدا، رسول کے واسطے دیتا رہا مگر ان کے کانوں جوں تک نہ رینگی انہوں نے ایمبولینس کو راستہ نہ دیا اور متاثرہ لڑکا تڑپ تڑپ کر ایمبولینس میں دم توڑ گیا جبکہ کارکن بھنگڑے ڈالتے اور ناچتے گاتے ”گو نواز گو“ کے نعرے لگاتے رہے۔ اس صورتحال کا جواب ذمہ داران تحریک انصاف کی قیادت ہی دے سکتی ہے۔
ایک طرف وہ پرامن احتجاج کا دعویٰ اور شہریوں کے حقوق و آزادی کی بات کرتے ہیں اور ہر وقت تبدیلی کا راگ الاپتے رہتے ہیں مگر دوسری طری راستے بند ہونے سے مرتے، سسکتے عام شہری کس سے ”انصاف“ مانگیں۔ حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے یا انصاف کے تحریکوں سے۔ اس صورتحال کا ذمہ دار جو کوئی بھی ہے مگر نقصان تو بے چارے عوام اور وطن عزیز کا ہی ہو رہا ہے حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت دونوں ہوش کے ناخن لیں۔
حکومت کسی کو قانون ہاتھ میں نہ لینے دے جبکہ تحریک انصاف کی قیادت بے چارے عوام اور وطن عزیز پر رحم کرے۔ وہ بے شک احتجاج کریں یہ ان کا جمہوری حق ہے مگر کسی پاکستانی شہری کے حق کو مجروح کیے بغیر اپنا حق استعمال کریں ورنہ زندگی اپنی خطاوٴں کی سزا خود بھی دیتی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ عمران خان اپنے ایجنڈے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں ایمپائر انگلی کھڑی کر بھی دیتا ہے کسی نہ کسی طریقے سے آئندہ عمران خان کی حکومت بن بھی جاتی ہے تو وہ وزیر اعظم بن کر ا پنے خوابوں کی تعبیر پا بھی لیتے ہیں تو انہوں نے سوچا ہے کہ پھر کیا ہوگا، پتا ہے کیا ہو گا؟
انہوں نے پاکستان کی سیاست میں تلخی اور نفرت کا جو بیج بویا ہے تشدد کی سیاست اور قانون کو ہاتھ لینے کی سیاست کے جس کلچر کو فروغ دیا ہے و ہ کلچر انہیں بھی بھگتنا پڑے گا۔
وہ ایسی صورت حال میں حکومت کیسے کر پائیں گے اس کا جواب یقینا انہیں پتا ہو گا مگر ابھی ان پر اقتدار حاصل کرنے کی دھن سوار ہے۔ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ضرور جدوجہد کریں مگر خدارا انسانی خون و وطن عزیز کے نقصان پر نہیں۔ وہ احتجاج کریں مگر خدارا دوسروں کے حقوق سلب کرکے نہیں بلکہ ملکی آئین و قانون کے اندر رہتے ہوئے۔ یہی اصول اصل لیڈر کی کامیابی کا ضامن ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان