تازہ ترین : 1
PPP Or Jamat e Islami Ki Ijtehadi Ghalti

پی پی پی اور جماعت اسلامی کی اجتہادی غلطی

پاکستان کے دل لاہور میں دہشت گردی کے المناک سانحہ نے پوری قوم کو سوگ میں مبتلا کردیا ہے ۔ دکھ یہ ہے کہ ہائی الرٹ کے باوجود تیرہ شہری شہید اور 83زخمی ہوگئے۔ مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد اس سانحہ کا تجزیہ کیا جائے گا۔ 1960ء کی دہائی سوشلزم اور انقلاب کی دہائی تھی۔ پاکستان کے طلبہ اور نوجوان ماوٴزے تنگ اور لینن سے بڑے متاثر تھے انکی کتب شوق سے پڑھتے تھے

قیوم نظامی:
پاکستان کے دل لاہور میں دہشت گردی کے المناک سانحہ نے پوری قوم کو سوگ میں مبتلا کردیا ہے ۔ دکھ یہ ہے کہ ہائی الرٹ کے باوجود تیرہ شہری شہید اور 83زخمی ہوگئے۔ مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد اس سانحہ کا تجزیہ کیا جائے گا۔ 1960ء کی دہائی سوشلزم اور انقلاب کی دہائی تھی۔ پاکستان کے طلبہ اور نوجوان ماوٴزے تنگ اور لینن سے بڑے متاثر تھے انکی کتب شوق سے پڑھتے تھے۔
1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد آمر جنرل ایوب خان کا سیاسی زوال شروع ہوچکا تھا۔ محترمہ فاطمہ جناح نے صدارتی انتخاب میں آمر جرنیل کا دلیرانہ مقابلہ کرکے اسے اخلاقی اتھارٹی سے محروم کردیا تھا۔ بائیس خاندان 95فیصد قومی دولت پر قابض ہوچکے تھے۔ عوام احساس محرومی کا شکار تھے جس نے جنرل ایوب کے خلاف پرجوش عوامی اور انقلابی تحریک کو جنم دیا۔
اس انقلابی ماحول میں پی پی پی کا قیام عمل میں آیا جس کا تاسیسی منشور قائداعظم کے سیاسی نظریے اور کیمونسٹ پارٹی کے منشور کی روشنی میں تیار کیا گیا جس کا مرکزی اور محوری نکتہ ”استحصال سے پاک غیر طبقاتی معاشرے کا قیام تھا“ جو بعد میں ”روٹی کپڑا اور مکان“ کے نعرے کی صورت میں سامنے آیا۔ پاکستان کی انقلابی قوتیں مزدور، کسان اور محنت کش عوام جوق در جوق پی پی پی میں شامل ہونے لگے جبکہ عوام دشمن قوتیں جاگیردار اور سرمایہ دار بحیثیت طبقہ پی پی پی کے مخالف تھے۔
ذوالفقار علی بھٹو انقلابی عوامی سیاست اور کر شماتی شخصیت کی بناء پر ”مسیحا اور نجات دہندہ“ بن چکے تھے۔ ان کی محروم طبقوں میں خوشبو کی طرح پذیرائی ہونے لگی تھی۔ راقم چوں کہ پی پی پی کا بانی رکن ہے اس لیے پورے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے 1970ء سے قبل حالات انقلاب کیلئے سازگار تھے۔ پارٹی کا منشور انقلابی تھا جیالے نظریاتی اور انقلابی تھے عوام کو بھٹو صاحب کی قیادت پر مکمل اعتماد تھا۔
سٹیٹس کو کی حامی قوتیں کمزور اور خوف زدہ تھیں۔ یہ مکمل انقلاب برپا کرنے کا سنہری تاریخی موقع تھا۔
جنرل یحییٰ خان نے عام انتخابات 1970ء کا اعلان کیا۔ ہالہ سندھ میں پی پی پی کی کانفرنس ہوئی جس میں ”انتخاب یا انقلاب“ کے بارے میں کھلی بحث ہوئی۔ معراج محمد خان اور انکے رفقاء نے انتخابات میں حصہ لینے کی مخالفت کی جیالے انکے ساتھ تھے مگر بھٹو صاحب نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا جو پاکستان اور پی پی پی کیلئے بڑی اجتہادی سیاسی غلطی ثابت ہوا۔
خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق پی پی پی کو صرف 24نشستیں مل سکتی تھیں۔ بھٹو صاحب کو بھی یہی توقع تھی مگر جب انتخابی نتائج کا اعلان ہوا تو سیاستدان، حکمران اور بھٹو صاحب خود حیران رہ گئے۔ روایتی سیاسی برج الٹ گئے۔ پی پی پی نے مغربی پاکستان میں واضح اکثریت حاصل کرلی یہ دراصل انقلابی جذبہ تھا جسے انقلاب کی بجائے انتخاب کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔
اگر ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن انقلاب کیلئے یونائٹیڈ فرنٹ بناتے تو پاکستان سوشلسٹ انقلاب کے بعد تحریک پاکستان کے جذبے اور قائداعظم کے فلاحی ریاست کے تصور پر گامزن ہوکر ایشیا کا ٹائیگر بن جاتا۔ وزیراعظم بھٹو نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے پاکستان میں سوشلسٹ انقلاب کو روک دیا۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد بھٹو صاحب کو اپنی اجتہادی غلطی کا احساس ہوگیا۔
انہوں نے اپنی نظر بندی کیخلاف لاہور ہائی کورٹ میں تحریری حلفیہ بیان داخل کیا جس میں انقلاب کی زبردست وکالت کی۔ بھٹو صاحب نے موت کی کوٹھڑی میں لکھی گئی اپنی آخری کتاب میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے تحریر کیا کہ انہوں نے تمام طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے آبرومندانہ حل تلاش کرنے کی کوشش کی مگر تاریخ کا سبق یہ ہے کہ پاکستان پر طبقاتی جدوجہد کے ذریعے انقلاب برپا کرکے عوام کی بالادستی قائم کی جائے۔

مولانا مودودی نے 1941ء میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی جس کا نصب العین بڑا واضح تھا کہ افراد کی تعلیم و تربیت کرکے انہیں صالح اور مثالی انسان بنایا جائے جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک صالح معاشرہ تشکیل دیں۔ تشکیل انسانیت کے عظیم مقصد کے حصول کیلئے جماعت اسلامی قدم بہ قدم آگے بڑھتی رہی اور پاکستان کے لاکھوں افراد کو باشعور اور صالح انسان بنانے میں کامیاب ہوئی یہ کامیابی اقتدار اور حکومت کی آلائشوں کے بغیر مشنری جذبے کے تحت ظہور پذیر ہوئی۔
مولانا مودودی کا اپنا فتویٰ ریکارڈ پر موجود ہے کہ سید احمد شہید کی تحریک اس لیے ناکامی سے دوچار ہوئی کیوں کہ سماج اخلاق سے عاری تھا اور تبدیلی اوپر سے نیچے نہیں لائی جاسکتی۔ جماعت اسلامی نے درست فیصلہ کرتے ہوئے ایک تعلیمی نصاب تیار کیا جس کا مقصد افراد کی تعلیم و تربیت کے ذریعے معیاری معاشرہ قائم کرنا تھا۔ جماعت اسلامی اپنی اٹھان کے اعتبار سے ایک انقلابی تحریک تھی جو اصلاحی اور سماجی انقلاب برپا کرنے کیلئے جدوجہد کررہی تھی۔
پر اسرار طور پر مولانا مودودی نے فیصلہ کیا کہ جماعت اسلامی پاکستانی سیاست سے الگ تھلگ رہ کر اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتی۔ 1957ء میں ماچھی گوٹھ میں جماعت اسلامی کا تاریخی اجتماع ہوا جس میں انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا گیا یہ فیصلہ مولانا مودودی کی اجتہادی غلطی ثابت ہوا۔ جماعت اسلامی کے سینکڑوں باشعور افراد جماعت کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے علیحدہ ہوگئے جن میں مولانا امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر اسرار احمد ، جاوید احمد غامدی‘ ارشاد احمد حقانی اور عبدالجبار غازی قابل ذکر ہیں۔
جماعت اسلامی کا تعلیم و تربیت سے فرار خود جماعت اسلامی اور پاکستان کیلئے بڑا مہنگا ثابت ہوا۔ مکروفن، جوڑ توڑ اور سرمایے پر مبنی پاکستانی سیاست نے جماعت اسلامی کے تشخص کو متاثر کیا۔ جماعت اسلامی سیاست کی آلودگی سے بچنے کی کوشش کرتی رہی ہے مگر حالات کے جبر کے تحت اسے کئی سمجھوتے کرنے پڑے جو اسکے اساسی نظریاتی فلسفے کے منافی تھے۔
لہٰذا جماعت اسلامی کا اندرونی نظم و ضبط اور معیار بھی متاثر ہوا۔ جماعت اسلامی اگر اصلاح معاشرے کے مقدس مشن پر قائم رہتی اور سماج مضبوط، باشعور اور مستحکم ہوجاتاتو صالح اور باشعور عوام اخلاق سے عاری کرپٹ سیاست کا حصہ بننے کی بجائے اسکی مزاحمت کرتے۔ دکھ ہوتا ہے کہ اسلام کی جلیل القدر سکالر شخصیت سیاست میں ملوث ہوکر متنازعہ بن گئی۔
دیدہ ور سیاستدان ذوالفقار علی بھٹو اور نامور جید مذہبی سکالر مولانا مودودی دونوں کوہ ہمالیہ جیسی غلطی نہ کرتے تو آج کا پاکستان سیاسی سماجی معاشی اور اخلاقی حوالے سے بہت بہتر حالت میں ہوتا۔ اگر پاکستانی سماج صالح اور بیدارہوتا تو وہ برائی کی مزاحمت کرتا اور کرپٹ مافیا ریاست پر قابض نہ ہوتا۔ جنرل ضیاء الحق کے ساتھ جماعت اسلامی کے ”ہنی مون پیریڈ“ نے جماعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

آج کے سیاستدان اگر تاریخ سے سبق نہیں سیکھیں گے تو تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی اگر ذوالفتار علی بھٹو اور مولانا مودودی انتخابی سیاست سے سٹیٹس کو نہیں توڑ سکے تو بلاول بھٹو، عمران خان اور سراج الحق یہ دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں۔ تاریخ کا فیصلہ یہ ہے کہ موجودہ لیڈر تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے یونائٹیڈ فرنٹ بنائیں جس کا ایجنڈا انقلابی ہو اور ہر شہری کے دل کی آواز ہو۔
پاکستان میں آج ایک بار پھر عوامی انقلاب کیلئے حالات سازگار ہوچکے ہیں۔ عوام کا موجودہ سیاسی اور معاشی نظام پر اعتماد ہی اٹھ چکا ہے جب تک پاکستان کی سیاست اور ریاست پر چند نااہل اور کرپٹ خاندانوں کی بالادستی ختم نہ ہو عوام کا اعتماد بحال نہیں کیا جاسکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی آخری سیاسی وصیت ”عوامی انقلاب“ تھی۔ عمران خان بھی تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہیں۔
قاضی حسین احمد انقلاب کے بڑے داعی تھے۔ موجودہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی انقلاب میں لازوال یقین رکھتے ہیں۔ بلاول بھٹو بھی اپنے نانا کے مشن کو مکمل کرنے کے دعوے کررہے ہیں۔ یہ تینوں لیڈر اگر محدود معاشی انقلابی ایجنڈے پر متفق ہوجائیں تو پاکستان غریب اور محروم افراد متحدہ انقلابی پلیٹ فارم پر جمع ہوسکتے ہیں ۔ پاکستان کو جمود سے باہر نکالنے، آنیوالے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور ترقی کے امکانات سے بھرپور فائدہ اْٹھانے کیلئے انقلاب قومی ضرورت بن چکا ہے۔
تحریک انصاف کے عمران خان اپنی خداداد صلاحیتوں کو درست سمت پر استعمال کریں جس راستے پر وہ چل رہے ہیں وہ بند گلی تک جاتا ہے۔ پاکستان کے نوجوان ان کو اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہیں وہ ایک بار پھر تاریخی سیاسی اجتہادی غلطی کا شکار ہونے کی بجائے تاریخ کے شعور کے ساتھ چلیں اور عوامی انقلاب برپا کریں۔
وقت اشاعت : 2017-02-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں