بند کریں
جمعہ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پی پی پی کو چیلنجز کا سامنا
سندھ میں نئی سیاسی صف بندیاں۔۔۔۔۔ سندھی قوم پرست بھی نئے عزائم کے ساتھ پی ہی اور یم کیو ایم کو چیلنج کرنا چاہ رہے ہیں ۔ خود ان کے صفوں کے اختلافات بھی کم نہیں
الطاف مجاہد :
سندھ میں نئی سیاسی صف بندیاں ہورہی ہیں ۔ برادریوں کی سطح کی بازگشت ہے اور پی پی ومتحدد کیخلاف قوم پرستوں کے محاذ کی سناؤنی بھی ۔ بلدیاتی انتخابات بہرحال ستمبر میں نہیں ہورہے کہ سیلاب وبرسات کی تباہ کاریوں نے وادی مہران کا منظرنامہ تبدیل کر دیا ہے ۔ سندھی قوم پرست بھی نئے عزائم کے ساتھ پی ہی اور یم کیو ایم کو چیلنج کرنا چاہ رہے ہیں ۔
خود ان کے صفوں کے اختلافات بھی کم نہیں ۔ قومی عوام تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلسیجو نے عندیہ دیا ہے کہ ان کی جماعت کسی سے اتحاد کئے بغیر انتخاب لڑے گی ۔ 2013ء میں وہ اور سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ قادرمگسی دونوں قاسم آباد حیدر آباد سے سندھ اسمبلی کے حلقے پر مدمقابل آگئے تھے ۔ گوکہ بعد میں ایاز لطیف پلسیجو نے الیکشن لڑ ااور قادرمگسی کے دستبر دار ہوجانے کے باوجود اس حلقے سے پی پی کے جام خان شورو کامیاب ہوئے تھے ۔
اب سندھی قوم پرستوں کے ایک حلقے کی کوشش ہے کہ وقارمگسی ، جلال محمود شاہ ، ایاز لطیف پلسیجو اور بعض مقبول ، مشہورومعرف نام ایک اتحادتشکیل دیں جو آگے چل کر صوبے میں پی پی کو چیلنج کر سکے ۔ المیہ یہ ہے کہ اس کوشش کو پذیرائی نہیں مل رہی ورنہ تو گزشتہ ہفتے قبل سندھ نیشنل پارٹی کے رہنما اشرف نوناری قادرمگسی ، ایاز لطیف پلسیجو اور جلال محمود شاہ سے اپیل کر چکے ہیں کہ وہ قوم پرستوں کا وسیع تراتحاد تشکیل دیں کہ یہ وقت سندھیوں کو مُتبادل قیادت دے سکتے ہیں ؟ یہ مکالمہ طویل وقت چاہتا ہے ۔
جب سائیں جی ایم سید 1970ء میں سندھ متحدہ محاذ کے انتخابی نشان چھڑی پر کامیاب نہ ہوسکے اور سندھ نیشنل الائنس ، یونائیٹڈ نیشنل الائنس اور الیکشن 2013ء کا 22جماعتی اتحاد بھی کوئی مثبت نتائج نہ دے سکا تو اب بلدیاتی الیکشن سے قبل کا انتخابی الائنس کیا پی پی کو شکست دے پائے گا ؟ اس لئے کہ پی پی کا مُتبادل فنکشنل لیگ یا (ن) لیگ نظر آتیں ۔ تحریک انصاف سے بھی سندھ میں کسی چونکا دینے والی کامیابی کی توقع نہیں ۔
پرویز مشروف نے متحدہ مسلم لیگ کا جوڈول ڈالا تھا وہ بھی کارگرنہیں رہانہ ہی غوث علی شاہ اپنے گردکوئی مجمع اکٹھا کر پائے ۔ اب مرحوم محدوم شاہ نواز کے بھائی مخدوم عطا ناراض کارکنوں کو جمع کررہے ہیں لیکن مرکزی اور صوبائی قیادت انہیں نظرا نداز کر رہی ہے۔ سندھ میں تبدیلی کے بعض خواہش مند چوہدری افتخار محمد کی سمت دیکھ رہے ہیں لیکن خود وکلاء کی اکثریت مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہے ۔
عدیلہ بحالی کی تحریک ایک اور معاملہ تھا ۔ سیاسی جماعت کی رُکنیت دوسری بات ہے ۔ لگتا ہے سندھ سے افتخار چوہدری کو بھی مایوسی ہی ہوگی پھر سندھ میں تبدیلی کا سورج کب اور کیسے طلوع ہوگا ؟ یہ سوال بہرحال جواب ضرور چاہتا ہے ۔
ماضی میں کراچی حیدآباد اور جیکب آباد کامیاب مجلس عمل بھی اب فعال نہیں رہی ہے ۔ جماعت اسلامی خیبرپی کے میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے لیکن سندھ کے ضمنی الیکشن 246 NA میں دونوں نے متحدہ کامقابلہ کرکے شکست کھائی تھی ۔
مارچ کے اوائل میں اسے غیر رسمی طور پر فعال کرنے کی ایک کوشش ہوئی تھی لیکن جے یو آئی ، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان کے اتحاد کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی ۔ قیاس آرائی یہ ہے کہ بلدیاتی الیکشن سے قبل دینی سیاسی وقوم پرست جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آئیں گی ۔ سیاسی تجزیہ نگارمدعی ہیں کہ شہری سیاست میں متحدہ اور دیہی علاقوں میں پیپلز پارٹی کا کردار محدود کرنا بظاہر ممکن نہیں اس لئے کہ وہ پرائمری سطح پر عوام سے رابطے میں ہیں جبکہ ان کے مخالف ایسا نہیں کرپارہے ۔
سیلاب وبرسات میں پی پی کے وزرا ء وزیرعلیٰ ، وزیراعظم سب کہیں نہ کہیں نظر آئے لیکن اپوزیشن اخبارات کے صفحات پر حکومت کوکوستی رہی حالانکہ اس کے پاس سنہری موقع تھا کہ وہ بارش زدگان اور سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے لگا کر ، امداد تقسیم کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی لیکن حزب مخالف کی جماعتوں نے یہ میدان بھی فلاحی اور فاعی تنظیموں کیلئے کُھلا چھوڑ دیا اور خود غائب رہیں ۔

حیدرآباد کے سینئر صحافی اسلم چنا کہتے ہیں کہ پی پی کے مخالفین کا مئوقف ہے کہ حکمران جماعت نے اپنے رائے دہند گان اور عوام کو کچھ ڈلیور نہیں کیا لیکن شاہ پور چاکر کے صحافی الیاس انجم کا کہنا ہے کہ صرف پی پی ہی نہیں ، اپوزیشن بھی صرف تنقید کرنے کے سوا کچھ نہیں دے سکی ہے اس لئے عوام کے سامنے پیش ہوتے وقت کسی کے پاس کوئی کارکردگی شیٹ نہیں ہوگی ۔
ایاز لطیف پلسیجو نے حیدرآباد میں دس روز تک کرپشن اور دہشت گردی کے خلاف دھرنا دیا ۔ اس احتجاج میں پی پی کے باغی ذوالفقار مرزا اور (ن ) لیگ سے نالوں ممتاز بھٹوبھی شریک ہوئے اس لئے ایک سازشی تھیوری یہ بھی ہے کہ پی پی کے مدمقابل اتحاد میں مختلف سیاسی ، سماجی اور دینی جماعتوں کے لوگ شامل ہوں گے تاکہ بلدیاتی انتخابات میں کامیاب چہروں کی تبدیلی لائی جاسکے ۔
گوکہ ماضی میں ارباب رحیم اور امتیاز شیخ کا سندھ ڈیموکریٹک الائنس سندھی قوم پرستوں کا یواین اے الیکشن 2013ء کا پیرپگارو کی زیر قیادت 22جماعتی اتحاد اور علی قاضی کا تبدیلی پسندوں کا اجتماع سب ایسی ہی کوشش تھیں جو توقع کے مطابق رزلٹ نہ دے سکیں ۔ نیا اتحاد کیا کچھ کر دکھائے گا ؟ یہ اس کی قیادت پر مُخصر ہے جو سامنے آئے تو پتہ چل سکے ۔ متحدہ مسلم لیگ کیلئے پرویزمشرف کی تگ دود اور مسلم لیگیوں کی مفاہمت کیلئے غوث علی شاہ کے رابطے بھی دم توڑنے دکھائی دیتے ہیں اس لئے نئی سیاسی صف بندیاں کیا واقعی مثبت نتائج دئے پائیں گی ؟ یہ دلچسپ موضوع ہے جو علاقائی اخبارات کے ادارتی صفحات اور مراسلاتی کالموں کے ساتھ ساتھ ریجنل الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز میں بھی زیر بحث ہے ۔
اگست کو اہم قرار دیا جارہا ہے ۔ دیکھتے ہیں کیا ظہور پذیر ہوتا ہے یا پھر توقعات ستمبر سے وابستہ کی جائیں جسے تبدیلیوں کا مہینہ بھی تصور کیا جاتا ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-17

(0) ووٹ وصول ہوئے