تازہ ترین : 1
PPP K Liay 4 Saal Baad Faislay Ka Waqt Aan Para

پیپلزپارٹی کیلئے 4 سال بعد فیصلے کا وقت آن پڑا

آئی جی سندھ کی تبدیلی پر ملک کی دو پاپولر سیاسی جماعتوں کے درمیان افہام و تفہیم کے چند دن کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان ایک بار پھر شدید اختلافات پیدا ہو گئے

شہزاد چغتائی:
آئی جی سندھ کی تبدیلی پر ملک کی دو پاپولر سیاسی جماعتوں کے درمیان افہام و تفہیم کے چند دن کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان ایک بار پھر شدید اختلافات پیدا ہو گئے۔ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی پر سازش اور توڑ پھوڑ کا الزام لگا رہی ہے۔ درحقیقت اپنے طے شدہ ایجنڈے کے مطابق پیپلز پارٹی 4 سال تک فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی اور مسلم لیگ کی بی ٹیم بنی رہی ہے چند روز قبل تک اس کا یہی کردار رہا ہے لیکن شاید اب فیصلے کا وقت آگیا ہے۔
مسلم لیگ کی جارحانہ سیاست نے آصف علی زداری کیلئے راستے کھول دئیے ہیں۔بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں پیپلز پارٹی نے سندھ کے ساتھ آئندہ بلوچستان میں حکومت بنانے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے صاف صاف کہاکہ 2018ء میں بلوچستان میں ان کی حکومت ہو گی۔ نئے پلان کے تحت پیپلز پارٹی نے بلوچستان سے سینیٹ کا الیکشن لڑنے اور سینیٹرز منتخب کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
منصوبے کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کا ایک بھی رکن اسمبلی نہیں ہے۔ بلوچستان میں ثناء اللہ زہری کے دھڑن تختہ کے بعد پیپلز پارٹی کو نئی راہیں دکھائی دے رہی ہیں اور وہ بلوچستان سے سینیٹ کی تمام نشستیں حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پیر مار رہی ہے اس مقصد کیلئے یہ حکمت عملی بنائی گئی ہے کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے۔
سیاسی حلقوں میں یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی اکثریت کس نے اقلیت میں تبدیل کی۔ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ کیا یہ سازش ہے یا چمک کام دکھا رہی ہے۔ مسلم لیگ کے حلقے پیپلز پارٹی پر دوہرے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ سازش کے تانے بانے بلاول ہاؤس سے جا ملتے ہیں۔ نوٹوں کی بوریاں کھولی جا رہی ہیں۔ بعض حلقے الزام لگاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی دولت کے بل بوتے پر اقتدار میں آنا چاہتی ہے۔
پیپلز پارٹی کی آئندہ حکومت میں سرمایہ کاری کیلئے فنانسرز کی کمی نہیں ایسے فنانسر بھی موجود ہیں جو کہ پورا پاکستان خرید سکتے ہیں۔ ان کی دولت کا کوئی حساب نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق صدر ہوں یا دوسری سیاسی جماعتوں کے دولت مند سربراہ‘ یہ لوگ اپنی جیب سے ایک پائی خرچ نہیں کرتے بلکہ غیر ملکی گارنٹر ممالک الیکشن میں خرچ کرنے کیلئے جو اربوں ڈالر دیتے ہیں وہ جیب میں ڈال لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکہ اور دوسرے ممالک پاکستان کے انتخابات پر اثرانداز ہونے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں اور الیکشن مانیٹرنگ کی بنیاد پر مداخلت کرتے ہیں۔جبکہ ہمارا الیکشن کمیشن بھی ان کو فخر سے مانیٹرنگ کی اجازت دیتا ہے۔الیکشن میں کامیابیوں کی کئی کنجیاں ہیں لیکن سب سے اہم چابی نگراں حکومت، پولیس، خفیہ اداروں اور عدلیہ کو ساتھ ملانا ہے۔
جب نگراں حکومت ساتھ ہوتی ہے تو الیکشن کمیشن ساتھ دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کا کریڈٹ پیپلز پارٹی حاصل کر رہی ہے کیونکہ آخری بینیفشری پیپلز پارٹی ہے جو کہ ثناء اللہ زہری کی حکومت کے خاتمے کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھائے گی۔ بلوچستان کے سیاسی ڈرامے میں پیپلز پارٹی کے پس پردہ کرداروں کو شناخت کر لیا گیا۔ یہ پس پردہ کردار کئی روز تک کوئٹہ میں مقیم رہے اور جب وزیراعلیٰ بلوچستان حلف اٹھا کر جانے لگے تو گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر موجود تھے۔
بلوچستان میں مفاہمت کی سیاست عروج پر پہنچنے کے بعد سابق صدر آصف زرداری کے کوئٹہ جانے کے امکانات پیدا ہو گئے۔ بعض حلقے تو کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی باغی ارکان کی وفاداریاں تبدیل کرانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اب دوسرے مرحلے میں ان کو پیپلز پارٹی میں شامل کرانے کیلئے قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
آصف علی زرداری نے فوری طور پر قانونی ٹیم کو لاہور روانہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسی لئے پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو کے جلسہ عام کی تاریخ بھی آگے کر دی ہے۔ عبدالقدوس بزنجو کے حلف اْٹھانے کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنماء ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے رہے ہیں۔ یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ عبدالقدوس بزنجو کی نامزدگی میں آصف علی زرداری نے کردار ادا کیا ہے‘ وہ اس دوران بیک ڈور رابطے کرتے رہے۔
پہلے یہ خبر آئی کہ وفاق نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ وہ وقت تھا جب سندھ کے محکمہ سروسز نے مجید دستی کے استقبال کی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں لیکن انتظار طویل ہو گیا اور وفاق سے کوئی پیام نہیں آیا۔ سابق صدر بہت بے چین تھے کیونکہ سندھ میں آئندہ الیکشن میں کامیابی کا انحصار آئی جی کی تبدیل پر ہے۔ ادھر بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرنے کے بعد نئی صورتحال پیدا ہو گئی۔
مسلم لیگ کی قیادت سے سوال کیا جا رہا ہے کہ وہ سندھ کے آئی جی کو کیوں تبدیل کر رہی ہے؟ بلوچستان میں مسلم لیگ جب لہولہان ہے۔ پیپلز پارٹی نے حکمراں جماعت کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا سندھ میں پیپلز پارٹی کو الیکشن جتوانے کیلئے راہ ہموار کرنا سمجھ سے بالا قرار دیا جا رہا ہے۔دریں اثناء تحریک لبیک یارسول اللہ نے سیاسی طاقت کا مظاہرہ کر کے کراچی کی سیاست میں ہلچل مچا دی جس کے بعد کئی دوسری دکانیں بند ہونے کا امکان پیدا ہو گیا۔
تحریک لبیک یارسول اللہ کا جلسہ کراچی کی تاریخ کا بہت بڑا جلسہ تھا اس کو باغ جناح میں ہونے والا سب سے بڑا جلسہ عام کہا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے یہ کریڈٹ جمعیت علماء اسلام کے پاس تھا۔ یہ شاید پاکستان کی تاریخ کا پہلا جلسہ تھا جس میں پنڈال بھرنے کے بعد منتظمین کو گیٹ بند کرنے کا اعلان کرنا پڑا اور اس کے ساتھ مزار قائد کے اطراف کی سڑکیں بھی بھر گئیں۔
سیاسی حلقے تحریک لبیک یارسول اللہ کے جلسے کی کامیابی پر حیران ہیں۔ باغ جناح میں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، ایم کیو ایم ،پاک سرزمین پارٹی، تحریک ہزارہ اور آل پاکستان مسلم لیگ کے جلسے ہو چکے ہیں لیکن یہ جماعتیں پنڈال بھرنے میں ناکام رہی اور گیٹ کھلے رہے جبکہ تحریک لبیک یارسول اللہ کا جلسہ علامہ خادم حسین رضوی کے خطاب سے قبل ہی بھر گیا۔
یہ کراچی کا پہلا جلسہ تھا جس کے شرکاء نے 4 نمازیں باجماعت ادا کیں۔ علامہ خادم حسین رضوی نے اپنے خطاب میں کہاکہ دینی اور سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کرتیں تو ہم میدان میں نہ آتے۔ ملک میں تحریک لبیک یارسول اللہ کا یہ پہلا سیاسی جلسہ تھا جس میں علامہ خادم حسین رضوی نے سیاسی کردار ادا کرنے اور سیاسی دفاتر کھولنے کا اعلان کر دیا۔ اس دوران سابق صدر کی صاحبزادی آصفہ بھٹو سیاسی میدان میں اتر رہی ہیں۔
آصفہ بھٹو کا ووٹ ٹنڈوالہ یار میں درج ہے تاہم آصفہ کی دلچسپی لیاری میں ہے۔ مریم نواز کے بعد آصفہ سیاسی میدان میں اتر رہی ہیں۔ الیکشن لنے کیلئے ان کے پاس کئی ایک آپشن موجودہیں جن میں لیاری اور ٹنڈوالہ یار کا حلقہ شامل ہے۔ وہ 2018ء کے عام انتخابات میں عملی سیاست کا آغاز کریں گی،کیونکہ 3 فروری کو وہ 25 سال کی عمر کو پہنچ جائیں گی۔
وقت اشاعت : 2018-01-22

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں